شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جا نی پہچانی حماقت

جا نی پہچانی حماقت

خطر ے کو ، یا طو فا ن کو آ تے دیکھ کر احتیا طی تد ابیر کر نا عقل مندی ، مگر اس کے ا لٹ کر نا ، حما قت ، حکومتی پا رٹی جو اب کر رہی ہے یہ جا نی پہچا نی حما قت ہی کہہ سکتے ہیں ،
ہا تھوں میں مشعلیں لئے کچھ لو گ رات کو
دے کر فر یب رو شنی ، بستی جلا گئے
اب یہ تو کہہ نہیں سکتے ہیں کہ جو سیا سی جما عت تین بار اقتدار میں آ ئی ، وہ اب ایسی سیا ست کر ئے گی جس سے حا لات ملک قو م کے لیے تو خر اب ہو ں گے ہی اور سا تھ اس پا رٹی کے لیے جا ن لیو ا ثا بت ہو ں گے ،اور اس پا رٹی کو سیاست کر نا نہیں آ تی ، مگر یہ ضر ور کہہ سکتے ہیں کہ اداروں کے سا تھ ٹکرؤ ، خا ص طو ر پر ملک کی پسند کی آ رمی کے سا تھ معا ملا ت خرا ب کر نا اور خلا ف بیا ن با زی کر نا ایسے ہے کہ کو ئی پلا ن دے رہا ہو کہ تم یہ یہ کر و گے تو شا ہد تم کے سا تھ آ نے والے دنوں میں نر م ہا تھ رکھیں گے، یا پھر اندازہ یہ لگا یا جا سکتا ہے کہ جیسے میاں نو از شر یف کے بھا ئی نے فر مایاہے کہ جن سے مشو رے کیے جا رہے ہیں ان سے دوری اختیا ر کی جا ئے ، مگر ، سوال یہاں یہ کہ جو مخا لف بیان دے رہیں وہ اپنے قا ئد کے لیے مشکل وقت تو لا ئیں گے ہی مگر آ گے جا کہ ان کی سیا ست کا کیا بنے گا ،یا ، یہ قا ئد کو خو ش کر نے کر لیے مجبو ر ہو کر یہ ایسے بیان دے رہے ہیں ، قا ئد سے وفا داری کا بد لہ تو تب ملتا جب پا رٹی اقتدار میں ہو ، جیسے مشا ہد اللہ خاں کو دوسری طر ف سے نوازہ گیا، جب پا رٹی اقتدار سے جا ئے گی تب بد لے کی تو قع نہیں کر سکتے پھر مجبو ر ہو کر اپنے پر دے قا ئم رکھنے کے لیے سب کیا جا تا ہے ۔ کہتے ہیں ، کسی کا کو ئی دن ہو تا ،کسی کا کو ئی لمحہ ہو تا ،کسی کا کو ئی لک چل رہا ہو تا ہے ، یہ اسی کے الٹ چل رہا ہوتا ہے ، لگتا ہے ، بلکے نظر آ تا ہے کہ احسن اقبال کا وقت خراب چل رہا ، کیو نکہ ، کسی سیاسی پا رٹی کے کسی بیا ن پر کو ئی اعترا ض کر نا ، وہ وجہ بنتی ہے ، مگر وہ ادارہ ، جو ملک کی مخا فظ ، اور ملک کا وقار اس کی قر با نی پر ہے تو وہ جب کسی نقط پر بات کر ئے گی تو وہ کیسے قا بل اعتر اض ہو سکتا ہے ، آ رمی کی طر ف سے یہ کہا گیا تھا کہ معشیت کی بہتری ہی ملک کے وقا ر اور با قی معا ملا ت میں کا میا بی ہو سکتی ہے ، کیو نکہ جب دوسرے مما لک سے مد د لی جا ئے تب فیصلے لیتے بہت سی احتیا ط کی جا تی ہے ،ظا ہر ی سی با ت ہے پھر کسی کی مر ضی کا بھی خیا ل رکھنا پڑ تا ہے اور خیا ل رکھا جا تا ورنہ محبو ب کو ما ننے کے مترادف جتن کیے جا تے ہیں یا جیسے محبو ب ملا قات کا ٹا ئم نہیں دیتا ۔
بات کی گئی ، بلکے بلکل ٹھیک کی گئی ، پھر پیٹ میں درد کیوں ، صا حب بات معا شی استحکا م کی ہو ئی تو ، تو یہ کہ اپنے خا ص وز یر خزا نہ صا حب پہلے ہی مشکلا ت میں ہیں ، ان کی مشکلا ت میں کیا اور اضا فہ کر نا ہے ، احسن اقبا ل صا حب کسی اور وزارت پر ہیں مگر دفا ع اپنی پو ری حکو مت کا کر نے تلے ہیں چا ہے اس میں عز ت ، عزت ہی جا ئے ، یہ کہنا درست نہیں کہ وہ کب کی رخصت ہو چکی ہے ، رسمی کا روائی ہو نا با قی ، سوال یہاں یہ ہے کہ سیا سی جما عت اس با ت کے خلا ف کیوں جا رہی ہے جس پر عوام بھی ان کے خلا ف ہو گی ، سپر یم کو رٹ کے فیصلے کے بعد جس عوام کی را ئے کو اہمیت دی جا ئے کہنے والے عوام کی پسند نہ پسند کو بھی خا طر میں نہیں لا رہے ، اداروں کے درمیان فا صلے اور تصادم کیا یہ مسلم لیگ ن بر داشت کر سکے گی ، دوسری جا نب یہ بھی دیکھا جا ئے کہ سیا سی پا رٹی کی کا رکر دگی پر با ت کی گئی ہے تو کچھ ما ہ بعد الیکشن ہیں اس لیے وز یر دفا ع میں آ ئے ہیں ، مگر عوام کو بہت کچھ نظر آ رہا ہے ، ایک جا نب سپر یم کو رٹ کے فیصلے کو مان کر گھر چلے گے ہیں تو دوسری جا نب عدالتی کا روائی کو مکمل ہو نے میں تعا ون نہیں کر رہے اور رکا وٹیں بنا ئی جا رہی ہیں ، جیسے کچھ دن پہلے جب محتر مہ مر یم نواز نے عدالت میں جا نا تھا تو ہنگا مہ کر ، کر وا کر دن ٹال دیا گیا، اس جا نب سے یہ کہا گیا کی پو لیس ، اور انتظا میہ کی غلطی ہو ئی ورنہ وکیل تو صر ف کو رٹ میں جا نا چا ہتے تھے ، ت عوام کا سوال ، پو لیس اور انتظا میہ کس کی ، خا می کس حکو مت کی ، عدالت کا وقت ضا ئع ہو ا ،وقت کی قدر نہ ہو معا شرہ تر قی نہیں کر تا ، وقت کیا، یہاں عوامی خز انے کے ایسے خر چ کیا جا تا ہے جیسے ان کا اپنا پیسہ ہے ۔
ہو نا یہ چا ہیے تھا کہ مسلم ن کی سیاسی حکمت عملی ایسی ہو تی جیسے جی ٹی رو ڈ پر جا کر ریلی کے ذریعے عوامی ہمدردی حا صل کی گئی اور اپنی نیت اور عمل اور کا رنا مے سا منے رکھنے کا مو قع لیا گیا ، ایسے نا اہل ہو نے کے دا غ کو مٹا نے کا چا نس ملنا تھا ، مگر عوام کی پسند کے خلا ف بیا نا ت با زی ، آ رمی کے خلا ف با ت کرنا ، اور سوال اٹھنا ، بہت سے سوالا ت جنم لیتے ہیں ،
احسن اقبا ل کا ایسے سا منے آ نے سے لگتا ہے کہ میا ں نواز شر یف صا حب نے اپنے بھا ئی کے مشو رے کو آ ٹے میں نمک جتنا بھی نہیں سمجھا ، اور وز یروں کو اس طرف جا نے دیا جا رہا ہے جس سے عوامی حما یت بھی کم ہو نا شر وع ہو جا ئے گی ، خا کسا ر کی نا قص سو چ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن جو بہت سے محا ذ کھول رہی ہے اس کے پیچھے ان کی سیا ست کیا یہ عمران خان کے با رے کو رٹ سے فیصلہ آ نے کے بعد مکمل حکمت عملی وا ضع ہو گی ، خطر ے کو ، یا طو فا ن کو آ تے دیکھ کر احتیا طی تد ابیر کر نا عقل مندی ، مگر اس کے الٹ کر نا ، حما قت ، حکومتی پا رٹی جو ا ب کر رہی ہے یہ جا نی پہچا نی حما قت ہی کہہ سکتے ہیں ،
ہا تھوں میں مشعلیں لئے کچھ لو گ رات کو
دے کر فر یب رو شنی ، بستی جلا گئے

x

Check Also

ختم نبوت سے متعلق تحفظات پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا: پیر نظام الدین جامی

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) سجادہ نشین گولڑہ شریف پیر نظام الدین جامی نے ...

Connect!