بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

جمہوری نظام اورعوام

ہمارے نظام میں بے شمار خرابیاں ایسی ہیں کہ جن سے کرپشن مافیا نے بری طرح ہمارے سماج کو دبوچ رکھا ہے۔المیہ یہ ہے کہ عوام اپنے نمائندے اس لئے منتخب کرتے ہیں تاکہ ان کے متعلق قانون سازی کر کے آسانیاں پیدا کی جائیں مگرماضی میں فف اسمبلیوں کی کارروائی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہیں عوام کی ضروریات و اہمیت کا کوئی احساس نہیں محض اپنی مراعات کے چکر میں عوام کو مسائل کا شکار کر رکھا ہے۔قانون کے اندر ایسے سقم موجود ہیں جو عوامی مفادات کے متصادم ہیں مگر ان پر توجہ دینے کے بجائے ایسے مباحثے کئے جاتے ہیں جن کا براہ راست عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔یہ اس وجہ سے رویہ رکھا جا رہا ہے کیونکہ عوام بھی ووٹ دیکر ریچھ کی نیند سو جاتے ہیں ۔اگر عوام اپنے حق کے لئے کمر بستہ ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی آواز ایوانوں تک نہ گونج پائے۔
ہر یونین کونسل میں دو سے زائد بنیادی طبی مراکز،دیہی طبی مراکز موجود ہیں مگر ڈاکٹر نہیں،دوائیوں کا ذکر کرنا بے سود ہے کیونکہ وہ ملتی ہی نہیں ہیں۔چند ایک سرکاری سکولز کو چھوڑ کر اکثر سکولوں میں عملہ پورا نہیں ،آئے روز حادثات کی بڑی وجہ نا پختہ ،غیر ہموار سڑکیں ، ناقض میٹریل کا استعمال اورغیر معیاری دیواریں ہیں ۔جس کے سبب حادثات معمول کا حصہ بن رہے ہیں اور بے شمار انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ۔ اکثر دیہاتوں میں صاف پانی نہ ہونے سے جہاں جان لیوا بیماریوں کے خطرات منڈ لا رہے ہی وہیں پانی کی عدم دستیابی سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوتی جا رہی ہے ۔
اسی طرح کئی فوجداری اور دیوانی مقدمات نے نسل در نسل عوام کو دبوچ رکھا ہے ۔انگریز اور ڈوگرہ شاہی کے دیئے ہوئے ورثہ کو ہم نے جس انداز سے گلے لگایا ہوا ہے اس تناظر میں آئین سازی کی از سر نو نظرثانی ضروری ہو چکی ہے۔اختیاراتی حد بندی ،میرٹ کا سختی سے عمل در آمد اور شہریوں کے جان و مال کا پورا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔جہاں حکومت کے فرائض کا تذکرہ کیا جانا پہلی ترجیج ہے وہیں اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی حقیقی بنیادوں پر موثر ترجمانی کا حق ادا کرئے۔
بلاشبہ آذادکشمیر میں جمہوری نظام جنوبی ایشیاء میں مثالی حیثیت رکھتا ہے 1985ء سے مسلسل انتخابی عمل جاری رہنا عوام کی خوش بختی ہے ۔اسی طرح ارضِ پاکستان میں پہلی بار ایک جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے۔آذادکشمیر کے عوام نے مسلسل سیاسی عمل کے نتیجہ میں کافی شعوری بیداری کو جنم دیا ہے ۔جس سے اصلاحات کی توقعات ہیں۔سیاسی شعور کی بیداری اب اتنی طاقت ور ہو چکی ہے کہ اب عوام کا استحصال کرنا کافی حد تک نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔جمہوری ثمرات کے بل بوتے پر آج عوام اپنے مسائل کاکھل کر آذادی کے ساتھ اظہار کر رہی ہے ۔جنوبی ایشیاء میں اگر کسی نے مہذب اور پختہ جمہوری نظام کا مشائدہ کرنا ہو تو وہ آذادکشمیر میں آکر اس کا موازنہ کر سکتا ہے ۔عوامی نمائندوں کو علم ہوتا ہے کہ وہ پانچ سالوں کے بعد پھر انہی لوگوں سے رجوع کرئے گا اس لحاظ سے عوام کا جمہوریت کے ساتھ رشتہ استوار ہونا باعث اطمینان ہے۔
جن مسائل کا درج بالا سطور میں ذکر کیا گیا ہے ،دراصل یہ وہ مسائل ہیں جو ہمارے انتظامی اداروں کی ناقض منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں ۔افسر شاہی جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کی نسبت کافی حد تک عوام دوست ضرور ہے تاہم پڑوسی ممالک کے بد اثرات کا پیدا ہونا فطری عمل ہے ۔بالخصوص پاکستان میں طویل آمریت کے سائے میں پلنے والی بیورکریسی نے آذادکشمیرکی افسر شاہی کا مزاج خراب کر رکھا ہے لیکن نسبتاً ہمارا انتظامی ڈھانچہ بہتر ی کہ جانب بڑھ رہا ہے۔ان سطور میں چند ایک محب الوطن انتظامی آفسران کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں جن میں ایس ایس پی خالد چوہان ،ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمن،ڈاکٹر قربان میرڈی جی ہیلتھ،تنویر حسین رہیسانی،جمیل احمد میر ڈی ایس پی،راجہ امتیاز خان ڈائریکٹر برقیات،پروفیسر نثار ہمدانی،پروفیسر سید مشتاق کاظمی،پروفیسر قاضی محمد ابراہیم اور بالخصوص سید ممتاز نقوی چیئرمین پی ایس سی جن کا حال میں تقرر ہوا ۔وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کا یہ فیصلہ یقیناًقابل تعریف ہے ۔ممتاز نقوی نے نا مساعد حالات میں آمریت کا جس جواں مردی سے مقابلہ کیا انہیں اس کا صلہ پھر بھی کم ملا ہے مگر اس کے باوجود کہ ہماری سیاست میں نظریاتی پہلو کی واقعی قدر افزائی ہونا سیاسی اداروں کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔مذکورہ بالا انتہائی دیانت دار اور عوام دوست شخصیات ہیں یہ ہمارے لئے قیمتی اثاثہ اور تاریخی مثال ہیں ۔سید ممتاز نقوی میرے سیاسی ہمعصر ساتھی اور قید و بند کے دوران ہم اسیر بھی رہے ۔ان کی قابلیت،اہلیت اور دیانت داری پر کوئی شبہ نہیں ۔یہ تعریف میں کسی لالچ پر نہیں کر رہا نہ ہی میں نے کسی کی بھرتی کروانی ہے کہ اس غرض کو سامنے رکھوں البتہ ایک قلم کار کی حیثیت سے اپنا فرضٖ سمجھا کہ بطور مثال چند ایک شناسا شخصیات کا تذکرہ محض اس لئے کر دوں کہ ہماری بیوروکریسی میں ماشاء اللہ خوف خدا رکھنے والے عوام دوست موجود ہیں جو شائد اس تناسب سے کسی پڑوسی ممالک کو نصیب نہیں۔عوامی حکومت کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم میں با صلاحیت اور عوام دوست افراد کا چناؤ کرئے۔وزیر اعظم چوہدری عبد المجید اور اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر خان منجھے ہوئے سیاسی رہنما ہیں ان کی قیادت میں دو بڑی پارلیمانی بارٹیز ہیں ۔انہیں یہی مشورہ دوں گا کہ وہ نظریاتی صف بندی کریں اور بہتر عوامی قیادت کے روپ میں تاریخ میں اپنا نام روشن کریں ۔عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے رول ماڈل کا کر دار ادا کریں ۔جن بنیادی مسائل کا تذکرہ کیا ہے ان پر توجہ دی جائے اور سیاست سے خوشامدی،کاسہ لیس اور وارداتی ٹولے کے بجائے با صلاحیت افراد پر مشتمل ٹیم کو آگے لائیں۔مسلم لیگ ن کا آذادکشمیر میں قیام اچھا شگون ہے ۔راجہ فاروق حیدر خان نے مختصر عرصہ میں جس طرح نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ وہ فرسودہ اور بد دیانت طبقہ کے خلاف جس طرح بر سرِ پیکار ہیں اسی طرح وہ اپنی جماعتی صف بندی میں عوام کے پسندیدہ اور با صلاحیت افراد کو اہمیت دیں ۔مضبوط بنیادوں پر قائم عمارت کبھی بھی کمزور نہیں ہوا کرتی ۔عوام امید کرتے ہیں کہ جمہوری نظام کو عوامی توقعات کے مطابق قانونی ،آئینی اور فلاحی بنانے میں سیاسی جماعتیں کردار ادا کریں گی۔ان سطور میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی تو قعات ہیں کہ وہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے میں بطور مثال ریاست آذاد جموں کشمیر کو پیش نظر رکھیں گے۔آذادکشمیر میں سیاسی کلچر کا ہونا کشمیر کے اس پار مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی تسلط کے خلاف صف آراء ہیں۔جمہوری نظام کی بقاء میں ہی قومی سلامتی اور ترقی و خوشحالی ممکن ہے جو لوگ آمریت پسند جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں وہ کسی بھی طور پر ملک کے خیر خواہ نہیں ،عوام کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا درست انتخاب کرئے تاکہ وطن عزیز خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں  سڈنی ٹیسٹ: آسٹریلین اننگ 538رنز پر ڈکلیئر، پاکستان کے 2 آئوٹ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker