تازہ ترینصابرمغلکالم

عزت نفس، بااختیار اور مقصد حیات

sabir mughalپبلک سیکرٹریٹ اسلام آباد کے باہر روڈ پر سائن بورڈز عام نظر آتے ہیں ان سائن بورڈز پر اوپر وزیر اعظم میاں نواز شریف اورنیچے محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویریں لگی ہیں یہ سائن بورڈ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام BISPسے متعلقہ ہیں،اس پروگرام کی افادیت اور عوام دوست پالیسی کو ظاہر کرنے کے لئے ساتھ ہی لکھا گیا ہے۔عزت نفس ،با اختیار اور مقصد حیات۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں غریب عوام کی بہبود کے لئے ۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام۔کا آغاز کیا گیا تھا ،غریب خاندانوں کی کفالت کے نام سے اس پروگرام کے لئے ابتدائی طور پر 40ارب مختص کئے گئے،فرزانہ راجہ کو اس پروگرام کی چیر پرسن بنایا گیا جن کی بے ضابطگیوں کی داستانیں آج بھی گونج رہی ہیں،پی پی پی کے اس دور میں غریب خاندانوں کی رجسٹریشن کا آغاز بھی انتہائی بھونڈے انداز میں کیا گیا،حقداروں کی بجائے صرف انہی کا نام فہرستوں میں شامل کیا گیا جو کسی اور طرح سے اس کے اہل تھے،غربت کے حوالے سے جاری اس پروگرام میں بھی ایم این ایز و ایم پی ایز کوٹہ سسٹم کی لعنت شامل کی گئی ،موجودہ حکومت نے اس پروگرام کے بجٹ کو بڑھا کر115ارب تک کر دیا،مگر عوامی رسوائی کو عزت میں بدلنے کا کچھ خیال نہ رکھا گیا،ایک طرف تو قوم کو اجتماعی طور پر پسماندگی سے بچانے کی بجائے بھیک منگ بنایا گیا وہیں کرپشن ،لوٹ مار کا ایک نیا بازار کھل گیا،پہلے ڈاک خانوں میں یہ رقم آتی تھی جہاں پی پی پی کارندوں نے محکمہ ڈاک کے ملازمین کے ساتھ مل کر اندھیر نگری مچا دی، بعد میں ان غریبوں کو کارڈز جاری کئے گئے آج بھی ہر ماہ مختلف بینکوں یا کسی اور سروس کے باہر غریب اور بوڑھی عورتوں کی لائنیں لگی نظر آتی ہیں،کئی غریب لوگ بھی ہیں جو گذشتہ کئی سال سے رجسٹرڈ تو ہیں مگر ان کی رقم کہیں اوپر ہی غائب ہو جاتی ہے مستحقین عورتوں کو اس رقم کا علم ہی نہیں،ایک رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کے آغاز پر چند ماہ تک رجسٹرڈ خواتین میں سے 70فیصدکو رقم ادا کی جاتی رہی بعد میں شرح کم ہو کر 50فیصد تک پہنچ گئی،کرپشن کی اس گنگا کا آغاز دیہی علاقوں میں کیا گیا ،پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر تمام موبائل سموں کو بائیو میٹرک کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اس کے باوجود آج بھی سموں سے غریبوں کا لوٹنے کا عمل جاری ہے اور ان میں زیادہ تر نمبر ٹیلی نار کمپنی کے ہیں ،جن نمبرز سے بی آئی ایس پی کی قرعہ اندازی میں انعام نکلنے کے Messageبھیجے جاتے ہیں ان کے خلاف حکومت نے کیا کاروائی کی ہے؟ کوئی ایک ایسی مثال بتا دی جائے الٹا عوام سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسے پیغامات پر توجہ نہ دیں مطلب لوٹنے والوں کو کھلی چھٹی اور عوام کو تلقین،حکومت واضح کرے کہ ایسے پیغامات بھیجنے والوں کی شکایت کہاں کی جائے اور پھر سرکار ان کے خلاف کاروائی کر تے ہوئے انہیں سزا دے گی ، اس محکمہ میں وفاقی ،صوبائی،ڈویژنل،ضلعی اور مقامی سطع پرجہاں دیکھو کرپشن ہی کرپشن ہے،اب غریبوں کی اس سکیم پر حکومتی سائن بورڈ کی بات کی جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے،وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے نزدیک ۔عزت نفس اسے کہتے ہیں کہ لوگ بھیک منگ بن جائیں؟سڑکوں پر رلتے پھریں؟ دھکے کھاتے پھریں؟با اختیاری یہ ہے کہ ان سے ہر اختیار چھین لیا جائے،وہ با اختیاروں کے آگے جھکنے پر مجبور ہوں اور مقصد حیات یہ کہ وہ روٹی کے ٹکڑوں کی خاطر اپنے بچوں تک کو بیچ ڈالیں یا انہیں ساتھ لے کر کسی دریا یا نہر میں کود جائیں،ان کے معصوم بچے گندگی کے ڈھیروں سے روزی تلاش کرتے نظر آئیں،پاکستان میں عزت نفس صرف طبقہ اشرافیہ کی ہے ،اختیار بھی انہی کے پاس اور مقصد حیات سے بھی وہی لطف اندوز ہوتے ہیں، یہاں کے پالیسی ساز عوام کے لئے وہ سوچتے ہیں جہاں سے ذلت کا آغاز ہوتا ہے؟اگر یہی عزت نفس ،بااختیاری اور مقصد حیات ہے تو اس طبقہ اشرافیہ کی سوچ پر قربان جائیں جو انسانی اقدار سے ہی کوسوں دور ہیں،کون سمجھائے ان پالیسی سازوں کوکہ ایسی ذلت جس کے باعث سڑکوں پر رلنا پڑے،مالیاتی اداروں کے سامنے تپتی دھوپ میں دن بھر لائن میں لگنا پڑے ، لٹیروں کے ہاتھوں اپنی رقوم سے ہاتھ دھو نا پڑیں ۔انسانیت کی یوں بدترین تذلیل پر تو انسانیت بھی ماند شرما جاتی ہے ،ساری دنیا سے قرضے لے کر ملک کو چلانے والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ عوام پر کتنا بوجھ لادتے جا رہے ہیں ان کی آنے والی نسلوں کو گروی رکھتے جا رہے ہیں مگر انہیں کیا غرض یہ کیا جانیں کسی غریب کی ،کسی مستحق کی ،کسی بے بس کی بنیادی ضروریات اور عزت نفس کیا ہوتی ہے،انہیں اپنے شاہی کاموں سے فرصت ملے تو یہ لوگ زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی طرف کچھ دھیان دیں،یہ تو غریبوں کے نام پر کام بھی وہی شروع کرتے ہیں جس میں اعلیٰ عہدوں پر ان کے بھانجے بھتیجے ،سالے اور بہنوئی براجمان ہو سکیں،وہ جس طرح چاہیں عوام کا خون چوسیں انہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی ، غریبوں کے نام پر قائم اس ادارے سے کرپشن کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے جو اب بھی جاری و ساری ہے،ریاست عوام کے حالات بہتر بنانے کے لئے انہیں تعلیم ،صحت ،صاف پانی وخوراک جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے تا کہ یہ فخر سے کہا جا سکے کہ ہماری قوم کی عزت نفس قائم ہے،وہ با اختیار ہیں اور یہیں سے یہ بے بس قوم مقصد حیات کی معراج کو بھی چھو لے گی پھر کسی کو شہر اقتدار میں کیا ملک کے کسی کونے میں بھی ایسی نوعیت کے سائن بورڈز لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں  کوہاٹ:محکمہ انٹی کرپشن نےجرمالینڈ سکینڈل میں محکمہ مال کے 2 اہلکاروں کو گرفتارکر لیا،پٹواری روپوش

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker