تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

جمشید دستی کے انکشافات اورہمارے اراکانِ اسمبلی

پارلیمنٹ لاجز میں ماہانہ چارسے پانچ کروڑ روپے کی شراب پی جاتی ہے،ہروقت چرس کی بوپھیلی رہتی ہے،پارلیمنٹ لاجز میں عیاشیاں ہوتی ہیں،لڑکیاں عیاشی کے لئے منگوائی جاتی ہیں،چندروزقبل مجرابھی ہواسپیکرکواس کی ویڈیو فراہم ہوئی تھی،پارلیمنٹ لاجزمیں شراب اور چرس کیسے پہنچتی ہے اس کی تحقیقات کرائی جائیں اور لاجزمیں رہنے والے اراکین اسمبلی کامیڈیکل ٹیسٹ کروایاجائے ۔27فروری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پراظہارخیال کے دوران سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے یہ سنگین الزامات عائدکئے ہیں مظفرگڑھ سے آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ۔ان کامزید کہنایہ تھاکہ یہاں غیرقانونی اور غیراخلاقی سرگرمیاں ایک عرصے سے ہورہی ہیں تاہم پولیس اور دیگرسیکورٹی اہلکارڈرکی وجہ سے خاموش ہیں۔اگرچہ متحدہ قومی موومنٹ کے نبیل گبول سمیت کئی دیگراراکین اسمبلی نے دستی کے اس مؤقف کی حمایت کی ہے۔ دستی کے الزامات کے بعد میڈیاکے پوچھے گئے سوال پرنبیل گبول کاکہنایہ تھاکہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں لڑکیاں توآتی ہیں اور پارلیمنٹ لاجز میں آدھی رات کو انہوں نے خود ڈائنوں کوگھومتے پھرتے دیکھاہے ۔ سپیکرقومی اسمبلی آیازصادق نے جمشید دستی سے ان کے عائدکردہ الزامات کے ثبوت مانگے ہیں۔دوسری جانب وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان اورپانی وبجلی کے وزیرمملکت عابد شیرعلی سمیت حکومت اور حزبِ اختلاف کے اکثریتی اراکین نے جمشید دستی کے انکشافات اور الزامات کومضحکہ خیزاوراراکین پارلیمنٹ کی کردار کشی کی مہم کاحصہ قراردیاہے اور کہاہے کہ ان کے اس اقدام سے ایوان اور منتخب ممبران کاوقارمجروح ہوا ہے۔عابد شیرعلی نے دستی کے الزامات پرردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ وہ بوکھلاہٹ کے شکارہیں ۔ان کے مطابق جمشیددستی مظفرگڑھ پاورپلانٹ میں تیل اورمظفرگڑھ میں بجلی چوروں کے سرغنہ ہیں۔پارلیمنٹ لاجزمیں غیرقانونی سرگرمیوں کے الزامات کویکسرمستردکرتے ہوئے وزیرداخلہ کا کہنایہ ہے کہ وہاں نہ صرف ممبران پارلیمنٹ رہتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی ہوتے ہیں۔ان کے مطابق انہوں نے پارلیمنٹ لاجزکے سیکورٹی اہلکاروں سے تفصیل کے ساتھ حقائق معلوم کئے ہیں اور ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں جودستی نے عائد کردیئے ہیں۔بہترہوتا اگراسمبلی فلورپر بولنے کی بجائے جمشید دستی سپیکرکوثبوت فراہم کرتے ۔ادھرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن نے سوال اٹھایاہے کہ کیا باقی دنیا بالکل پاک صاف ہے گند صرف اراکین اسمبلی میں ہے ۔دیربالا سے جماعت اسلامی کے ممبرقومی اسمبلی طارق اللہ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ دستی کے ان الزامات سے تاثریہ ملے گاکہ تمام ممبران ایسے ہیں۔سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کاکہنایہ تھاکہ آئندہ دنوں میں ممبران کی جعلی ٹیپس بھی سامنے آئیں گی۔جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکشافات کرکے پارلیمنٹ لاجزکوعیاشی اورمنشیات کے استعمال کااڈہ قرار دینے والے جمشیددستی کااگلے روز نہ صرف کہنایہ تھاکہ انہیں سستی شہرت کی کوئی ضرورت نہیں جودیکھاوہی بتایا۔ان کے پاس ویڈیوموجودہے جس میں چہرے صاف دکھائی دیتے ہیں اور یہ ویڈیو وہ سپیکرکودیں گے ۔ وزیرداخلہ نے سیکورٹی اہل کاروں سے معلومات لی ہیں بہتر ہوتا اگر وہ ان سے بھی بات کرتے بلکہ اسی دن ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں شراب کی بوتلیں بھری بوری بھی اٹھالائے اور ان کادعویٰ یہ تھاکہ یہ بوتلیں میڈیاکے بعض نمائندوں کی موجودگی میں لاجزسے جمع کی گئی ہیں ۔یہ بھی سننے میں آیاہے کہ انکشافات کے اگلے دن کسی نے پارلیمنٹ لاجزمیں جمشید دستی کے کمرے کے باہر شرب کی بوتل رکھی تھی۔ دوسری جانب یہ خبربھی سننے میں آئی کہ جمشید دستی کی جانب سے مذکورہ سنگین الزامات عائد کرنے کے واقعہ کے اگلے ہی روز پارلیمنٹ لاجزکے ڈائریکٹرعشرت وارثی کوفوری تبدیل کران کی جگہ علی مراد کو نیا ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجزمقررکیاگیاہے۔ دیکھاجائے تو یہ معاملہ اب محض جمشید دستی کی جانب سے اسمبلی میں الزامات عائدکرنے تک محدودنہیں رہابلکہ پنڈورابکس کھلنے کے بعد الزام درالزام اور جوب در جواب کا ایک سلسلہ چل پڑاہے ۔ اگرچہ دستی کی الزامات تاحال الزامات ہی ہیں اور جب تک وہ ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لاتے تب تک کسی کوموردالزام ٹھرایاجاسکتاہے نہ ہی ان الزامات کی کوئی اہمیت بنتی ہے۔ جبکہ وزیرداخلہ چودھری نثارکایہ کہناکہ بہتر ہوتااگرجمشیددستی اسمبلی فلورپربولنے کی بجائے سپیکرکوثبوت اورشواہد فراہم کرتے بہرصورت وزن رکھتاہے۔اگرچہ کسی کادفاع کرنامقصود نہیں تاہم اٹھتا یہ سوال اہم ہے کہ سارے پارلیمنٹیرینزتوغیراخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اگر جمشید دستی کے پاس واقعی ٹھوس ثبوت ہیں تو تمام ممبران اسمبلی کے کردارپرسوالیہ نشان لگانے کی بجائے انہوں نے ملوث اراکین کے نام بتائے کیوں نہیں۔حالانکہ ان کے نام اسمبلی فلورپر بتا دیتے،اب بتائیں یاتب بتائیں جمشید دستی اپنانام توصیغہ رازمیں نہیں رکھ سکتے اور اگر کسی بھی ممبراسمبلی کوواقعی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث پاکرکارروائی کانشانہ بنایاگیاتوان کی نظرمیں ذمہ دارتودستی ہی ہوں گے ۔پارلیمنٹ لاجزمیں عیاشی،شراب نوشی اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے آزادرکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے سنسنی خیزانکشافات اورغیرمعمولی الزامات کے درست اور غلط ہونے سے متعلق ابھی وثوق سے نہیں کہاجاسکتا اور یہ بھی کہ الزامات عائد کرنا آساں مگران کوثابت کرنابہت مشکل ہوتاہے اور اگر انہیں پارلیمنٹ لاجز سے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button