ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

شہدائے جموں اور مقبو ضہ کشمیر

پو ری دنیا میں انسانی حقوق اور عدل و انصا ف کا ڈ ھنڈورا پیٹنے وا لے سینکڑو ں ادارے کمر بستہ ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق دنیا میں ظلم و بربریت اور نا انصا فی کی جڑیں کا ٹنے میں مصروف عمل د کھا ئی دیتے ہیں ۔ان کی لا کھ کو ششو ں اور عملی فکر وں کے با وجو د
آ ج کئی سال گز ر نے کے بعد بھی خطہ کشمیر کا مقبو ضہ علا قہ بھا رتی فو ج کی عبرت ناک سرگر میوں کا محور اور منبع د کھا ئی دیتا ہے۔ دنیا
میں بسنے وا لے عدل و انصاف کے پجاری اور حق کے نام نہاد منصف اس سر زمین میں بسنے والے لو گو ں کے سا منے ایک خا موش
بے بسی اور بے چا رگی کا نشان د کھا ئی د یتے ہیں ۔اس سلسلہ میں دنیا کی قیادت کے دعویدا ر اور سپر پا ور کے ٹھیکیدار ایک لا چار عورت کا کردار اداکر رہے ہیں ۔انہیں دنیا کے خطے میں بسنے وا لے مسلما نو ں کی د ہشتگر دیا ں اور منفی پروگرام تو دکھا ئی د یتے ہیں لیکن اس
مقبو ضہ علا قہ میں بسنے والی خوا تین کی تار تار ہو نے والی عصمتیں اور کٹے ہوئے مظلو مو ں کے سر دکھا ئی نہیں دیتے ایسا محسوس ہو تا
ہے جیسے اس نگر میں پہنچ کر ان کی بینائی ختم ہو جاتی ہے اور ان کے احساسات اور جذ بات حرکت کر نا چھو ڑ دیتے ہیں ۔
رکھتا ہے وہ منصف سے وکیلو ں سے مراسم مجرم کو عدا لت سے سزا کیسے ملے گی
جموں کے مسلمانوں کے قتل عام پر آج کی مہذب دنیا بھارت پر فرد جرم عائد کرکے سزا دے سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے اس کیس کا وکیل کون بنے گا اور عالمی سطح پر یہ کیس کون لڑے؟ اگر جاپانی سپریم کورٹ 6؍اگست 1945ء کو ہیرو شیما پر ایٹم بم گرائے جانے سے متاثر ہونے والے جنوبی کوریا کے چالیس شہریوں کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے سکتی ہے مرحومین کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرسکتی ہے۔ تو جموں کے بے گناہ شہداء کی عالمی سطح پر شنوائی کیوں نہیں ہوسکتی۔ اُنکے وارثوں جو آج زندہ ہیں، کے زخموں کو کیوں مندمل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے یہ کام کس کے ذمہ لگایا جاسکتا ہے۔ حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر یا کشمیری عوام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مملکت کشمیر کی مسلم عوام دنیا کی کسی بھی مملکت کی عوام سے حق اور صداقت کیلئے قربانیاں پیش کرنے میں پیچھے نہیں رہی۔ بھارت کے مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم کا واقعہ ہو، فلسطین کا مسئلہ ہو، افغانستان پر روسی یلغار ہو، بنگلہ دیش میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کی قتل و غارت گری کے واقعات ہوں، افغانستان ، عراق یا دوسری کسی مملکت پر امریکی قبضہ اور مظالم ہوں، سری لنکا پر بھارت کی طرف سے فوج کشی ہو۔ غرض کہ دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں اور آزادی پسند عوام پر ظلم ہو کشمیریوں نے ہمیشہ اس کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور ظلم کی مذمت کرتے رہے۔ احتجاج کرتے کرتے کشمیری عوام نے جانوں کی قربانیاں بھی دیں۔ کشمیر کی تاریخ ان واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
سال کا ہر دن کشمیریوں کا یوم شہداء ہے۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے ہر روز کشمیری عوام بھارتی غاصبانہ قبضے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے دوران مالی اور جانی قربانیاں دیتے رہے ہیں۔ تقسیم ہند سے پہلے 1931ء اور 1947ء کے عرصے کے درمیان کشمیری مسلمانوں نے اپنے حقوق اور کشمیر کے اندر جمہوری و ذمہ دارانہ حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد کے دوران بھی قربانیاں دیں۔ اس عرصہ میں 13؍جولائی 1931ء کا دن یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی آزادی کے بعد 6؍نومبر 1947ء یوم شہدائے جموں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 13؍جولائی 1931ء ’’یوم شہداء کشمیر ‘‘ اور 6؍نومبر 1947ء’’ یوم شہدائے جموں ‘‘ دونوں ایک ہی شاخ کے دو پھول ہیں۔ جموں کے شہداء اور کشمیر کے شہداء سب ریاست جموں و کشمیر کے شہداء ہیں۔ سب نے حق اور صداقت کیلئے جانیں دیں۔ یہ سب محترم ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین
وطن چمکتے ہو ئے کنکر وں کا نا م نہیں یہ تیر ی روح تیرے جسم سے عبارت ہے
13؍جولائی 1931ء کو سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر مسلمان کس جرم کی پاداش میں شہید کئے گئے۔ وہ بے قصور تھے۔ وہ ایک حریت پسند عبدالقدیر نامی شخص کی سینٹرل جیل کے ایک بند کمرے میں لگی عدالت میں سماعت کے سلسلے میں جمع ہوئے تھے۔ حکومت نے ان نہتے مسلمانوں کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ڈوگرہ پولیس کو ان پر اندھا دھند فائرنگ کا حکم دیا۔ اس فائرنگ سے 22مسلمان شہید ہوئے۔ ان کی یاد میں آج تک یہ دن 13؍جولائی یوم شہداء کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کشمیری قوم ہر سال اس دن پر خصوصی پروگراموں کا اہتمام کرتی ہے۔ شہداء کی قربانی اور جذبہ ایثار کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دن پوری ریاست کی عوام، پاکستان میں مقیم کشمیری اور دنیا میں بسنے والے کشمیری اور حریت پسند بڑے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔آ ج حر یت پسند و ں کو دہشتگر د اور دہشتگر دوں کو حکمرانی سے نوازا جا رہا ہے۔شہدا ء جمو ں دنیا میں بسنے وا لے تما م مسلما نو ں اور با الخصوص کشمیر یو ں سے اس بات کا عہد لیتے د کھا ئی د یتے ہیں ۔کہ ہمارا خون اس خطہ کی بنیا دوں میں رچابسا ہے اس کے امین اور محافظ اپنے اسلاف کا لہو رائیگاں
نہیں جا نے دیں گے اور جس حقیقی مقصد کے تحت یہ جان ومال کی قربا نیا ں دی گئیں اس کا سودا نہ ہو جائے اور اس مجبور و بے بس عوام کے حق خود ارایت پہ کوئی ڈا کہ نہ ڈال دے۔
متحدہ ہندوستان تقسیم ہونے کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کا وجود میں آنا بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کیلئے ناقابل برداشت تھا۔ ان انتہا پسند ہندوں کی سرپرستی کیلئے وزیر داخلہ سردار پٹیل اور وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ حکومت میں بھی موجود تھے۔ بھارتی حکومت نے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کی پس پردہ حوصلہ افزائی کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرایا۔ یہ لہر راشٹریہ سیوک سنگھ اور جن سنگھ کے ہاتھوں جموں کے صوبہ تک پہنچائی گئی۔ ان دونوں تنظیموں کی حوصلہ افزائی ڈوگرہ حکومت کررہی تھی۔ صوبہ جموں اور لداخ میں مسلمانوں کی وجہ سے فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے میں ہندو انتہا پسند تنظیمیں ناکام رہیں۔ لیکن جموں صوبہ کے اندر حکومتی سرپرستی میں آر ایس ایس اور جن سنگھ مسلمانوں کی قتل و غارت گری کرنے میں کامیاب رہے ۔ جن علاقوں میں مسلمان اپنے اہل عیال اور احباب کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ کچھ لوگ جموں کی طرف چل پڑے اور کچھ پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سلسلہ اگست کے مہینے سے شروع ہوا۔ جموں کے اندر ہزاروں مسلمان جمع ہوئے۔ جموں شہر کی مسلمان فلاحی تنظیموں نے ان کے رہنے اور کھانے کا بندوبست کیا۔ کچھ لوگ پاکستان کی طرف انفرادی طور پر چل پڑے۔ جموں شہر میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ ان سب لوگوں نے پاکستان ہجرت کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور انتظامات کو آخری شکل دی۔ ٹرانسپورٹ کی کمی تھی۔ زیادہ تر لوگ پیدل سفر کرنے پر تیا رہوئے۔ ایک منظم پروگرام کے تحت مسلمان پاکستان کی طرف روانہ ہونا چاہتے تھے۔ اسی دوران ڈوگرہ انتظامیہ نے ایک سازش کے تحت اعلان کیا کہ ’’پاکستان جانے والے خواہش مندوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے‘‘۔ اس کے بعد انہیں ایک خاص مقام پر جمع ہونے کیلئے کہا گیا۔ یہاں سے بسوں او رٹرکوں میں لاد کر آگے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یکم اکتوبر سے ہی جموں شہر کے ارد گرد مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تھا اور نومبر کے مہینے تک تمام ضلعوں میں مسلمان بستیاں نیست و نابود کی گئیں۔ انتہاپسند ہندوؤں کے ہاتھوں دریائے توی کے ارد گرد شہید ہونے والے بے گناہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی شہادت کی گواہ دریائے توی کے دو کنارے اس میں بہنے والا پانی اور اوپر سے اڑنے والی ہوا ہے۔ توی کے علاقے میں ہزاروں بے گناہوں کا خون کیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے جموں میں منعقد ہونے والے ایک کنونشن میں شرکت کرنے والے سوپور کے ایک رہنما عبدالخالق لون نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’’جب ہم چند ہم خیال دوست کنونشن سے فارغ ہوکر دریائے توی کے کنارے پر ایک اجڑی ہوئی مسلمان بستی کی طرف گئے۔ وہاں فضا میں عجیب و غریب آوازیں گونج رہی تھیں۔ یہ ان بے گناہ شہداء کی روحیں تھیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ یہ روحیں ہم پر حملہ کررہی تھی۔ ہم خوف زدہ ہو کر اپنے کنونش کیمپ کی طرف چلے گئے۔ کافی دنوں تک یہ خوف ہم سب دوستوں پر طاری رہا۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا ظلم تھا‘‘۔
ڈوگرہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ مقام پر ہزاروں مسلمان پاکستان جانے کیلئے جمع ہوئے۔ جموں شہر سے روانہ ہونے والے قافلوں میں مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے جوان، امیر غریب سب دل میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ‘‘ محمد الر سول اللہ ﷺکلمات زبان پر ورد کرتے کرتے آگے بڑھ رہے تھے۔
5اور 6؍نومبر 1947ء کو پاکستان براستہ سیالکوٹ روانہ ہونے والے قافلوں کو بے دردی سے ایک منظم سازش کے تحت قتل کیا گیا۔ پاکستانی سرحد کے قریب ایک جگہ ان قافلوں کا راستہ روکا گیا۔ شرکائے قافلہ کو بندوقوں، شمشیروں، نیزوں، کلہاڑیوں اور چھریوں سے تہہ تیغ کیا گیا۔ قاتلوں میں ڈوگرہ حکومت کے اہلکاران، آر ایس ایس، جن سنگھ اور دیگر انتہا پسند گروہ ملوث تھے۔ بھارتی پنجاب کے انتہا پسند ہندو اور سکھ بھی ان قاتلوں میں شامل تھے۔ مشرقی پنجاب اور دہلی کے علاقوں میں اس وقت فرقہ وارانہ فسادات عروج پر تھے۔ ان علاقوں سے انتہا پسند جموں آکر آر ایس ایس اور جن سنگھ کی مسلم کش سازش میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت قافلوں میں موجود نوجوان اور جسمانی طور پر طاقتور افراد کو شہید کیا گیا۔ عورتوں کو اغوا کیا گیا۔ ضعیف مرد اور عورتوں کو مارا گیا اور پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا۔
جموں کے مسلمانوں کا قتل عام اور یکطرفہ فسادات تاریخ کے بدترین واقعات ہیں۔ پورے صوبے میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے ہی مکانوں میں آگ لگا کر جلادیا گیا۔ قیمتی اشیاء چھین لی گئیں۔ عورتوں کو اغوا کیا گیا۔ ان کی عصمت تار تار کی گئی۔ مسلمانوں کی جائیداد پر قبضہ کیا گیا جو ابھی تک بدستور قائم ہے۔ اکتوبر، نومبر 1947ء کے مہینوں میں فسادات اور ظلم نے ایک عام آدمی سے لیکر قومی رہنما چودھری غلام عباس جیسے لوگوں کو بھی زخم دیئے۔ ان فسادات میں مسلم اکثریت والا شہر جموں کا ہر گھر تباہی کا منظر پیش کررہا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اس تباہی او ربربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے ’’بھارت‘‘ کیونکہ 13؍جولائی 1931ء کے قتل عام کی ذمہ داری مملکت کشمیر کی ’’ظالم و جابر‘‘ ڈوگرہ حکومت تھی۔ جبکہ 6؍نومبر 1947ء کے مسلمانوں کی قتل و غارت گری کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ فسادات سے 9روز قبل 27؍اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر پر فوجیں اتار کر قبضہ کیا تھا اور ڈوگرہ انتظامیہ کی بھاگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں تھی۔ اگر بھارت چاہتا تو کسی شہری کا ناخن تک نہ ٹوٹتا اور کسی کے چھت کی گھاس کا تنکا بھی نہ اڑتا مگر بھارت نے جموں کے اندر مسلمانوں کا قتل عام ایک طے شدہ سازش کے تحت کرایا۔ مسلمانوں کو تہہ تیغ کرکے صوبہ جموں کو ہندو اکثریتی صوبہ بنادیا گیا۔ بھارت نے صوبے کو اپنے لئے کھیل کا میدان بنادیا۔ کشمیر وادی کے اندر مسلمان اکثریت میں ہونے کی وجہ سے بھارت جو کھیل وہاں نہ کھیل پاتا ہے اُسے جموں میں کھیلتا ہے۔اس کی ۸ لاکھ غا صب فوج کو د یکھنے والی آ نکھ شاید اس
دنیا میں بنی ہی نہیں ۔جو ان کی بد یا نتی اور مظلوم کشمیر یو ں کے حق کی خا طر آ واز بلند کر سکے۔
آ نکھ جو کچھ د یکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں محو حیرت ہوں کہ د نیا کیا سے کیا ہو جا ئے گی
60سال قبل جموں کے فسادات رونما ہوئے۔ قوموں کی تاریخ جدوجہد میں یہ کوئی زیادہ لمبا عرصہ نہیں ہوتا ہے۔ 13؍جولائی کے سانحہ اور6؍نومبر 1947ء کے قبیح، دلخراش اور وحشیانہ قتل عام کے متاثرین اور چشم دید گواہ اب بھی زندہ اور صحیح و سلامت ہیں۔ اُنکی آنکھوں سے وہ تڑپتی جانیں، اغواہ شدہ عورتیں کبھی بھی اوجھل نہیں ہوسکتیں۔ وہ جموں کے اس سانحے پر گواہی پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگر یہودیوں، سریوں اور نازیوں پر کئے گئے مظالم پر موجود ہ دور میں کسی ملک پر سپر پاور کی طرف سے فرد جرم عائد کرکے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔ توبھارت پر جموں کے مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے فرد جرم عائد کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے اور بھارت پر پابندیاں عائد کروانے کیلئے کوششیں کرے۔ نازیوں اور یہودیوں کے مقابلے میں یہ کیس بالکل تازہ ہے۔ کشمیر اور پاکستان کے دانشوروں کو اس پر سوچنا چاہئے۔ غیر سرکاری تنظیموں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے طور پر جموں کے مسلمانوں کے قتل عام پر اپنی کاوشیں کریں۔ اگر ہم بھارت کو اس سانحے میں عالمی سطح پر سزا دلوانے اور رسوا کرانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ شہداء جموں اور شہدائے کشمیر کے مشن اور مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے ایک بڑی خدمت ہوگی۔آ ج
ایسے لو گو ں کو مسئلہ کشمیر پر اتھا رٹی اور عہدوں سے نوازا جا رہا ہے جو سرے سے ہی نا انصا فی اور لا قا نو نیت کی پیداوار ہیں جو لو گ پا کستان کے وجود اور قیام کے خلاف تھے۔ جن کے اسلاف بر ملا اس بات کا اظہا ر کرتے رہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم تقسیم بھارت کے کبیر ہ گناہ میں شامل نہ تھے ۔ ہمیں اندرونی اور بیرونی سطح پر اپنے محا سبہ کی ضرورت ہے ۔ورنہ ان عظیم عورتو ں کی لٹی ہو ئی عصمتو ں اور شہدا ء کے خون سے بغا وت کر نے وا لو ں میں ہم بھی شامل ہو جا ئیں گے ۔اور ان کی بے چین روحیں ہمارا چین و قرار بھی ضرور چھین لیں گی ۔
خطر پسند طبعیت کو ساز گار نہیں وہ گلستاں کہ جہا ں گھات میں نہ ہو صیاد

یہ بھی پڑھیں  سی ای اوڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ساہیوال نے صوبائی انفارمیشن کمشنر کے احکامات کو ماننے سے صاف انکار کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker