تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

جماعتِ اسلامی کی اَمارت اور محوِپروازسراج الحق

خیبرپختونخواکے سینئر صوبائی وزیرسراج الحق جماعت اسلامی پاکستان کے نئے اَمیر منتخب ہوگئے ہیں ۔ سراج الحق کا مرکزی اَمیر منتخب ہونا 26 اگست 1941ء کو سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قیادت میں وجودپانے والی جماعت اسلامی کے اس انتخابی عمل کا حصہ ہے جونئے اَمیرکے انتخاب کے لئے ملک بھر کے طول وعرض میں موجودجماعت اسلامی کے اراکین کی خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہر پانچ سال بعدانجام پاتا ہے اگرچہ مرکزی اَمیر کی مدت اَمارت پوری ہونے پراگلے پانچ سال کے لئے نئے اَمیر کے انتخاب کاعمل جماعت اسلامی کے اندرونِ خانہ تو مبنی برروایت معمول کی کارروئی سمجھی جاتی ہے جس میں کسی بھی رکن جماعت کواپنی مرضی کے مطابق رائے دہی کے استعمال کاحق حاصل ہوتاہے تاہم سراج الحق کا بحیثیت مرکزی اَمیر منتخب ہوناکسی بھی طور غیرمعمولی واقعہ ہے اوریہ منظم تنظیمی اور سیاسی ڈھانچہ کی حامل جماعت اسلامی کی روایات کے برعکس بھی ہے کیونکہ ماضی میں مولانامودودی سے لے کرقاضی حسین احمد مرحوم تک کوئی بھی مرکزی اَمیر ایک زائد مدت کے لئے منتخب ہوئے ہیں ۔اب تک کیاہوا،کون کب اور کتنی مدت کے لئے مرکزی اَمیر منتخب ہوااور اس کاطریقہ کارکیا رہا یہ اگرچہ قطعی طورپر جماعت اسلامی کااندرونی معاملہ ہے بہرحال کہیں متوقع توکہیں غیرمتوقع اور حیراں کن تناظر میں عوام اور سیاسی حلقوں کے لئے وجود رکھتی غیرمعمولی خبر یہ ہے کہ سراج الحق جماعت اسلامی کے نئے مرکزاَمیر منتخب ہوگئے ہیں ۔ اوراب تو ان کی جانب سے وزارت سے مستعفی ہونے اور جلد منصورہ منتقلی کابیان بھی سامنے آیاہے۔چونکہ کوئی بھی سیاسی لیڈرعوام کی پراپرٹی سمجھی جاتی ہے اس لحاظ سے وہ کون ہیں ،کہاں سے تعلق رکھتے ہیں سمیت ان کی تعلیمی استعداد، مالی اور خاندانی پس منظراورسیاسی خدمات کے بارے میں عوام کو معلوم ہوناضروری ہوتاہے۔ انہوں نے 1962ء کودیرلوئر کے علاقہ جندول کے کاکس درہ مسکینی میں احمدالحق کے ہاں آنکھ کھولی۔ پرائمری تعلیم ثمرباغ جندول میں حاصل کی۔گورنمنٹ ہائی سکول خال سے میٹرک کرنے کے بعدبی اے تک کی تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج تیمرگرہ سے حاصل کی جہاں وہ طلباء تنظیم کے صدر بھی رہے۔1985ء کوپشاورسے بی ایڈ جبکہ 1987ء کوپنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی۔دوران طالب علمی اسلامی جمعیت طلباء سے وابستہ رہتے ہوئے علاقائی نظامت سے لیکر خیبرپختونخوا کی نظامت تک کی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد 1988ء سے1991ء تک اسلامی جمعیت طلباء پاکستان کے ناظم اعلیٰ رہے اور تین دفعہ ناظم اعلیٰ منتخب ہوتے رہے جو اسلامی جمعیت طلباء کے اراکین کی جانب سے ان کے غیرمعمولی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کی واضح دلیل تھی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 1992ء میں جماعت اسلامی کے رکن بن گئے اور اسی سال اپنے آبائی ضلع دیرلوئر میں جماعت اسلامی تحصیل ثمرباغ کے اَمیر بھی منتخب ہوگئے ۔سراج الحق 1993ء سے1998ء تک جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری رہے وہ صوبائی اَمیربھی رہے ہیں اور گوکہ 30 مارچ کوجماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرمنصورہ لاہورسے نتائج کے اعلان باقاعدہ اعلان کے بعد وہ اگرچہ جماعت اسلامی کے نومنتخب اَمیر بن چکے ہیں اور سیدابوالاعلیٰ مودودی،میاں طفیل محمدمرحوم،قاضی حسین احمد مرحوم اورسیدمنورحسن کے بعدجماعت اسلامی کے منتخب ہونے والے پانچویں اور خیبرپختونخواسے تعلق رکھتے دوسرے مرکزی اَمیرہیں۔ تاہم اپنی ذمہ داری کاحلف اٹھانے تک وہ اپنی جماعت کے مرکزی ناب اَمیر رہیں گے۔ انہوں نے 2002 میں عملی انتخابی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑااور دیر لوئر سے خیبرپختونخوا اس وقت کے صوبہ (سرحد) اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔2002متحدہ مجلس عمل کی بننے والی صوبائی حکومت میں سینئر صوبائی وزیر بنائے جانے سمیت وزارت خزانہ کا قلمدان بھی انہیں سونپاگیاتھاتاہم 2007کوڈماڈولہ پر فضائی حملہ کے خلاف حکومتی عہدے سے بطوراحتجاج مستعفی ہوگئے تھے۔2008 کے انتخابات کے لئے بھی انہیں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے بطورامیدوار نامزد کیاگیاتھا مگرچونکہ بعد میں جماعت اسلامی نے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا لہٰذا وہ الیکشن نہیں لڑسکے تاہم گیارہ مئی 2013 کے انتخابات میں وہ ممبر صوبائی اسمبلی بنے اور تحریک انصاف سمیت دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت سازی کے بعد ایک بار پھر صوبے کے سینئر وزیر بھی بنے اور وزارت خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالا۔متحدہ مجلس عمل کی تشکیل میں جماعت اسلامی کی جانب سے سابق اَمیر قاضی حسین احمد مرحوم کا بڑااہم کردارتھا اس حقیقت سے کسی کوکوئی نہیں تاہم سراج الحق پارٹی کے اندر سابق اَمیرکے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے اور ان کے دست راست سمجھے جاتے تھے اس لحاظ سے ایم ایم اے کے قیام میں سراج الحق کے کردار کو بھی کسی صورت رد نہیں کیاجاسکتاجبکہ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت میں بحیثیت سینئر صوبائی وزیرسراج الحق کا صوبے میں بینکاری کابلاسود نظام متعارف کرانے سمیت حسبہ بل جو کہ اگرچہ بوجوہ قابل عمل تو نہیں ہوسکاتاہم اس مسودے کی تیاری اور صوبائی اسمبلی سے اس کی منظوری میں ان کاکلیدی کرداررہاہے جب کہ تحریک انصاف اور دیگر اتحادی جماعتوں سے مل کر خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت کی تشکیل میں بھی سراج الحق کااہم کردارہے جسے کسی صورت رد کیا جاسکتاہے نہ ہی نظرانداز۔سیاسی اور نظریاتی اختلافات اپنی جگہ تاہم شعلہ بیاں مقرر اور مدہم اندازمیں سلیقہ مند فلسفیانہ طرز گفتگوکے لئے مشہور سراج ال

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker