تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

جمہوریت کے علمبردار کو خراج عقیدت

sheer awanپیپلز پارٹی کی اصل روح رواں بے نطیر بھٹو کی اس دنیا سے رخصتی کے بعد مرحومہ کے خاوند نے پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالی اورجب ہنگامہ آرائی اور رنج و غم کا مظاہرہ کرتے کچھ جنونی اور جیالے کار کنوں نے کہا کہ پاکستان نہ کپھے تو اس کے جواب میں محترم نے پاکستان کپھے کا نعرہ لگایا۔اب خدا جانے کہ لفظ کپھے پنجابی زبان والا ہے یا سندھی والا۔بحرحال اپنی بہترین عقلمندانہ حکمت عملی سے صدر پاکستان کی کرسی پر براجمان ہوے اور ساڑھے چار سال گزارنے کے بعد ابھی بھی برسراقتدار ہیں۔اس میں انکی قسمت یا ملک کی بد قسمتی کے علاوہ دوسری پارٹیوں سے گٹھ جوڑ میں مہارت کا بھی عمل دخل ہے۔اور اس مہارت پر انہیں سلام ہے۔کیونکہ انہوں نے بڑی دانشمندی سے دوسری پارٹیوں کو اپنے ساتھ لگائے رکھا۔چاہے حلف دے کر یا وزارتوں کا لالچ دے کر جیسے بھی۔بحرحال سیاست میں اس شخص نے تمام پارٹیوں کو چاروں شانے چت کر دیا۔ورنہ جیسے حالات پاکستان میں ہیں انکے مطابق تو اس حکومت کے لیئے چند ماہ گزارنے بھی مشکل تھے لیکن کمال دماغ پایا ہے موصوف نے۔اس لیئے چند پارٹیاں چار دن الگ ہوتی ہیں اور پھر سے انکے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔لوڈشیڈنگ،بیروزگاری،دھماکے،ہنگامے اورکمر توڑتی منہگائی کے باوجود اگر حکومت کی گاڑی میں ایندھن ختم نہیں ہو رہاتو اسکا سہرا انہی کے سر ہے۔
چند روز پہلے صدر صد احترام کا بیان آیا ہے کہ انہوں نے ساڑھے چار سال تک جمہوریت کو چلایا ہے حالانکہ اہل دانش کے مطابق اس نام نہاد جمہوریت کا نام لے لے کے حکومت یہاں تک چلی ہے۔اقتدار کے بھوکے لوگوں کو ڈر ہے کہ کہیں فوج پھر سے چارج نہ سنبھال لے اس لیئے کسی پارٹی کی طرف سے بھی کوئی با اثر اور منظم مزاحمت سامنے نہیں آئی۔یہ دنیا کی پہلی جمہوریت ہے جہاں لوگوں کا جان ومال محفوذ نہیں۔بھوک اور افلاس کے ڈیرے ہیں،محنت کش کو ضروریات زندگی کے ساتھ کفن کے منہگے ہونے کا ڈر ہے اور بیمار اس ڈر سے موت کی دعا مانگتا ہے کہ تدفین کا خرچ بیماری پرہی نہ لگ جائے۔ایسی جمہوریت اگر دو چار سال اور پاکستان میں رہی تو پھر پنجابی زبان والا کھپے صحیح ثابت ہو گا۔
صدر مملکت کی بہت مہربانی کہانہوں نے شکستہ پا جمہوریت کو سہارا دیا اور ساڑھے چار سال تک لڑکھڑاتی جمہوریت کو زمین بوس نہیں ہونے دیا۔لیکن اس جمہوریت نے ملک اور عوام کو کیا دیا؟ اشیاء کی قیمتیں تین گنا ہو گئیں،بجلی ویسے ہی نایاب ہو چکی ہے اور اس حیران کن بات یہ کہ اسکا بجلی کا بل پہلے سے تین گنا ہو گیا ہے باوجود اس کے کہ بجلی دو چار گھنٹے ہی نصیب ہوتی ہے۔پچھلے چار سالوں میں انڈسٹری کا پہیہ جام ہو چکا ہے،جس جمہوریت میں تاجر سڑک پرآ چکے ہوں وہاں غریب مزدور کا کیا حال ہوا ہو گا۔ریکارڈ توڑ قتل و غارت اور چوری و ڈکیتی کے واقعات بھی اس جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت آمریت سے سو گنا بہتر ہے لیکن ایسی جمہوریت تو وطن عزیز کے لیے ناسور جیسی ہے جس میں لوگ امیر سے غریب اور غریب سے غریب تر ہو جائیں،جہاں مزدور کی مزدوری چند نوالوں کے لیے کم پڑ جائے،جہاں سڑکوں پر روزانہ درجنوں لاشے ظلم و بر بریت کی داستان رقم کر رہے ہوں، جہاں عدالتیں توہین و تذلیل سے بے لباس ہو رہی ہوں اور جہاں چند لوگ کرپشن کے باوجود قانون سے مستثنی ہوں اگر ایسے نظام کو جمہوریت کہتے ہیں تو خدا پاکستان کو کبھی جمہوریت نصیب نہ کرے۔خدارا جاگو اور وطن عزیز میں کرپشن سے پاک جمہوریت کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں۔اور اس کے لیے سب سے پہلے تمام اختلافات کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے کرپشن کے خلاف صف بندی کریں اور یہ بات ذہن نشیں کرنا ضروری ہے کہ تعلیم کے فروغ کے بغیر جمہوریت فقط اک خواب ہے۔۔۔
جمہوریت کے علمبردار سے اک سوال یہ بھی ہے کہ جب ملکی انڈسٹری اپنی آخری سانسیں گن رہی ہو،معیشت کی کمر ٹوٹ رہی ہو ،ملکی ترقی اک خواب بے تعبیر لگ رہی ہو،عدلیہ کو خودکشی پر مجبور کیا جا رہا ہو ، برہنہ پا عوام کو برہنہ سر کیا جا رہا ہو اور غربت و افلاس اور منہگائی کا ا ژدھا عوام کو نگل رہا ہو تو کیا ایسی جمہوریت قابل فخر سمجھا جائے؟؟ ،کیا اسے خراج عقیدت پیش کی جائے؟؟
اگرچہ عوام ہمیشہ کی طرح خواب خرگوش ہے لیکن پھر بھی عوامی حلقے اس جواب کے منتظر ہیں۔لیکن شایدحکومت کو پریشانی نہ ہو کیونکہ ھکومتی عہدیداروں کو معلوم ہے کہ یہ سادہ لوح جذباتی عوام پھرسے انکے جذباتی ہتھکنڈوں اور سیاسی چالوں میں آ جائے گی۔ وہ کیا ہے کہ!!!!!
وہ بھی سادہ ہے چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:محکمہ ہائی وے کی مجرمانہ غفلت راولپنڈی میانوالی روڈ قومی شاہراہ کھنڈرات میں تبدیل

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. The thinking of writer is so deep,writer mr. sher Muhammad awan sb present the fradulent activities in diffrent way,i agree to the writer and i have not a sufficient words for the appreciation of writer
    ALLAH bless you.

  2. ap ne bilcul theak kaha, lakin yeh amli iqdamat kon uthaiye ga, Zardari sb akailay iss jurm me mulawis nahee, sub k sub iss tailab main nagay hain, ous ne sub parties ki marzi se 4 and half years lagaiye hain, aur aub new elections main woh log apni bari ka intazar ker rahay hain, aj k nojawaan ko sochna ho , uthna ho ga, deen humari rehnumai kerta hai, hum ko suchay aur haqeeqi nazriye k sath, sahee mahnoo main insaan dost nizam banana ho ga, warna yeh qabiz tabqa pora ka pora mulk kha jaiye ga

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker