تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

جمہوریت اورغیرفطری سیاسی صف بندیاں

zafarجمہوریت کیا ہوتی ہے اور کیاہوتے ہیں اس کے فوائد۔ہمارے ہاں اس سے کسی کوکوئی غرض اورسروکارنہیں ۔اور اگر یہ کہاجائے کہ جمہورت کے راگ الاپتے سیاستدانوں اوراس پر لکھنے والے لکھاری بھی اس کامطلب ومقصداورمعنیٰ سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں توشائد غلط نہ ہو۔اس کے باوجود چاہے سیاسی جماعت ہویاعام آدمی ہرکوئی جمہوریت کا علمبرداربنا پھرتا ہے۔عام اصطلاح میں دیکھاجائے تو جہاں عوام کوفیصلہ سازی کااختیارہو،تشکیل اقتدارعوام کے ووٹ کے ذریعے ہو اوراکثریت جوبھی فیصلہ کرے گی وہ قابل قبول ہوگا یہی جمہوریت کہلاتی ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی جمہوریت کاطرزعمل ہوگا،کسی شخص،علاقے یاادارے کی حق تلفی نہیں ہوگی،عوام کوان کے بنیادی انسانی حقوق فراہم ہوں گے ،عوام کی مشکلات اورعلاقہ کی بنیادی ضروریات کومدنظررکھتے ہوئے موجودوسائل کے اندر حکومتی سطح پرپالیسی مرتب کی جائے گی اور آوازجمہورکاہر لحاظ سے احترام کیاجائے گا،میرٹ اور شفافیت کافروغ اولین ترجیح ہوگی اور حکومت ایساکوئی بھی فیصلہ نہ کرنے کی پابند ہوگی جوعوام کے حقوق سے متصادم ہو یہی جمہوریت ہوگی لیکن سوال یہ اٹھتاہے کہ کیاوطن عزیزکے جمہوری نظام میں یہ سب کچھ موجود ہے ،کیا یہاں عوام کوان کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں جبکہ دکھائی دیتااحوال تویہ ہے کہ یہاں سرکاری اداروں میں شفافیت نام کی کوئی چیزنظر نہیں آتی اورمیرٹ کی دھجیاں سرعام بکھیردی جاتی ہیں۔عوام کو روزگارفراہم کیاجارہاہے نہ ہی مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کومعاشی ریلیف دینے کاکوئی مؤثرپروگرام موجود ہوتاہے۔امن وامان کی صورت حال اس قدرخراب اور غیر یقینی ہوتی ہے کہ کوئی بھی شہری خود کو مالی اور جانی لحاظ سے غیر محفوظ تصور کرتاہے۔توانائی بحران کایہ عالم ہے کہ گھنٹوں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے اور لوگ بجلی کادیدار کرنے کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں۔کمزورطرزحکمرانی کے باعث اداروں کی غفلت ولاپرواہی اور بے حسی کایہ حال ہے کہ غیرمعمولی گرمی کی لہر اور بجلی کی غیراعلانیہ بدترین بندش کے باعث شہرقائد کراچی میں کم وبیش13سو معصوم مردوزن شہری موت کی وادی میں چلے گئے مگر ان کی جانیں بچانے کے لئے متعلقہ اداروں کاکوئی بھی کردارسامنے نہیں آیاجبکہ جمہوریت کی چیمپئن پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اور مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت آگے آکر فوری اقدامات اٹھانے اور معصوم شہریوں کی جانیں بچانے کے برعکس ایک دوسرے کوذمہ دارٹہراتی اورخود کومبرا قراردیتی رہیں۔نظرآتے ان حقائق کی روشنی میں اٹھتاسوال یہ ہے کہ یہ جمہوری نظام ٹھیک کیسے ہوگااورکون اس کواس کی اصل روح کے مطابق صحیح ٹریک پر ڈالے گاآسان جواب تویہی ملتاہے کہ سیاسی جماعتیں ہی اس نظام کودرست کریں گی جو عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتی ہیں جہاں ان کاکام قانون سازی کرنااوراس کوقابل عمل بناناہوتاہے لیکن یہاں سراٹھاتاسوال یہ بھی ہے کہ عوام تومینڈیٹ دے کر سیاسی جماعتوں کوبرسراقتدارلانے میں اپناحق اداکرتے ہیں پھرکیاوجہ ہے کہ حکمران سیاسی جماعتیں اپنے فرائض کی آدائیگی میں ناکام رہتی ہیں اس کے عوامل اگرچہ کئی دیگر بھی ہوسکتی ہیں لیکن بظاہرآسان جواب شائد یہ ہوکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتخابات کی روشنی میں چاہے مقامی حکومتوں کی تشکیل کامرحلہ ہویاقومی اور صوبائی سطح پرکوئی بھی سیاسی جماعت مطلوبہ عددی اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہے جس کے نتیجے میں حصول اقتدارکے لئے مختلف سوچ،نظریہ اور منشورکی حامل سیاسی جماعتوں کاغیرفطری اتحاد تشکیل پاتاہے اور اس غیر فطری اتحاد کے منفی نتائج یہ برآمد ہوتے ہیں کہ اپنی حکومت بچانے کے لئے اتحادیوں کی محتاج حکمراں جماعت کوئی بھی ایسااقدام اٹھانے سے قاصررہتی ہے جوان کے اتحادی جماعتوں کی مرضی ومنشاء کے خلاف ہو۔اس غیر فطری اتحاد کے زیراثروجود پاتی حکومت میں عددی اکثریت کی حامل حکمراں جماعت کی حکومتی مدت مؤثرپالیسیاں بنانے اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کے برعکس سمجھوتوں کی نذرہوکر اپنے اتحادیوں کومنانے میں گزرجاتی ہے۔جائزہ لیاجائے تو1988ء سے لے کر اب تک یہی کچھ ہوتاچلاآرہاہے اور یہی ہمارے جمہوری نظام کی ناکامی کی بڑی وجہ دکھائی دیتی ہے ۔اگریہ کہاجائے کہ سیاسی جماعتیں عوام کوبے وقوف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی توشائد غلط نہیں ہوگا۔ کیونکہ دیکھاجائے توایک دوسرے پر مالی بدعنوانی اور غداری کے سنگین الزامات عائد کرتی سیاسی جماعتیں ہویاایک دوسرے کے خلاف کفرکے فتوے دینی والی مذہبی جماعتیں جب مرحلہ ہوحصول اقتدارکاتواتحاداورگٹھ جوڑ کرنے میں لمحہ تک ضائع نہیں کرتیں۔ کیاالگ الگ سوچ ،نظریہ اور پروگرام رکھتی جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی کاحکومتی اتحاد فطری قراردیاجاسکتاہے،کیا پختون قوم کے حقوق کی بات کرتی عوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی کے اتحاد کوفطری کہاجاسکتاہے، کیا پختون قوم کی وحدت کے لئے جدوجہد کرتی پنجاب مخالف سیاسی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ نواز کاحکومتی اتحاد فطری ہوسکتاہے،پیپلزپارٹی کاق لیگ جسے وہ قاتل لیگ کہاکرتی تھی کے ساتھ اگراتحادہوتوکیایہ فطری اتحادہوگا،پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے اتحاد کوکیانام دیاجائے گاان تمام غیر فطری سیاسی اور تشکیل حکومت کے لئے ٹوٹتی بنتی اور وجود پاتی صف بندیوں کاعمل ہردوربالخصوص پچھلے عام انتخابات سے پہلے اور بعدازالیکشن جبکہ خیبرپختونخوامیں حالیہ بلدیاتی الیکشن سے قبل دیکھنے کوملاہے اورانتخابی امیدواروں کے پوسٹرزاس کی واضح گواہی دے رہے ہیں جبکہ بازار سیاست میں خریدوفروخت کے کاروباراور اشیاء کے گرتے بڑھتے داموں کے کیاکہنے کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن سے قبل ایک دوسرے پر کفر اور انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرنے والی جماعتیں مقامی حکومتوں کی تشکیل کے مرحلے میں سب کچھ بھلاکراور آپس میں شیروشکر ہوکرنئی انتخابی صف بندیوں میں مصروف دکھائی دیتی ہیں ۔اس صورتحال کودیکھتے ہوئے صاف دکھائی دیتاہے کہ سیاست میں واقعی کوئی بات حرف آخرنہیں ہوتی اور فلسفہ سیاست بس حصول اقتدار کانام ہوتاہے جبکہ سیاسی جماعتوں کے دعوے اور وعدے الفاظ کے گورکھ دھندے کے سواء کچھ بھی نہیں ہوتے۔حصول اقتدار کی حرص میں دوڑ لگاتی جماعتوں کے قائدین کویاد بھی نہیں رہتاکہ کل قوم کے سامنے کیاکہاتھاآج کیاکہہ رہے ہیں اور کل جب پھر عوام کی عدالت میں جائیں گے توکیاکہیں گے یاشائد انہیں احساس ہے کہ یادتوعوام بھی نہیں رکھتے اسی لئے توباربارانہیں اقتدارکے ایوانوں میں بھیج کردھوکہ کھالیتے ہیں جمہوریت کے نام پر،حقوق کے نام پر اور انقلاب کے نام پر۔

یہ بھی پڑھیں  انتہا پسند ہندوؤں نے شاہ رخ کو بھارت سے نکل جانے کا کہہ دیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker