ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

جا نشین میر جعفر میر صادق اور آئی ایس آئی

سچ اچھا پر اس کے جلو میں ہے زہر کا پیالہ بھی تم بھی کوئی سقراط ہو کہ زہر پیو خا مو ش رہو
حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور بھی اچھا تم بھی کوئی منصور ہو کہ سولی پہ چڑھو خا مو ش رہو
حضرت واصف علی واصف فرما تے ہیں بے حس زندگی ،ایک دوسرے کے ساتھ اجنبی کی زندگی ، مقا بلے کی زندگی ، اپنے آپ میں پیسہ زیا دہ رکھنے کی زندگی اور پیسے کو لیور بنا کے سما ج کو ما رنا یہ سب آپ کو مغرب نے سکھا یا ہے اور پھر بھی آپ اپنا انجام مشرقی چا ہتے ہیں !خفیہ سراغ رساں اداروں اور صحا فت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ جہا ں صحا فی مختلف مسائل کی کھو ج لگا کر انو یسٹی گیشن رپورٹنگ کے ذریعہ سے خفیہ سے خفیہ خبر کو بھی منظر عام پر لے آتا ہے اسی طرح سے سرا غ رساں ادارے سے وا بستہ افراد مختلف انوا ع کے مسائل ، معاملا ت اور معلو ما ت اکھٹی کر کے اپنے سینے میں محفوظ کر تے اور چھپا تے ہو ئے اپنے آفیسرز کو پہنچا دیتے ہیں دونو ں کا کام مشترکہ ضرور لیکن ایک رزا کو افشا ں اور دوسرا دل میں چھپا ئے سالہا سال زندگی کے گزار دیتا ہے ۔ ایک صا حب نظر صو فی اور درویش کی طرح اللہ رب العزت نے ظا ہر و باطن کی حقیقت سے آشنائی کی قوت سراغ رساں ادارے کے اہلکا ر کو دے رکھی ہے جس طرح سے آنکھ اور کان کے بغیر انسان اندھا اور بہرہ ہے اسی طرح خفیہ اداروں کے بغیر معاشرہ اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی خفیہ ایجنسیا ں خدا ئے بزرگ و برتر کے بعد اس ملک کی عوام کے تحفظ ، امن و امان اور بہتری کی ضما نت ہو تی ہیں ۔پور ی دنیا میں سراغ رساں اداروں کا کردار بڑا اہمیت و حیثیت کا حامل ہے ۔ آسٹریلیا کی ASIS جو کہ 21 مئی 1952 کو وجود میں آئی ، انڈیا کی RAW جو کہ 21 ستمبر 1968 ، 1962 میں کیچین بھا رت ، 1965 میں پا ک بھا رت جنگو ں میں ہزیمت اٹھا نے کے بعد قا ئم ہوئی ، فرانس کی DGSE جو 12 اپریل 1982 میں وجود میں آئی ، روس کی FSB جو پر انی KGB کو تبدیل کر کے 12 اپریل 1995 میں وجود میں آئی ۔ جرمنی کی BND جو یکم اپریل 1956 میں قائم کی گئی ، چین کی MSS یعنی منسٹری آف سٹیٹ سیکیورٹی جو چین کے بیرونی اور اندرونی خطرات کا جا ئزہ لیتی ہے ۔ امریکہ کی CIA جو دوسری جنگ عظیم کے بعد 18 ستمبر 1947 میں قائم کی گئی ۔ امریکہ کی یہ سویلین انٹیلی جنس ایجنسی امیریکی صدر کے احکاما ت پر پوری دنیا میں پس پردہ بہت سی کار وائیا ں کرتی رہی CIA کے پا س دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنا لو جی اور ریونیو کے اعتبا ر سے امیر ترین سراغ رساں ایجنسی ہے ۔ اس طرح بر طانیہ کی M16 1909 میں وجود میں آئی اس کو بھی شمالی ائرلینڈ کے گو ریلو ں نے نا کو ں چنے چبوائے ۔ اسرائیل کی ایجنسی MOSSAD جو 13 دسمبر 1949 میں وجود میں آئی واحد اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کے خلا ف سازشوں میں یہی ملوث ہے پاکستان کے خلا ف ہندوستان ، کشمیر اور افغا نستان میں موساد ہی سرگرم عمل ہے ۔ سی آئی اے ، را اور مو ساد ہی کی بد و لت بلو چستان اور قبائلی علا قوں سمیت ملک کے دیگر حصو ں میں دہشتگردی کا ناسور پھیلا ہو ا ہے ۔ پاکستان کی مایہ نا ز انٹیلی جنس ایجنسی ISI جس کو IB ، MI ، NI ، AI کی مکمل سپورٹ حاصل ہے ۔ دنیا کی ٹا پ ٹین سراغ رسا ں ایجنسیو ں میں آئی ایس آئی کا پہلا نمبر ہے ۔ کم ترین بجٹ اور محدود ٹیکنا لو جی کے باوجود بھی دنیا کا موثر ترین اور کامیاب ادارہ ہے ۔
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیا ں کچھ باغبا ں ہیں بر ق و شرر سے ملے ہو ئے
دنیا کی کوئی بھی صیہو نی اور طا غوتی قوت آئی ایس آئی کا مقابلہ کر نے کی طا قت اور سقت نہیں رکھتی ہے جب تک کہ چند ایمان فروش ، ہوس و حرص زر میں ڈو بے ہو ئے افراد چند ٹکو ں کے عوض اپنے ضمیر کا سودا نہ کردیں اور اپنے ملک کے مفادات کو پس پشت ڈال کر دشمن کے سامنے اپنے راز افشا ں نہ کردیں۔ آزادی اظہا ر را ئے اور اپنے افکا ر و نظریا ت کی ادائیگی کوئی بری با ت نہیں ہے لیکن اس میں حد بندیو ں کا خیا ل ضروری ہے ۔ اظہا ر خیال کی آزادی نے ہی مغرب کو پیغمبر اسلام کی گستا خی جیسی لعنت میں مبتلا ء کر دیا صحا فت ایک مقدس اور با مقصد پیشہ ہے جس میں چند کا لی بھیڑوں نے اس کے وقا ر اور کردار کو ہی مشکو ک بنا دیا ہے موجودہ حالا ت کے تنا ظر میں دیکھا جا ئے تو پاک طالبان مذا کرات کی ناکامی اور نا پائیداری کی بھی سب سے بڑی وجہ بعض الیکٹرانک میڈیا چینلز پر غیر مصدقہ بیانا ت کی فراوانی ہے جس سے دونو ں اطراف میں ہی مختلف شکو ک و شبہا ت جنم لینا شروع کر دیتے ہیں ۔
سمندر تیز طو فا نی ہوا ، ٹوٹی ہو ئی کشتی یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پہ نا خدا تم ہو
معروف اینکر پرسن حامد میر جو آغاز سے بے حد محنتی اور مثبت سرگرمیو ں میں پیش پیش رہے لیکن ایک بہت بڑے پلیٹ فا رم کے ساتھ ساتھ مختلف تعلقا ت اور ہوس زر نے انہیں اندھا کر دیا کبھی ادارہ کی پالیسی کے زیر اثر ہندوستا ن جیسے بد ترین دشمن کی حما یت اور خو شنو دی حاصل کر نے کے لیے امن اکی آشا کا راگ الاپنے لگے تو کبھی لا پتہ افراد کی آڑ میں آئی ایس آئی کو بر ا بھلا کہنا شروع کردیا ۔ تا ریخ یہ بتاتی ہے کہ وارث میر نے 1971 میں بندگلہ دیش کے با رے میں بے بنیا د پر اپیگنڈہ کر کے اسے آزاد کروایا اور حا مد میر انہی کے صا حبزادے ہیں جو اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے بلو چستان کو آزادی دلوا نے میں پیش پیش ہیں میر جعفر اور میر صادق اس دنیا سے کو چ کر گئے لیکن انکی نسل اور با قیا ت اب بھی موجود ہیں ۔ عبد القا در ملا جیسے با ایمان اور سچے مسلمان کو تختہ دا ر تک پہنچا نے میں بھی حا مد میر کا پو را پو را عمل دخل ہے ۔ حا مد میر پر کر اچی کے اندر حالیہ حملہ کے خلا ف جیو ٹی وی نے جو مسلح افواج پاکستان اور ملکی محب وطن اہم ترین حساس ادارے آئی ایس آئی کے خلا ف جو پر ا پیگنڈہ اور بد گمانی پیدا کر نے کی کو شش کی نا قابل برداشت ہے ۔ یو ں محسوس ہو تا ہے کہ یہ نیشنل انٹریسٹ نہیں بلکہ ویسٹرن انٹریسٹ کے لیے کام کر رہے ہیں دنیا میں موجود اسلام مخالف اور پاکستا ن مخالف قوتو ں کو ہما ری سیکیو رٹی فو رسز اور سراغ رساں ایجنسیو ں پر نکتہ چینی کر نے اور ان کے خلا ف انگلی اٹھا نے کا موقع فراہم ہو گیا ہے جو ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے ۔ حامد میر پر حملہ کے خلا ف بھا رت ، امریکہ اور بر طانیہ کا میڈیا ہما ر ے ملک کی افواج اور سراغ رساں ایجنسی ISI پر تنقید کے پہاڑ گرا رہا ہے کوئی بھی محب وطن اسلام اور پاکستان کا درد رکھنے والا مخلص اور وفا شعا ر یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اپنی جان سے بھی زیادہ وطن پاک کو عزیز رکھنے والی سیکیورٹی ایجنسیز پر کوئی ہر زہ سرائی کرے اور زہر افشانی کا مرتکب ٹھہرے۔ آئی ایس آئی کے سا بق ڈی جی اور فر زند پاکستان جنرل حمید گل ، جنرل جا وید نا صر ، جنرل اسد درانی ، جنرل جا وید اشرف قا ضی ، جنرل اشفا ق پر ویز کیا نی ، جنرل پا شا اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الا سلام کا ملکی سلامتی ،تحفظ اور بقاء کے حوالہ سے بڑا روشن ، مو ثر اور بہتر کردار رہا ہے تو پھر آج کیا ضرورت پیش آگئی اس محب وطن ہما ری سانسوں اور ہما ری جا نو ں کی حفاظت کرنے والے حب الوطنی کے اعلیٰ علمبردار ادارے پر الزام تراشی اور تنقید کی۔ ضرور پس پردہ کوئی آئی ایس آئی مخالف قوتیں کا ر فرما ہیں ورنہ کسی بھی وطن سے محبت کرنے والے اور اس کے لیے اپنی جان کا نذرانہ تک پیش کرنے والے کو آئی ایس آئی کبھی بھی آ نچ نہیں آنے دیتی یہ تو ادارہ ہی اپنو ں کے لیے را حت جا ں اور بیگانو ں کے لیے زہر قاتل ہے ۔ ہما ری روح اور جسم کا حصہ ہے آئی ایس آئی۔ پو ری دنیا میں مسلمانو ں سے خو ف کھا تے ہی دشمن اس مضبو ط ادارے کی بدولت ہیں جو شب و روز اپنی زندگیا ں ملک و قوم کی خد مت میں صرف کیے جا رہا ہے ۔ ہما را ایمان ہے کہ پو ری قوم کی معا ونت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان اور آئی ایس آئی پاکستان کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والو ں کی آنکھیں نکال دے گی اور ہا تھ توڑ دے گی مگر ان کے ظالم خو اب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکیں گے۔کالم نگا ر ہا رون رشید کا کہنا ہے کہ جیو نے فوج کو بدنام کر نے کا تہیہ کر رکھا ہے جیو نیو ز آئی ایس آئی چیف کی تصویر ایسے چلا رہے ہیں جیسے وہ قاتل ہیں بڑی شرمناک با ت ہے ۔ وطن کی محبت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔لیکن جیو والے تو وطن کو کچھ سمجھتے ہی نہیں کیا وہ پاکستان کو بھا رت کا صوبہ بنانا چا ہتے ہیں؟ کالم نگا ر جا وید چو ہدری کا کہنا ہے کہ حا مد میر کے ادارے نے حامد میر کی ایف آئی آر سے قبل اپنی سکرین پر ایف آئی آر درج کردی ۔ اس نے اپنے نیو ز روم کو تفتیشی سینٹر بنا دیا ، اپنے اینکر پر سنز کو چیف جسٹس کا درجہ دے دیا آئی ایس آئی اور جنرل ظہیر الا سلام کو مجرم ڈکلیئرکرکے انہیں سزا بھی سنا دی یہ کہا ں کی صحا فت ہے ؟ یہ کہا ں کا انصا ف ہے ؟کالم نگا ر ڈا کٹر اجمل نیا زی کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے کہ آخر حامد میر ایسا کیا کرتا رہا کہ اس کو پاکستان کا دفا ع کرنے والے ادارے ISI سے خطرہ لا حق ہے ؟انصار عباسی نے ایک با ر پھر آئی ایس آئی پر گھٹیا الزاما ت لگا نے شروع کردیے ۔پاکستان تحریک طا لبان بھی صرف آئی ایس آئی کو اپنا دشمن سمجھتی اور اس سے خو فزدہ ہے بھا رتی را اور اس کے حامی بھی آئی ایس آئی سے خو فزدہ دکھائی دیتے ہیں بلکہ پو ری دنیا میں بسنے والا ہر اسلام اور پاکستان دشمن ISI کو اپنا دشمن مانتا ہے تو پھر جیو اور حامد میر کس صف میں شامل ہیں؟ انہیں سوچنا ہو گا اب فیصلے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ حامد میر ، عاصمہ جہا نگیر ، انصا ر عباسی ، ڈا کٹر شکیل آفریدی ، حسین حقا نی ، نجم سیٹھی اور ان جیسے سبھی غداران وطن آئی ایس آئی کو برا بھلا کہتے اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور یہ فطرت کا تقاضا بھی ہے کیو نکہ آئی ایس آئی پاکستانی ہو نے کے بعد دشمن کی طرفداری اور وفا شعاری کر نے والو ں کو اپنا دشمن ہی ما نتی ہے ۔ اس معاملہ میں حکمرانو ں کا کردار بڑا مشکو ک ، دوغلا اور منا فقا نہ دکھائی دیا ہے ۔کیا ہی اچھا ہو تا کہ چیف آف آرمی سٹا ف اور آئی ایس آئی چیف کی ملا قات سے قبل ہی وطن سے غداری کر نے وا لے ، مسلح افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلا ف زبا ن درازی کرنے والو ں کو قبل از وقت ہی مکمل طو ر پر بین کردیا جا تا کیونکہ وطن پر ستی ، سیکیو رٹی فورسز ک
ی عزت و آبرو سے مقد م چینلز نہیں ہیں ہم کسی بھی پیشہ سے وابستہ ہو نے سے پہلے پاکستانی ہیں اور یہی پو ری دنیا میں ہما ری شناخت ہے ۔
اس گھر کا سب نظام ہے غیر و ں کے ہا تھ میں              با ہر ہے میرے نام کی تختی لگی ہوئی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button