تازہ ترینحکیم اشرف ثاقبکالم

جلتے چراغ بجھ گئے

جب میں تین سالہ حارث کے سرپر شفقت سے ہاتھ رکھا اور پیار سے اس کے گال پھپ تھپائے تو وہ میری طرف بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا اور ٹکٹکی لگا کر دیکھتا رہا ۔۔۔ دیکھتا رہا ۔ اس کی آنکھوں میں کئی سوال ابھر رہے تھے مگر وہ اچھے طریقہ سے بول نہیں سکتا شاہد وہ مجھ سے یہ سوال پوچھا رہا کہ میرے ابو تو اس دنیا سے چلے گئے اور واقعتاً ان کا گھر بھی قبرستان کے قریبی اور سامنے بھی ان کے گھر کے سامنے ہے۔ اس عظیم المرتبت شخص کی قبر ہے۔ شاید یہ تین سالہ بچہ سوچ رہا ہو کہ میرے ابو تو مجھے گود میں لیکر پیار کیا کرتے تھے اور اس نے صرف میرے سر پہ ہاتھ رکھ کر اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ قائین محترم : میں اس وقت سوچوں کے گہرے سمندر میں ڈوب گیا میں اس بچے کا حقیقی باپ تو نہیں ہوں باپ اور اولاد کی محبت لازوال ہوتی ہے اور15سالہ اسامہ اور 9سالہ مناہل تو یہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی اس دنیا سے چلا جاتا ہے واپس نہیں آتا مگر یہ تین سال کا مفہوم پھول یہ بات سمجھنے سے قاصر کہ میرا عظیم باپ پروفیسر آصف حسین شاہ ہمیشہ کیلئے ہمیں داغ مقارقت دے گیا۔ اب ہم معاشرے کے رحم وکرم پر زندگی گزاریں گے۔ ماں کی محبت اور باپ کا سایہ اولاد کیلئے روشنی کا مینار ہوتا ہے۔ مگر جب ماں اور باپ دونوں میں سے کوئی ایک دنیا سے کوچ کر جائے تو جلتے چراغ بجھ جاتے ہیں ۔ خواہشات کے دیپ ٹمٹانے لگتے ہیں بہار خزاؤں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ مکافات عمل ہے۔ ہر ذی روح نے موت کا ذائعہ چکناہے۔مگر کچھ لوگوں مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اور انکی یادیں لوگوں کے دلوں میں دھڑکتی رہتی ہیں۔ پروفیسر آصف حسین قریشی بھی ایک ایسے ہی اعلیٰ کردار اور گفتار کے مالک تھے۔پروفیسر آصف حسین قریشی سے نہ کبھی میری ملاقات ہوئی تھی اور نہ کوئی شناسائی میرے پاس بیٹھنے والے ایک دوست نے بتایا کہ بھائی اشرف دعا کریں کہ اللہ تبارک تعالیٰ پروفیسر کو صحت عطا فرمائے وہ ایک عرصہ سے قومے میں پڑے ہیں ۔میں نے پروفیسر صاحب کی بیماری وغیرہ کے متعلق دریافت کیا میرے دوست نے بتایا کہ ان کا ایکسیڈنٹ ہواتھا دماغ میں چوٹ آئی اور آج تقریباًسوا چار مہینے ہوئے ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمش میں پڑے ہیں۔ میرے دوست بار بار ان کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے اچھے کردار ،ملنساری، احترام ، آدمیت ،بنی نوع انسانوں کا درد، ہر لمحہ ہر گھڑی خدمت کا جذبہ صوم الصلوہ کے پابند انسانوں کی خدمت کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ بھرا ہواتھا۔ وقت گزرتے لمحات کی ہواؤں نے انگڑی لی 18اپریل جمعۃ المبارک کا دن سہ پہر 2بجے مساجد میں اعلان ہوئے کہ پروفیسر آصف حسین قریشی اس دارِ فانی بقا کوچ کر گئے ۔میرے دوست نے کہا حکیم صاحب جب علیم المرتبت ہستی آج دنیا سے چلی گئی ہے چلو ان کا آخری دیدار کر لیتے ہیں جب ہم جنازے میں پہنچے تو قرستان میں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا میرے دل میں مزید پروفیسر آصف حسین شاہ کی شخصیت کے بارے میں خواہشات کے لاوے پکنے لگے گرمی کا موسم اوپر سورج بھی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ آگ برسا رہا تھا نیچے سے زمین بھی آگ بنی ہوئی تھی۔ مگر لوگوں دوڑ دوڑ کر جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کی حسرت پیدا ہوئی مگر رش کی وجہ اور گرمی کی شدت نے میری یہ آرزو پوری نہ ہوسکی ۔پھر مزید میں نے چند لوگوں سے انکی شخصیت کے بارے میں دریافت کیا۔سب نے ان کے علم وعمل اور انکے اچھے کردار کی تعریف کی۔میرے قلب وجگر میں ایک چنگاری اٹھی کہ ہے کاش اس مسیحا انسان سے میری ملاقات ہو جاتی تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ڈگریوں والے تو بہت ہیں۔ پروفیسر فارسی سبجیکٹ کے اسپیشلسٹ اور فارسی زبان کے رموز اوقاف ،مقالہ نگار اور محقق تھے ۔ پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈگری کے ساتھ ایک اچھے مقرر بھی تھے۔ وہ اس کالج بھکر میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے تھے۔ میرے تجسس کی حس نے مزید اس مسیحا اور کردار کے غازی کے بارے معلومات لینے کا جذبہ پیدا ہوا اور انکے جانے والے ایک دوست کو ساتھ لیا انکے گھر پہنچ گئے تعزیت کی اور اپنا تعارف کروایا۔پروفیسر آصف حسین شاہ کے بھائیوں نے ہمیں ویلکم کیا میں نے اس عظیم معلم کی شخصیت کے بارے میں انکے بھائیوں سے سوالات کیے ۔ طارق شاہ صاحب بتا رہے تھے کہ جب ہم ان کو زخمی حالت میں نشتر ہسپتال لے گئے پاکستان کے بگڑے ہوئے نظام مین ہمیں پہلے تو وہاں کوئی لفٹ نہ ملی ایمرجنسی مین جب نیورو وارڈ کے پروفیسر ڈاکٹر نے دورہ کیا تو پوچھا یہ نیا مریض کون ہے ان کو ایکسیڈنٹ اور انکے استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں پوچھا ڈاکٹروں نے بتایا انہون نے استعمال ہونے والی ادویات کی فائل چیک کی فائل پر پروفیسر آصف حسین شاہ لکھا ہوتا تھا پروفیسر نیورو سرجن نے مزید پروفیسر آصف حسین شاہ صاحب کے بارے مین دریافت کیا اور انکی سرگرمیون کے بارے میں پوچھا تو انہون نے ایک تاریخ فقرہ بولا کہ ’’خدا کی قسم اگر یہ قوم کے محسن اور انسانیت کے روحانی باپ نہ ہوتے تو ہم سڑکوں پر ریڑھیوں پر سبزیاں فروخت کر رہے ہوتے‘‘ انہون نے جونیئر ڈاکٹروں کو خصوصی حکم دیا کہ ان کا خصوصی خیال رکھا جائے مزید فائل پر نئی ادویات تحریر کیں ۔پروفیسر آصف شاہ کے بھائی جناب عارف حسین شاہ ہمیں بتا رہتے تھے کہ بھائی کے بڈ کے پاس ایک پٹھان برین ہمرج کا مریض پڑا ہواتھا ۔ اس کا بھائی جو اس کے پاس اس کی دیکھ بھال کیلئے دن رات موجود تھا وہ ہر وقت پروفیسر آصف حسین شاہ کے چہرے کی طرف دیکھتا رہتا تھا اور انکی صحت کے ساتھ کے
بارے میں دعا کرتا رہتا تھا۔ ایک روز صبح کے وقت وہ آیا انکے بڈ کے قریب کھڑا ہو گیا اور کہا کہ یہ ایک اللہ کا ولی ہے ۔ یا اللہ بے میرے بھائی کو تو اٹھا لے اور اس کو صحت عطا فرماوہ بتا رہے تھے پٹھان کہہ رہا تھا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کے چہرے دیکھتا رہوں ۔۔۔ دیکھتا رہوں۔ ان کے چھوٹے بھائی جناب طارق شاہ ہمیں بتارہے تھے کہ تعطیلات کے دوران وہ اپنی اکیڈمی میں طلباء کو بغیر فیس کے پڑھاتے تھے ۔ اگر کوئی طالب علم گھر پر پڑھنے کیلئے آتا تو بھرپور طریقہ سے اس کی معاونت کرتے۔ وہ بتا رہے تھے کہ دو مرتبہ وزارت تعلیم نے ان کو بطور محقق ایران بھیجا وزارت ایران نے پروفیسر کو آفر کی آپ یہاں اپنی خدمات سرانجام دیں مگر انہوں نے کہا کہ میں پاکستان جا کر اپنی قوم وملک کی خدمات کرونگا۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی مقر نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ افراد کے آنے جانے سے نظام ہستی کی روانی متاثر نہیں ہوتی لیکن خالق کائنات کی قدرت کا ملہ ایسی یکتا اور بے مثال ہے کہ کروڑوں انسانوں کو ایک دوسرے سے یکسر خصوصیات بصیرت اور بصارت الگ عطا فرمائی ہے۔ وہ جنہیں قدرت نے کسی خاص مقصد اور اہداف کیلئے منتخب کیا ہو وہ افراد اپنی تمام زندگی میں اپنے مقصد ھیات کی تکمیل کیلئے سرگرم رہتے ہیں اور ان کے عزم واستقلال کی راہ میں کوئی بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی حائل ہوجائے وہ اسے پاش پاش کر کے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ۔اگر جذبے صادق ہوں اور کائنات کے مالک وخالق پر یقین محکم ہو تو اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات ایسے ہی لوگوں کو بلندیاں عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس اور پاکیزہ کتاب قرآن مجید فرقانِ حمید میں واضع الفاظ میں فرمادیا ہے ’’تم ہی سربلندر ہو گے اگر تم مومن ہو‘‘ پروفیسر آصف حسین قریشی جیسے کردار کے غازی تھے اسی طرح وہ کردار کے بھی غازی تھے ۔ وہ ایسے درخت کی مانند تھے جو خود تو دھوپ میں جلتا ہے مگر دوسروں کو سایہ مہیا کرتا ہے ۔ اللہ تبارک تعالیٰ ان کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور انکے لواحقین بالخصوص انکے تین معصوم بچوں اور بیوہ کو صبر وجمیل عطا فرمائے ۔ آمین۔بشکریہ (پریس لائن انٹرنیشنل)

یہ بھی پڑھیں  پھولنگر:طارق بشیر چیمہ نے دو گم شدہ بچوں کو تلاش کرکے والدین کے حوالے کر دیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker