تازہ ترینکالممیرافسر امان

جماعت اسلامی نے کراچی حیدر آباد میں الیکشن۲۰۱۳ء کا بائیکاٹ کیوں کیا؟

mir afsarکراچی میں موت کا رقص کئی دہایوں سے ہوتا رہا ہے اورہو رہاہے انتخابی امیدوار قتل کئے گئے ان حالت میں الیکشن ہوئے کراچی کے اندر ایک مخصوص لسانی جماعت نے خوف کا ماحول بنا رکھا ہے انہوں نے پہلے کی طرح ہر حالت اورہر قیمت پر الیکشن جیتنے کا پروگرام بنایا تھا جس کا مظاہرہ عوام نے ۱۱ مئی کو دیکھا اس تنظیم کے ذیلی اداروں کے حلف یافتہ افراد کو الیکشن اسٹیشنوں پر تعینات کیا گیا جس نے دل کھول کر ریکارڈ دھاندلی کی جس سے عوام چیخ اُٹھی .کراچی کے تعلیمی اداروں میں اپنے حلف یافتہ کارکنوں کے ذریعے پہلے ووٹر لسٹوں میں اپنی مرضی کے مطابق بنوائی . کچی بستیوں اپنے مخالف ووٹر لسٹوں کاانداج پاکستان میں ان کے آبائی علاقوں میں کر دیا گیا ان ہی بستیوں کے وو ٹروں کا نام ایک علاقعے سے دوسرے علاقعے میں نام درج کر دیا گیا کچھ کا نام سرے سے درج ہی نہیں کیا گیا جب کہ عوام نے فارم بھر کر دیے گئے اور ساتھ قومی نیشنل کارڈ بھی اندراج کرنے والے عملے کو دیا گئے تھے ایم کیو ایم نے اپنے متوقع و وٹروں کا انداج ایک علاقے سے دوسرے کمزور علاقے میں داخل کرائے گھروں میں اصل مکینوں کے بجائے جعلی ووٹ درج کروائے گئے ایک گھر میں لاتعداد ووٹ درج کیے گئے جس کا ثبوت جماعت اسلامی نے عوام کے سامنے پیش کیا …اپنے سرپرست ڈکٹیٹر مشرف کی مدد سے اپنی مرضی کی الیکشن حد بندیاں کرائی گئیں جس کااعتراف مشرف صاحب نے کراچی آمد کے موقعے پر اخباری پریس کانفرنس میں کہا تھا میں نے ایم کیو ایم کی مدد کی تھی اب ایم کیو ایم کو میری مدد کرنا چائیے را قم نصف صدی سے زائد عرصے سے کراچی کی کچی آبادی میں مستقل آباد ہے سات بچے کراچی میں پیدا ہوئے ایک بیٹے اس کی بیوی کا اندراج مرزا گاؤں ضلع اٹک میں کیا گیا ایک بیٹے اوربہو کااندراج کراچی کے دوسرے علاقے میں کیا گیا ایک بہو کا نام سرے سے درج ہی نہیں کیا گیا راقم نے ضلعی الیکشن کمیشن میں کئی حاضریوں کے بعد نیشنل کارڈ پر درج کراچی کے مستقل پتے پر اپنے خاندان کے ووٹ درج کروائے یہ اوپر درج کی گئی داستان کا ایک ثبوت ہے … ان کی بے ضابتگیوں کو درست کرنے اور الیکشن صاف اور شفاف ہونے کے لیے جماعت اسلامی کراچی نے ضلعی ،صوبائی اور مرکزی الیکشن کمیشن سے تحریری رابطہ کیا مگر الیکشن کمیشن کچھ نہ کر سکا پاکستان کی سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا سپریم کورٹ میں ثبوت پیش کئے گئے اس پر سپریم کورٹ نے حلقہ بندیاں درست کرنے اور ووٹر لسٹوں کو فوج کی نگرانی میں درست کرنے کا آڈر جاری کیا صوبائی الیکشن کمیشن سے عمل درآمد کے لیے درخواستیں دی گئیں مکر ایم کیو ایم کے دباؤ کی وجہ سے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہ ہو سکی اس پر دھرنے دئیے گئے پریس کے ذریعے اور عملی احتجاج پر بھی کیا گیا مگر بات نہ بنی کراچی سے اسلام آباد تک ٹرین مار چ بھی کیا گیا الیکشن سے ایک دن پہلے کراچی اور سندھ کی تمام جماعتوں نے الیکشن فوج کی نگرانی یعنی فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تاکہ ووٹر بے خوف ہو کراپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں مگر اس پر دھیان نہ دیا گیا پھر ۱۱ مئی کو وہی ہوا جو ہونا تھا متحدہ نے دھاندلی کا ریکارڈ توڑ دیا عوام کامینڈیٹ ایک بار پھر چھین لیا گیا متحدہ نے گن پوائنٹ پر پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا، ٹھپے لگائے کئے، انتخابی عملے کو یرغمال بنا کر عوام کوحق رائے دہی سے محروم کر دیا گیاپولیس نے جانبدارانہ رویہ اختیا رکیا الیکشن کے عملے کو باہر نکال دیا گیا اورایم کیو ایم کے کارکنان عملے کا کام کرتے رہے الیکشن کمیشن کراچی میں شفاف الیکشن کرنے میں ناکام رہا اس کا اعتراف الیکشن کمیشن نے بھی کیا. جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن پر احتجاج کیا رینجرز نے فائرنگ کی کارکن زخمی ہوا۔ تحریک انصاف نے احتجاج کیا اور کہا کراچی میں دوبارا الیکشن کرائے جائیں عارف علوی ۔ متحدہ نے تاریخ کی بدترین دھاندلی کی تاج حیدر اور عبدالعزیز میمن کی پریس کانفرنس۔ جماعت اسلامی سنی تحریک،مہاجر قومی مومنٹ،جمعیت علمائے پاکستان اور سنی اتحاد کونسل نے بھی بائیکاٹ کا اعلان کیا ن لیگ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا. الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہا کراچی میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کا کہنا مشکل ہے ابتدائی رپورٹ فری اینڈ فیئرالیکشن نیٹ ورک.ادھر برطانیہ کے شہری الطاف حسین صاحب نے حسب معمول سلطان راہی کی طرح بھڑکیں مارتے ہوئے فوج ،الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی اور کراچی کے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی جس کو پورے پاکستان کے دانشوروں اور سیاسی پارٹیوں نے نوٹس لیا.
قارئین ان حالات میں بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو کیاکیا جاتا اب بائیکاٹ کرنے والی تمام جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمل کیا جائے فوج کی نگرانی میں دوبارہ الیکشن کروائے noteجائیں ورنہ احتجاج جاری رہے آج پریس کلب سے مظاہرہ بھی کیا گیا.

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button