تازہ ترینکالم

جمود توڑ دیجیے

fareedپنجاب یونیورسٹی کے تقریباً تمام ڈیپارٹمنٹس کے فائنل ٹرم کے پیپرز وقوع پذیر ہو چکے تھے۔ ہر طالب علم اپنی آرام پسنداور بے فکر زندگی میں غیر معمولی ارتعاش محسوس کر رہا تھا۔ ہر ایک کی کوشش تھی کہ کسی طرح یہ بلا سر سے ٹل جائے۔ ہر کوئی ’’محنت کبھی رائیگا ں نہیں جاتی‘‘ کا معقولہ سچ کرنے پر تلا ہوا تھا چاہے وہ محنت ، مہینوں سے سمٹ کر چند گھنٹوں میں ہی کیوں نہ بدل چکی ہو بہرحال رہتی تو ’’محنت ‘‘ہی ہے جس کے اجر کاطالب ہر طالب علم تھا۔ یہ پیپرز ہی ہیں جس کی بدولت اپنے رب سے رشتہ استوار ہوتا ہے۔ کئی طلباء مسجد میں حاضری دیتے ہیں لائبریری کی دہلیز پر ماتھا ٹیکتے ہیں تو کوئی ایسے بے وفا نکلتے ہیں کہ نہ پوچھئے ۔ ۔۔۔ان کی کوئی خبر ہی نہیں ملتی نہ جانے کون سی سلیمانی ٹوپی پہنے غائب ہو جاتے ہیں۔ صبح جب کمرہ میں امتحان میں اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے کیلئے نظر گھومتی ہے تو موصوف ملتے ہیں۔ تب دل کرتا ہے کہ جائیں اور موصوف کا کان پکڑ کر پوچھیں کہ کس بل میں گھسے ہوئے تھے امتحان کے دن بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں کہ جب نہ کھانے کی فکر ہوتی ہے اور نہ پینے کی ۔ بس انتظار ہوتا ہے تو صرف یہ بلا ٹل جانے کااورجب خدا خدا کر کے اس وبالِ جان سے جان خلاصی ہوتی ہے تو پھر ان لنگوٹیے یاروں کی یاد آتی ہے جن کے بنا زندگی ادھور ی سی لگتی ہے بہت سارے تو ایسے ہوتے ہیں جو باقاعدہ ناراض ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان کے ترلے کرنے کاوقت میسر آتا ہے۔ آخر وہ بھی تو یار دوست ہوتے ہیں صرف دوست کی ایک مسکراہٹ اور ’’چھڈ یار ‘‘کہنے کی دیر ہوتی ہے تو جان تک وار دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جب تک مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ نہ ہوا تو یہ جان نہیں چھوٹنے والی۔۔۔ اور جب وقت ایسا ہو خوشی منانے اور خوشیاں باٹنے کا تو یارو ں کی یاری میں کود پڑنے میں ہی مزہ ہوتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی امتحان کا آخری دن تھا ہر طالب علم کے چہرے کی رونق دو چند تھی ۔ BSSEکے چند طلبا ء نے بھی موج مستی کا پلان بنایا کوشش کی گئی کہ اس کارِ خیر میں سارے دوستوں کو شریک کیا جائے۔ مگر کچھ بہت ہی قریبی یار ہی طے شد مقام پر بہت دیر سے پہنچ پائے سلمان جاوید، مزمل اکبر، عمر فاروق ، عماد ملک، سلطان بٹ ، حماد احمد ، حنین شاہد اور فرحان تسلیم یہ تھی وہ وفاکی فوج جن کا سپہ سالار فرحان تسلیم تھا جو اس وقت شدید غصہ میں متبلا تھا بات ہی ایسی تھی غصہ آنا یقینی بات تھی ۔ اس فوج کا ایک بہادر سپاہی علی احمد کا کچھ پتہ نہ تھاکئی فونز کیے گئے لیکن وہ تھا کہ گھوڑے بیچ کر محوِ خواب تھا خیر طے یہ پایا کہ جب ملے گا تو ’’درگت‘‘ بنائیں گے ۔ پھر یہ وفا کی فوج ہلہ گلہ کرنے نکل پڑی پہلے فورٹریس اسٹیڈیم کی طرف ہلہ بولا گیا تب بھوک کا احساس جاگا تو مال روڈ سے جاتے ہوئے طے یہ پایا کہ چمن آئس کریم پر حاضر ی دے کر اپنے اپنے آشیانے کی طرف روانہ ہوں گے۔ لیکن پھر اچانک سپہ سالار نے سپاہیوں کی اندرونی کیفیت کو جانچتے ہوئے پر تعیش کھانے کا حکم نامہ جاری کیا اور پھر یہ وفا کی فوج پرانی انار کلی میں جا رکی ۔ ہنسی مذاق ، شغل میلا اور سر کھجائے گئے کہ ویٹر آیا مینیو کارڈ ہاتھ میں تھامے لیکن قدرت نے انہیں کچھ کھانے کی مہلت کہاں دی، ایک زور دار دھماکا ہوا ۔۔۔اور یہ فوج جسے دیکھ کر کوئی یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ ان پر قیامت ٹوٹنے والی ہے اور دنیا اجڑنے والی ہے، سب ایک دھماکے کی نظر ہو گئی وہ جو دوسروں کی رگوں میں زندگی بن کر دوڑتا تھا وہ سپہ سالار سب کے دکھ درد اکیلا ہی سہتا چلا گیا جیسے فرشتوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہو کہ میرے سپاہیوں کی طرف قدم نہ بڑھاؤ ۔ فرحان تسلیم شہید ہو چکا تھا حنین فرحان کو اٹھانے کی کوشش کر رہاتھا ۔ قوم کے یہ معمار زخموں سے چور کراہ رہے تھے ۔ قوم کے افراد فوٹو گرافی میں مصروف تھے ان معماروں کو دو گھونٹ پانی تک نہ پلا رہا تھا ۔ کوئی ان زخموں سے چور معصوموں کو ریسکیو نہ کر رہا تھا کیا صرف ریسکیو 1122 کا ہی فرض بنتا ہے ،کیا صرف 15یا ایمرجنسی نمبرز پر کال کر دینا ہی کافی ہے ۔ فرحان تسلیم جو ایک دردِ دل رکھنے والا، ہونٹوں پر ہر وقت مسکراہٹ سجائے رکھتا تھا جو پانچ بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا تھا جو پڑھائی میں کلاس میں اول رہا تھا اور جس نے کچھ ہی دنوں پہلے فائنل کے پیپرز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن برقرار رکھی تھی ۔ وہ فرحان کہ جس کی مسکراہٹ میں ا س کے دوستوں کی زندگی تھی وہ ان سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر جا چکا تھا۔کون اُ سے بتائے کہ علی احمد آج بھی خود کو کوس رہا ہے کہ کاش میں بھی فرحان کے ساتھ ہوتا آخری لمحات اس کے گزارنے کی سعادت مل جاتی ۔ کون فرحان کو بتائے کہ علی آج تک اپنے گھر نہ جا سکا وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ڈاکٹر عمیربابر بھی اک پل چین سے بیٹھ نہ پائے ہیں استاد روحانی باپ ہوتا ہے۔ اس کا عملی نمونہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر منصور سرور کی بے قرار طبیعت دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ باغباں اپنے باغ کے اجڑ جانے پر کیسا محسوس کرتا ہے۔ کوئی جا کر منصور سرور سے پوچھے کہ جس نے اس باغ کے ایک ایک پھول کی آبیاری کی ہو اور اس کی آنکھوں کے سامنے برباد کر دیا گیا ہو۔ فرحان کو کون بتائے کہ Calculusپڑھانے والی میڈم سمیرا اکبر کہ جسے صرف اسی کا نام یاد ہے پوری کلاس میں وہ اب بھی یہ یقین کرنے سے قاصر ہے کہ فرحان جا چکا ہے۔ وہ اتنی بے قرار ہیں کہ فرحان کو 91سکور بتا کر اس
کی فیلنگز کو دیکھنا چاہتی ہیں ۔PUCITکا ہر استاد ، ہر طالب علم اس کے غم میں نڈھال ہے اب بھی سٹر ک کے درمیان کرکٹ کھیلتے ہوئے طلبا ء میں فرحان جھلکتا ہے گو کہ فرحان ہم سے بہت دور جا چکا ہے لیکن اس کی مسکراہٹ ہمیں یہ پیغام دے گئی ہے کہ زندگی کو ہنس کر گزار دو۔ فرحان تسلیم کے بھائی سلمان تسلیم اور والد محمد تسلیم کا صبر اور حوصلہ لائق تحسین ہے وہ ہر پل فرحان کے زخمی دوستوں کے درمیان موجود ہیں وہ انہیں بھی فرحان ہی سمجھتے ہیں پنچاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر مجاہد کامران نے فرحان تسلیم کے نام سے ایک سکالر شپ پروگرام کا انعقاد کرنے کا ارادہ بنایا ہے تا کہ اس کی یادیں تازہ رہیں جو یقیناً خوش آئندبات ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریو ں کا احساس کریں اور اس سو چ کو شکست دیں جو ہماری خوشیاں ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں اگر ہم یونہی بکھرے رہے تو بربادی سے کوئی طاقت ہمیں بچا نہ سکے گی۔ کیونکہ دشمن ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہماری کمزوریو ں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں روند دینا چاہتے ہیں ۔ نبی محترم ﷺ کی یہ حدیث کہ’’ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘‘ کا عملی نمونہ پیش کریں ۔ ملک ہمارے پاس موجود ہے ،قوم کی ہمیں ضرورت ہے۔وہی قوم جو 1947ء ؁ میں قائد کے پیچھے کھڑی تھی ۔ یہ سب ممکن ہے اگر ہماری سوچ ایک ہو جائے ۔دشمن تو چاہتا ہی یہی ہے کہ ان پرسکون پانیو ں میں ہلچل ہو یہاں پر بھی سٹرکیں لہو رنگ ہوں ، یہاں بھی چمن اجڑیں کون روکے ان تباہیوں کو ۔۔۔؟یقیناً میں اور آپ پوری قوم کوا ٹھ بیٹھنا ہے اس ظلم کے خلاف اور اس نیٹ ورک کو نیست و نابود کر ڈالنا ہے جو ہمارے معصوم ہم سے چھین رہا ہے۔ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں فرحان شہید کیلئے دعائے مغرفت اور زخمی ساتھیوں کیلئے دُعا گو رہیے۔ پاکستان کے امن کیلئے دُ عا گو رہیے۔ طلباء نے ٹھان رکھا ہے کہ فرحان کا خون رائیگاں نہ جانے دیں گے۔ حکومت سے بھی اپیل ہے کہ ان کا ساتھ دے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker