تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

جمہوری ملک کے فرائض اور ذمہ داریاں

ہر مملکت کی ذمہ داری اور فرض منصبی ہے کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ آزاد جمہوری نظام کا بھی تحفظ کرے عوام کی رائے اور قومی خودمختاری کا تحفظ سب سے مقدم ہے ۔خواہ کچھ بھی ہو مملکت کا یہ فریضہ کسی صورت متاثر نہیں ہوتا۔ایک خودمختار جمہوری مملکت کو اپنے دفاع کی صلاحیت پر ہر طور برقرار رکھنی چاہیے۔جمہوری مملکت کو مستقبل کے نادیدہ حالات سے نمٹنے کا پوری طرح اہل ہونا چاہیے۔لیکن قومی سالمیت صرف فوجی دفاع تک محدود نہیں ۔ہمیں سلامتی سمیت کئی نئے خطرات درپیش ہیں۔اس کے اسباب بہت پیچیدہ ہیں۔ان سے نمٹنے کے لیے مربوط اور دور رس سیاسی نظریے کی ضرورت ہے جس میں سفارتی،اقتصادی ،سماجی ثقافتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ فوجی اقدامات بھی شامل ہیں۔حالات کا تقاضا ہے کہ ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں علاج سے زیادہ احتیاط پر توجہ دی جائے اور بحران و تنازعات کو شدت اختیار کرنے سے پہلے حل کر لیا جائے۔خارجہ سلامتی او اقتصادی پالیسی کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔اجتماعی سلامتی،بین الاقوامی یکجہتی میں تعاون اور بحرانوں کے خلاف باہم اشتراک سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہمارے ملک کی سلامتی سے متعلق پالیسی کی بنیاد ہے۔کیونکہ ہم خود کو ایک وسیع تر برادری کا حصہ اور اتحادی سمجھتے ہیں۔دہشت گردی کی جنگ کے خلاف احتیاطی تدابیر پر مبنی ہماری پالیسی کے کئی پہلو ہیں جن میں ایک ناگزیر پہلو مسلح افواج ہیں ۔لیکن وہ ہمیشہ سیاست کے تابع ہیں۔مسلح افواج کی دفاع کے علاوہ بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔مثلاً جب کوئی نازک صورتحال در پیش ہو یا مملکت کا اقتدار خطرے میں ہو تو ایسے معاملوں سے ،محض سیاسی ذریعوں سے نہیں نمٹا جا سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ صرف فوجی طاقت سے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔لیکن افواج خلاف قانون تشدد کو ختم کر سکتی ہے۔یا کم ازکم اس میں اضافے کو روک سکتی ہے۔اور امن و امان برقرار رکھ کر سیاسی حل تلاش کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔مزاحمت اور دفاع میں فوجی طاقت کو اولین حیثیت حاصل ہے۔البتہ اسے آخری حربے کے طور پراس وقت استعمال کرنا چاہیے جب کوئی راہ باقی نہ رہے۔
اس کا سیاست میں فوج کے عمل دخل ،سیاسی برتری کے جنون یا مداخلت سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔اخلاقی مقاصد کے لیے طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال سے مشروط ہے۔موضوع بحث فتوحات کے لیے جنگ نہیں بلکہ ظالم و جابر حکمرانوں اور دہشت گردی کے خلاف مظلوم اور کچلے ہوئے لوگوں اور قوموں کی امداد ہے۔مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی راستہ نہ ہو تو بین الاقوامی قانون کے تحت مسلح افواج کی حفاظت یا ان کی مدد سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضرورت مندو ں کو مدد باہم پہنچائی جائے ۔مسح افواج کو ان تمام مقاصد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ہمارے سیاسی نظام کی بدقسمتی اور بدنصیبی یہ رہی ہے کہ فوج اقتدار پر مسلط ہو کر جانے کا نام نہیں لیتی۔جو سیاستدان فوج کو اقتدار میں آنے پر مجبور کرتے ہیں پھر وہی فوج پر انگلیاں بھی اُٹھانا شروع کر دیتے ہیں بار بار فوج کو اقتدار میں آنے سے جہاں اس کے وقار کو زک پہنچی وہاں جمہوری نظام بھی متزلزل ہوا۔
ایک طویل عرصہ کے بعد ہماری فوج کو احساس ہوا ہے کہ وہ جمہوری نظام کو ’’جہاں ہے اور جیسے ہے‘‘ کی بنیاد پر چلنے دیں۔
اب امید رکھنی چاہیے کہ سیاستدان ایسی غلطیاں نہیں دہرائیں گے جس سے فوج اقتدار پر قابض ہو کر جمہوریت کی بساط لپیٹ دے ۔افواج پاکستان کا کوئی نعم البدل نہیں ۔لہٰذا سیاستدان بھی ایسی حرکتوں سے باز آجائیں۔جس سے عوام اور افواج کے درمیان دوریاں پیدا ہوں۔بلاشبہ افواج پاکستان نے عوام کے تعاون سے دہشت گردی کی جنگ جیتی ہے۔لہٰذا اب سیاستدانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سیاسی یکجہتی، برداشت ،رواداری اور محب الوطنی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اختلافات و تنازعات مٹا دیں۔ایک جگہ پر بیٹھ کر پُرا من فضا کو جنم دیں۔ملکی گھمبیر مسائل کا مثبت حل تلاش کریں۔ایک دوسرے پر یہ الزام لگا کر سیاسی فضا مکدر نہ بنائیں کہ فلاں فلاں فوج کی پیداوار ہے اور فلاں فلاں امریکہ کو بندے دے کر ڈالر کماتے ہیں۔اگر ہم گریبان میں جھانکیں تو بلی خود بخود تھیلے سے باہر نکل آئے گی۔
کسی نے ایمل کانسی کو،تو کسی نے یوسف رمزی کو امریکہ کے حوالے کر کے پکی دوستی کا یقین دلایا ۔بلاشبہ امریکہ ہم سب کی مجبوری ہے وہ ہماری گردنوں کو دبوچے بیٹھا ہے۔اور ہم بھیگی بلی بن کر اس کے ناز و نخرے برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔حامد کرزئی آکر پاکستان کو اپنا جڑواں بھائی کہتا ہے۔تو ہمیں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سیاسی، اخلاقی اور اقتصادی تعاون دینا چاہیے۔تاکہ وہ نفسیاتی الجھنوں سے باہر نکل سکے۔اسی صورت میں بھارت خود بخود دُم دبا کربھاگ نکلے گا۔امریکہ کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور وہ پر وقار انخلا ء چاہتا ہے۔لہٰذا پاکستان افغان بھائیوں کی مدد اور تعاون سے اس کی یہ نیک خواہش پوری کر سکتا ہے۔حکمرانوں کو چاہیے کہ سیاسی فضا کو آلودگیوں سے پاک بنانے کی عملی کوشش کریں۔پڑوسی ممالک سے تنازعات کے خاتمے اور علاقائی سیاست کو ترقی اور خوشحالی کے لیے استعمال میں لانے کی عملی تدابیر سوچیں۔

یہ بھی پڑھیں  جونیئرایشیاکپ،پاکستان چین کو ہرا کرسیمی فائنل میں پہنچ گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker