تازہ ترینصدف گیلانیکالم

اتحادبین المسلمین

یہ نہایت اہم موضوع ہے اوراس پہ بہت لکھاجاچکاہے اس کالم میں میرامقصدکچھ تجاویزکوزیربحث لاناہے مسلمانوں کی متفقہ اوراللہ تبارک وتعالیٰ کی لاریب کتاب میں فرمایاگیا
؛یہودونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے ؛آج کادورفتنہ گری کادورہے۔ قرآن کریم میں ارشادہے کہ اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقے میں نہ پڑو۔ فقہاء کے مطابق ان آیات کے نہ ترجمے میں اختلاف ہے نہ تفسیر میں مختلف آراہیں مگرہم ان آیات پرعمل کرنے کیلئے تیارنہیں۔ادھراتحادبین المسلمین کانعرہ لگایاادھرایک دوسرے خلاف نفرت۔کیاہم منافقت چھوڑدیں گے؟؟کیاکبھی اسلام کے جھنڈے کے تلے متفق ہوں گے؟آج ہم ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکارہیں مسلمانوں پہ پوری دنیامیں ظلم ڈھایاجارہاہے۔کسی نہ کسی خطے میں،کسی نہ کسی علاقے میں ظلم وستم کابازارآج ایک دوسرے کی مددکرنے کی بجائے ہم ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑرہے ہیں۔مسلمان ہی مسلمان کے خلاف تلوارلیے کھڑاہے ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں جبکہ ہم پرجوش انتقام سوارہے عدم برداشت ہمارے رگوں میں شامل ہوگئی ہے ۔کوئی شخص اپنی مرضی کے خلاف بات نہیں سنناچاہتا۔مرضی کااسلام،مرضی کادین چاہیے پاکستان کے امن وامان کامسئلہ غیرملکی ایجنٹوں کیوجہ سے نہیں ہے۔بلکہ کچھ ہمارے لوگ بھی ملک میں امن نہیں چاہتے۔بقول پرویز ساحر صاحب
صرف باہر ہی تو موجود نہیں ہے ساحر
میرا دشمن میرے اندر بھی ؂ہے موجودکہیں
تاریخ میں پڑھیں کہ راجہ زنجیت سنگھ جس نے20سال سے کم عمرمیں لاہورفتح کیاپچاس سال کی عمرمیں فوت ہوا۔30سال کے عرصے میں اس نے امرتسرسے لیکرکشمیرتک یوں کہوں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب مکمل اورصوبہ خیبرپختونواکے بعض علاقوں پرحکمرانی کی۔اسکی ترقی وکامیابی کاراز یہ تھاکہ وہ بہادر،دلیرتھامکمل ان پڑھ تھاجس کیوجہ سے اس نے خزانے پہ کوئی توجہ نہ دی تھی۔اس کے خزانے کوسنبھالنے کیلئے دوردرازسے لوگ منگوائے گئے تھے۔اس کی کامیابی اس لیے بھی تھی کہ اس کے خلاف اس کے ساتھیوں میں کسی نے سازش نہیں کی اس کاکوئی سپاہی بکنے والانہ تھااس کیا مشیرمخلص تھے اگرہم پاکستان سے مخلص ہوجائیں تودہشت گردی تاریخ کاحصہ بن جائیگی۔امن وآشنی ہمارامستقبل ہوگا۔پاکستان کی بربادی کااصل ناسورفرقہ پرستی ہے جس سے مسلح گروہ پیداہوئے۔ایک دوسرے کی جان لینے کی قیمت میں چور،لٹیروں،داکوؤں کوپناہ ملی۔فرقہ پرستی کی اصل وجہ جہالت ہے۔اگرہم ایک دوسرے کیساتھ مثبت تعلقات رکھیں تومسئلہ حل ہوسکتاہے۔
اگرمدارس اورامام بارہ گاہوں کاحکومت پاکستان کے پاس ریکارڈہو۔مسجداورمام بارگاہ بنانے کیلئے حکومتی اجازت نامہ ہو۔توکئی مسائل حل ہوسکتے ہیں باقاعدہ ٹمیں بنائیں جائیں جوتمام مدارس کاوقتاً فوقتاً دورہ کریں۔وہاں کے بچوں کے ذہنی امتحانات لیں۔تاکہ ان میں موجودعلمی سطح کوپرکھاجاسکے ۔اگرمدارس میں شدت پسندنظریات ہیں تو مدرسے کوبندکردیاجائے ۔ مدارس اور امام بارہ گاہوں کے لیے اصول وضع کیے جائیں مدارس کواس بات کاپابندکیاجائے کہ وہ اپنے مدارس میں مختلف مسالک کے علماکوبلائیں اوران کولیکچردینے کیلئے ہیں۔امام بارہ گاہوں میں مختلف مسالک کے علما کو شریک کیا جائے۔میل جھول سے نفرت کا مادہ کم ہوگا۔اسلام محبت والا دین ہے۔
جب مدینہ میں بحران کاوفدآیاتوانہں نے پوچھاہم نے عبادت کرنی ہے تونبی مکرم(ص)نے ان کومسجدنبوی میں عبادت کرنی کی اجازت دی۔آج امریکہ میں جمعہ اورعیدین کی نمازیں بعض علاقوں میں جہاں مسجدیں کم یاچھوٹی ہیں وہاں گرجاگھروں میں اداہوتی ہیں۔امریکہ کے یہودی مسلمان کو ا پنی عبادت گاہوں میں آنے دیتے ہیں مگر ہماری مساجد کی دیوار نفرت آمیز کلمات سے روشن ہوگی۔ ہمارے ہاں مانتے توسب ہیں کہ مسجدخداکاگھرہے مگرخداکانام نہیں لکھنے دیتے۔مسجدشافعی،مسجدحق چاریار،مسجداہل تشیع،مسجدامام ابوحنیفہ،یہ کیاہے کیوں ہے ؟کیاہم ایک خدااوررسولؐ کے ماننے والے نہیں ہیں۔
جب شیعہ اپنی فقہ کے مطابق نمازاداکرے تودیوبندی کوغصہ آجاتاہے دیوبندی نمازاداکرے توبریلوی کاچہرہ سرخ ہوجاتاہے۔ چہرہ توشیطان کاسرخ ہوناچاہیے یہ اللہ کوکیوں سجدہ کررہاہے۔ہم مسجدوں میں ایک دوسرے کوخداکاسجدہ ادانہیں کرنے دیتے۔کیایہ شیطانیت نہیں ہے کیاہم یہ چاہتے ہیں ؂۔مذہب اسلام کوختم کرنے کیلئے آگے بڑھیں تمام مذاہب اکٹھے ہوچکے ہیں۔مگرہم اسلام کوبچانے کی بجائے ختم کرنے کیلئے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔شعیہ جمع ہوجاتے ہیں کہ بریلوی کی مسجدکوبندکرواناہے۔بریلوی اکٹھے ہوجاتے ہیں کہ دیوبندی کی مسجدکوبندکرواناہے دیوبندی اکٹھے ہوجاتے ہیں۔کہ شیعہ کے جلوس کوروکناہے۔ارے بھائی ہم مسلمان ہیں۔ہم نے سجدہ خداکرے والوں کوملاناہے نہ کہ سجدہ کرنے والوں کوروکناہے کیاہم خداکی اطاعت کرتے ہیں جب شیعہ کی مسجدمیں دیوبندی کوروکاجاتاہے کہ آپ نمازنہیں پڑھ سکتے۔کیاہم اسلام کاپرچارکریں گے؟جب ہم شیعہ کوروکیں گے کہ تم نمازنہ پڑھو،دل پہ ہاتھ رکھ کے بتاؤ،ہم کس کی خوشنودی حاصل کررہے ہیں۔شیطان کی خداکی۔اس صدی کی بہترین مثال نیلسن مینڈلا ہین۔جب علماکرام ایک دوسرے کے مدارس میں جائیں گے تو مختلف موضو عات زیر بحث ا ئیں گے تو اس عمل سے شدت کی بجائے دلیل کار آمد ہو گی۔علم کے حصول کیلئے شوق بڑھے گا۔ہمیں اپنے رویہ میں برداشت اور حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ احترام اور ادب کا رشتہ قائم ہو۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button