پاکستان

اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدیوں کو 13 فروری کو پیش کیا جائے: سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو 13 فروری کو ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے, ڈی جی آئی ایس آئی اور ایم آئی پر عدالت عالیہ کے احکامات پر عمل درآمد کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے. اڈیالہ جیل سے لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ لاپتہ قیدیوں کو 13 فروری کو سپریم کورٹ میں ہر صورت پیش کیا جائے.حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ صرف جواب جمع کرایا گیا, ہمارے حکم پر عمل نہیں کیا گیا. سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی اور گورنر خیبر پختونخوا کو بھی آئندہ سماعت کے دوران عدالت طلب ہونے کے احکامات دیئے ہیں. عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ گورنر خیبر پختونخوا سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو قیدیوں کی حالت ذار بارے آگاہ کریں. اس سے قبل اڈیالہ جیل سے لاپتہ قیدیوں کے کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم بنچ نے کی ۔ خفیہ اداروں کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ ان قیدیوں کو آج عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان میں کچھ سخت بیمار جبکہ تین پارا چنار میں ہیں۔ جس پر سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ان افراد کو آج ہی ہر صورت پیش کیا جائے , چاہے ان کو لانے کیلئے ہیلی کاپٹر ہی کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔ چیف جسٹس نے خفیہ ایجنسیوں کے وکیل ارشاد راجہ سے استفسار کیا کہ "بتایا جائے کہ کون سی اتھارٹی ہے جو ہمارے احکامات نہیں مان رہی”۔ دوسری طرف خفیہ ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد نے پاک نیوز لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کے قیدیوں‌ کو آج سپریم کورٹ میں پیش کرنا ممکن نہیں .انہوں نے کہا کہ 4 قیدی پشاور کے ہسپتال اور 3 پارا چنار میں ہیں. ان کا کہنا تھا کہ موسم خراب ہے,ان کا آج سپریم کورٹ پہنچنا ممکن نہیں ہے.

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker