تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

جمہوری روح

موجودہ دنیا کا سب سے برا المیہ یہ ے کہ یورپ نے جمہو ریت کو ایسا مذہبی تقدس عطا کر رکھا ہے کہ اسے اس کے علاوہ کسی بھی نظام میں انسانیت کی بقا نظر نہیں آتی،وہ دنیا کے سارے مسائل کا حل جمہوریت میں تلاش کرتا ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی بات سننے اور برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ۔اس کیلئے جمہوریت نظام نہیں بلکہ مذہب کا روپ اختیار کر چکا ہے ۔ ایک مخصوص استحصالی گروہ (جاگیردار،سرما یہ دار،صنعتکار) کو بھی یقین ہے کہ جمہوریت سے سارے مسائل حل ہو جائیں گئے اور دنیا امن و امان ،سکون و طمانیت اور محبتوں کا گہوارہ بن جائیگی جبکہ ایسا پر گز نہیں ہے۔دنیا آج بھی پہلے کی طرح غیر محفوظ اور بد نظمی کا شکار ہے۔صنعتی ترقی نے جسطرح چند خاندانوں کے ہاتھوں میں دولت کے انبار لگا دئے ہیں اس نے دنیا میں برابری کے تصور کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔جمہوریت در اصل اس مخصوص گروہ کیلئے دوسروں کو اپنا محکوم بنانے کا آسان راستہ ہے۔جمہوریت کے معنی تو سب کیلئے برابر کے مواقع پیدا کرنا اور ان سے انھیں مستفید کرنا ہے لیکن موجودہ جمہوریت نے امرا کا جو جدید طبقہ پیدا کیا ہے وہ بالکل سمجھ سے بالا تر ہے۔ان کی ذاتی آمدنی کئی مما لک کی کل آمدنی سے بھی زیادہ ہے جس سے پوری دنیا میں عدمِ توازن کا رنگ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔دنیا امیر اور غریب کے دو طبقات میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے اور جمہوریت منہ کھولے یہ سارا منظر دیکھ رہی ہے۔ اسے خود سمجھ نہیں آرہی کہ اس خلیج کو کس طرح سے پاٹا جائے تا کہ محروم طبقات بھی جمہوریت کے فیوض و برکات سے مستفید ہو سکیں۔سچ تو یہ ہے کہ ارتکازِ دولت کی حواہش نے انسانوں کے اذہان کو اس بری طرح سے تسخیر کیا ہوا ہے کہ محروموں کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی بجائے با اثر گروہ حصولِ دولت میں الجھے ہوئے ہیں جس سے جمہوریت کا سارا مفہوم اور معنی ہی بدل گئے ہیں۔اگر جمہوریت کے ان سنہری اصولوں پر ایمانداری سے عمل کیا جاتا جو کہ اس کے بانیوں کے ذہن میں تھے تو وہ خلیج جسکا ہم سب رونا روتے ہیں اس میں کافی حد تک افاقہ ہو جاتالیکن کوئی اس جانب توجہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ دولت سب کی پہلی ترجیح بن چکی ہے۔
دنیا میں انسانوں کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔جمہوریت نے انسانی اذہان پر صرف اتنا اثر ضرور ڈالا ہے کہ دنیا آزادی کی دیوانی بن کر مذہب سے لا تعلق ہوچکی ہے ۔ عیسائیت کہ حد تک تو یہ بات درست ہے کہ لوگوں نے اپنے مذہب کو خیر باد کہہ کر آزادی اور بے راہ روی کی راہ اپنا لی ہے لیکن اسلام کے متوالوں پر جمہوریت کا وہ سحر طاری نہیں ہو سکا جس کی امید مغرب کے دانشور لگائے بیٹھے تھے ۔جنسی تشدد ،آبرو ریزی اور عصمت دری کے جتنے واقعات دنیا کے سب سے بڑے چیمپین امریکہ میں ہوتے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں ۔یورپ کی حالت بھی امریکہ سے مختلف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جمہوریت کی گردان جاری و ساری ہے۔کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ جمہوری نعرے کی اوٹ میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ جائیگی۔مسلمان ممالک میں جنسی تشدد اور عصمت دری کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اب بھی اخلاقی قدروں سے جڑے ہوئے ہیں۔یورپ کی سر توڑ کوشش ہے کہ اخلاقی بے راہ روی کے وہ سارے بیج جس سے مغرب میں اخلاقیات دم توڑ چکی ہیں انھیں اسلامی معا شرو ں میں کاشت کر دیا جائے تا کہ اسلامی معا شرے بھی اسی رنگ میں رنگ جائیں جو مغربی معاشروں کا طرہِ امتیا زہے اور اس طرح مسلما نوں سے آخر ت کا تصور اور خدا پر اٹل یقین کی قوت چھین کر انھیں اخلاقی طور پر کمزور کر دیا جائے اور اس کا سب سے آسان طریقہ مروجہ جمہوری نظام ہے۔مروجہ جمہوری نطام سے سب کچھ خود بخود ہی بدلتا چلا جائیگا اور معاشرہ آزادی کے نام پر بے راہ روی کی اس شاہرہ پر نکل جائیگا جو یورپ مطمعِ نظر ہے لیکن یورپ کی اس طرح کی ساری کوششیں بار آور نہیں ہو رہیں کیونکہ علمائے کرام کی موجودگی اور اسلام کی حقانیت ان کی راہ میں روک بن کر کھڑی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت مسلما نو ں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس محبت نے انھیں بے روی کی دنیا میں قدم رکھنے سے روکا ہوا ہے۔وہ اس محبت کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کیلئے تیار ہیں لیکن اس محبت سے دامن نہیں بچا سکتے۔قدروں کی وہ جنگ جس کا دامن وہ ابھی تک تھامے ہوئے ہیں سرکارِ دوعالمﷺ کی ہی محبت کا کرشمہ ہے ۔ یورپ نے تو اپنے کارندے ہر سو پھیلا رکھے ہیں لیکن مسلمان پھر بھی ان کے جال میں نہیں آ رہے اور یوں انھیں منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ یورپ نے جسطرح فحاشی اور برہنگی کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے وہ اس میں مسلما نوں کو بھی لپیٹنا چاہتے ہیں لیکن انھیں اس میں کامیابی نہیں مل رہی کیونکہ مسلمان جمہوریت کے اس رخ کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ان کا یوں بچ جانا محمدِ عربی ر ﷺ کی خاص عنائت اور نظرِ کرم کا کمال ہے۔مسلمانوں کی مروجہ جمہوریت سے بے رغبتی کی وجہ سے جمہویت ان پر اس طرح مغربی رنگ چڑھانے میں ناکام رہی ہے جو اہلِ مغرب کا ہدف تھا اور یہ بات مغرب کیلئے وجہِِ تشوش بنی ہوئی ہے۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں ترقی صرف جموریت سے ہی ممکن ہے؟ بالکل نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم سے دو سال بعد آزاد ہونے والا ملک چین اس وقت دنیا کی نئی سپر پاور بننے کیلئے پر نہ تول رہا ہوتا جس کے ہاں جمہوریت نہیں ہے۔اس کے برعکس ہم مروجہ جمہو ری نظام کے باوجود بھی ۶۷ سالوں میں کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سر انجام دینے سے محروم ہیں۔اس کی بنیادی وجہ صرف یہی ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری کھیل، محلاتی سازشوں اور غیر سنجہد ہ رویوں نے نظامِ حکومت کو مستحکم بنیادوں پر استوارنہیں ہونے دیا بلکہ اسے اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ ذاتی اقتدار کا منبہ بن کر رہ گیا ہے۔حکمرانوں کی حواہش ہوتی ہے کہ سارے ا ختیارات ان کی ذ ات میں مرکوز ہو جائیں اور وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہوں۔چین میں جمہوریت نہیں ہے لیکن اسکی ترقی کی شرع سب سے بلند ہے ۔لہذا ثابت ہوا کہ ترقی کیلئے جمہوریت نہیں بلکہ ایک مضبوط نظامِ حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔کرپشن اگر جمہوریت کے لبادے میں ہو گی تو وہ اپنے ثمرات دینے سے محروم رہیگی جیسا کہ پاکستاں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔جمہوریت کا راگ اتنی بلند آواز میں الاپا جا رہا ہے کہ پاکستان کے درو دیوار کانپ گئے ہیں لیکن جمہوریت کا حقیقی رنگ کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ایک گروہ ہے جو جائز و ناجائز طریقے سے دولت کے انبار لگاتا جا رہا ہے اور ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی بھی نہیں ہے کیونکہ ان کیلئے لوٹ مار کی ساری راہیں جمہوری نظام پیدا کر رہا ہے۔چین میں یک جماعتی نظام ہے۔کیمونسٹ طرزِ حکومت ہے اورجمہوری آزادیوں کا شور شرابہ نہیں ہے لیکن وہاں پرہرسو ترقی کا دور دورہ ہے کیونکہ ان کے ہاں کرپشن کا نام و نشان نہیں ۔چینی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ انھیں ہر دس سال کے بعد اپنی قیادت کو تبدیل کر دینا ہے اور وہ کئی عشروں سے ایسا کر رہے ہیں۔ان مقرر کردہ د س سالوں میں نئی اور اہل قیادت کو تیار کیا جاتا ہے اور یوں ان کا نظام اپنے ثمرات دے رہا ہے۔وراثتی سیاست اور اس کے تباہ کن اثرات سے چین ابھی تک بچا ہوا ہے۔جس دن چین بھی وراثتی سیاست کے زہر سے آلودہ ہوگیا اس کی ساری ترقی ہوا ہو جائیگی۔وراثتی قیادت سے اجتناب اسلام کا طرہِ امتیاز تھا۔خلفائے راشدین میں اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔ا س دور میں جو شخصیت حکمرانی کے اہل ہوتی تھی وہی خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتی تھی ۔ کسی کا بیٹا ہونا یا کسی کا بیٹی ہونا قیادت کا معیار نہیں تھا۔ہمارے ہاں تو اولاد کے پیدا ہوتے ہی اسے قیادت کا حقدار ٹھہرا لیا جاتا ہے اور پھر ساری زندگی اس کی کاسہ لیسی کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل قیادت سے ملک خالی ہو چکا ہے۔بھانڈ اور ڈھنڈورچی اپنی اپنی جماعتوں کے قائدین کی ایسی ایسی خوشامدیں کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ انسان کی ازلی خواہش عدل و انصا ف اور قانون کی حکمرانی ہے اور جمہوریت کی غرض و غائت بھی یہی ہے یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں جمہوریت کے معنی لوٹ مار کرنا اور دولت جمع کرنا ہے۔جمہوری نظام تشکیل دینے کا مقصد بھی یہی تھا کہ راجہ مہاراجوں،شہنشاؤں اور شہزادوں سے جان چھوٹ جائیگی اور ہر انسان قانون کی نگاہ میں برابر ہو گا۔کسی کا امیر ہونا یا سردار ہونا اسے سزا سے بچا نہیں پائیگا جیسا کہ قدیم معاشروں میں ہوتا تھا کہ بادشا ہ قانون سے بالا تر ہوتا تھا اور اس کے خلاف قانوں حرکت میں نہیں آتا تھا۔ پاکستان میں آجکل شہنشاہانہ طرز کی حکومتیں ہیں اور چند مخصوص خاندان ہر قسم کے احتساب سے بالا تر ہیں بالکل ویسے ہی جیسے پرانے وقتوں کے بادشاہ ہوا کرتے تھے۔کیا اب بھی اس کرپٹ نظا م کو جمہوری نظام سے موسم کیا جائے گا ؟

یہ بھی پڑھیں  تعلیمی ادارے منشیات کیس، صوبوں کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker