انور عباس انورتازہ ترینکالم

صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری کے انکشافات

anwar abasگذشتہ دنوں سابق رکن قومی اسمبلی اور ناظم ضلع کونسل شیخوپورہ میاں جلیل احمد شرقپوری نے دربار اعلی حضرت میاں شیر محمد رحمۃ اللہ علیہ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک مشاورتی نشست کا اہتمام کیا اور اس میں شہر کے تمام چوٹی کے صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا… مںھے بھی دعوت دی گئی ادھر ادھر سے نشست کا انیجنڈا معلوم کرنے کی کوشش کی تو بس اتنا معلوم ہو سکا کہ ’’حضرت صاحب کا پیغام ہے کہ سوالات لکھ کر لائے جائیں… چاہئے جس قسم کے بھی ہوں…میں نے پوچھا.کیا میاں جلیل صاحب کے پاس میرا نمبر نہیں ہے…اس نے بتایامیاں صاحب نے آپ کا نمبر ملانے کی کوشش کی تھی لیکن جواب نہیں آ رہا تھا نشست کا وقت پہلے چھ بںے مقرر کیا گیاتھا..میں نے وہاں جانے کی بھرپور تیار کر لی تو دوبارہ پیغام ملا کہ وقت چھ بجے کی بجائے آٹھ بجے ہوگیا ہے اب آٹھ بجے پہنچنا ہے.. لہذا جب ہم میاں جلیل احمد صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچے تو حضرت ہمارے منتظر تھے اور ہمارے آنے کی اطلاع پا کر خود لینے دروازے پر پہنچ گے.آج کی یادآوری کا مقصد دریافت کیا تو میاں صاحب نے فرمایا کہ کوئی خا ص مقصد نہیں ہے بس آپ دوستوں سے گپ شپ اور آپ جیسے دانشوروں اور اہل قلم سے اپنے سیاسی مستقبل کے متعلق مشاورت کا پروگرام ہے….میرے بندہ ناچیز سمیت کوئی تیرا چودہ لوگ تھے جنہیں حضرت صاحب نے مشاورتی اجلاس میں بدعو کیا گیا تھا….. حضرت صاحبزادہمیا ں جلیل احمد شرقپوری مجھے اپنی بائیں طرف نشست عنایت فرمائی اور حکم صادر کیا کہ ’’ انور عباس انور صاحب ! آج کی مجلس کے اسپیکر کے فرائض سرانجام دیں گے اور جس دوست کو یہ چاہیں گے بات کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں گے اور ان کی اجازت کے بغیر کوئی دوست نہیں بولے گا….. اللہ کا نام لیکر میں نے سب سے پہلے ملک ایم جمشید رفیق ملک کو دعوت اظہار خیال دی تو انہوں نے میاں صاحب کے ماضی کے حوالے سے سوالات کیے اور انکی ماضی کی کار کردگی کی بے حد تعریف کی تو میاں صاحب نے انکے سوالات کے جوابات دینے کے علاوہ تعریف کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔۔۔اس دوران برادرم خورد سہیل شیخ مجھے انگلی کا اشارہ کر کے کہہ رہے تھے کہ اسے موقعہ فراہم کیا جائے . سوجونہی میاں جلیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی نے اپنی بات ختم کی تو میں نے سہیل شیخ کو دعوت اظہار خیال دیدی.. انہوں نے سوال کیا کہ’’ میاں صاحب آپ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے کیا اور بہت چحوٹی عمر میں سابق گورنر پنجاب میاں محمداظہر جیسے ہیوی ویٹ امیدوار کو شکست د ینے میں کامیاب ہوئے اور پھر سال ڈیڑھ سال بعد پھر آپ مسلم لیگ قائد اعظم میں شامل ہو گے اور انہوں نے آپ کو ضلع کونسل شیخوپورہ کا ناظم بنوا دیا… پھر جب چودہری پرویز الہیی کی وزارت اعلی ختم ہو گئی اور میاں شہباز شریف پنجاب میں برسراقتدار آ گے تو آپ نے اپنی نظامت بچانے کے لیے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی…اب آپ ایک بار پھر عوام کے پاس جا رہے ہیں ایک نئی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے تو لوگ کیونکر آپ پر بھروسہ کریں گے ؟ایک لمبی سانس لینے کے بعد حں رت صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری برادرم سہیل شیخ کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے کیونکہ آپ کے سوال کے جواب کے ذریعہ مجھے بھی حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا موقع ملا ہے.میاں صاحب کہنے لگے کہ ’’ایک بات قبضہ تحریر میں لے لو کہ میں نے مسلم لیگ یا نواز شریف کو نہیں چھوڑا بلکہ میاں نواز شریف نے مجھے چھوڑا ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ نواز شریف نے پورے پاکستان کو اور اس کے عوام کو تنہا چھوڑا اور بیرون ملک چلے گے….صاحبزادہ میاں جلیل احمد نے کہا کہ میں ہوا میں نہیں چھوڑ رہا اپنی بات کو دلیل سے ثابت کروں گا..انہوں نے حاضرین مجلس کو بتا یا کہ دو ہزار دو کے الیکشن میں حلقہ این اے ایک سو بتیس سے رانا تنویر حسین مسلم لیگ نواز کے امیدوار تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ سابق گورنر پنجاب اور آرائیں برادری کے صدر میاں محمد اظہر مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار ہوں گے تو انہوں نے میاں اظہر کے مقابلے میں الیکشن لڑنے سے صاف انکار کر دیا اور میدان چھوڑ کر بھاگ گے میں صوبائی اسمبلی کا امیدوار تھا لیکن جب رانا تنویر حسین میدان چھوڑ کر بھاگے تو مجبورا مسلم لیگ نواز نے مجھے قوم اسمبلی کا امیدوار بنا دیا تو میں رانا تنویر کی طرح میدان سے بھاگا نہیں بلکہ آپ سب نے دیکھا کہ میں نے میاں محمد اظہر جیسے ہیوی ویٹ کو شکست دیدی…ہاں یہاں میں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں کہ مسلم لیگ قائد اعظم کے پلیٹ فارم سے میاں اظہر کے نیچے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی متعدد بار پیشکشیں کی گئیں میاں اظہر بھی اس بات کے گواہ ہیں لیکن میں نے مسلم لیگ قائد اعظم کا امیدوار بننے سے انکار کر دیا تو ایک دن اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول صاحب جمعہ پڑھنے مزار حضرت میاں شیر محمد پر تشریف لائے نماز سے فراغت کے بعد انہوں نے مجھ سے ملنے کی خوائش کی سو میں نے بھی ملنے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا….گورنر اتفاق سے آج میں اور میاں اظہر صاحب ایک ہی پارٹی ’’ تحریک انصاف ‘‘ میں اکٹھے بیٹھے ہیں وہ گواہ ہیں کہ ’’گورنرخالد مقبول نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں مسلم لیگ قائد اظم کے ٹکٹ پر میاں اظہر کے نیچے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑوں تو انہیں پنجاب کا سنیئر منسٹر بنایا جائے گا گورنر خالد مقبول لکھ کر دینے کو تیار تھا لیکن اس میاں جلیل نے سب پیشکشیں جوتے کی نوک پر رکھ کر ہو

یہ بھی پڑھیں  جرمن میں ریٹائرڈفنی ماہرین کی خدمات سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker