شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ’’جاپان کا خوبصورت شہر کیوٹو‘‘

’’جاپان کا خوبصورت شہر کیوٹو‘‘

جاپان کا شہر کیوٹو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔794ء میں ’’ہیانکو‘‘ کے نام سے بسایا جانے والا یہ شہر 1868ء میں ’’مے ای جی‘‘ کی اصلاحات کے بعد دارلحکومت کے کیو ٹو منتقل ہو جانے تک ایک ہزار سے زائد برسوں تک جاپان کے دارلخلافہ کے طور پر۔فلاح و بہبود کا گہوارہ رہا۔
آج کے دور کا کیوٹو ثقافتی ورثے کے خزینے کی حیثیت سے جاپان اور بیرونی ملک سے آنے والے بے شمار سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ہر سال 40ملین کے لگ بھگ لوگ اس قدیم شہر کی سیر کو آتے ہیں جن میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہوتی ہے۔تین اطراف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی وادی میں واقع ہر موسم کے مخصوص قدرتی مناظر کے حسین دلکش نظاروں والاکیوٹو کا شہر سال بھر سیاحوں کو اپنا گرویدہ بنائے رکھتا ہے۔اور یہاں نصب 55میٹر اونچا لکڑی سے تیار کیا ہوا جاپان کا بلند ترین پگوڈا تو اوجی معبد کے احاطے میں واقع سیاحوں کو سحر زدہ کرتا ہے،کیوٹو میں شنتو مذہب کے ماننے والوں کی تقریباً 400عبادت گاہیں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے 1600کے قریب معبد(ٹیمپلز) واقع ہیں جن میں سے بیشتر تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ۔ان عبادت گاہوں میں بے شمار ثقافتی سرمائے بحفاظت سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔جن میں فن تعمیر ،سنگ تراشی،منبت کاری، مصوری اور کپڑے کے پلنوں پر خطاطی کے شاہکار شامل ہیں جن کی مجموعی تعداد جاپان کے قومی ثقافتی نوادرات کے خزینے اور اہم ثقافتی املاک کے کل مجموعے کا 20فیصد بنتی ہے۔کیوٹو بہت سی قدیم روایتی صنعتوں کا گڑھ بھی ہے۔جو کہ نسل در نسل پرورش پانے والے ہنر مندی کے باعث تاحال کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ان میں نشی جن کی پارچہ بافی،کیوٹو زن بال گھوندھنے اور جوڑا بنانے کا فن ،کیومیذو کی ظروف سازی ،کیوٹو کے تہہ(فولڈ) ہو جانے والے دستی پنکھے اور کیوٹو کی گڑیاں بنانے کی صنعتیں شامل ہیں۔یہ ایک قومی روایتی فن ہے اور کیوٹو کا فنی ورثہ ہے۔کوتانی یا کی مخصوص جاپان ظروف سرامک ویٹر کی ایک قسم ہے۔جسے رنگا رنگ نقوش کے باعث شناخت کیا جاتا ہے۔منقش ظروف بنانے کے لیے دیگر قسم کے سرامکس کے برعکس ظروف کی تیاری سے آرائشی نقش و نگار تک کے مراحل میں خاصی محنت درکار ہوتی ہے۔یہ تھکا دینے والا کام ہے جسے جاپانی ہنر کار انجام تک پہنچانے میں کبھی دقت محسوس نہیں کرتے ۔جاپانی نظم و ضبط کے پابند ،سخت محنتی دیانتدار اور خوش اخلاق ہیں۔پولیس سڑکوں پر بہت کم نظر آتی ہے اس کے باوجود جرائم کی شرح بہت کم ہے۔رشوت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔عوام پولیس کی عزت کرتے ہیں اور قانون پر عمل کرتے ہیں۔جاپان کی ترقی کی ا یک وجہ جا پان کے عو ا م میں پا یا جا نے و ا لا نظم و ضبط کے پا بند ،سخت محنتی د یا نتد ا ر ا و ر خو ش اخلاق نظر آ تی ھے اس کے با و جو د جر ائم کی شر ح بہت کم نطر ٓ ا تی ہے۔ ر شو ت نام کی کو ئی چیز نہیں ھے عو ا م پو لیس کی عزت کر تے ہیں ا و ر قا نو ن پر عمل د ر ا مد کر تے ہیں جا پا ن کی تر قی کی ا یک ا ہم و جہ جا پا نی عو ا م میں پا یا جا نے وا لا نظم و ضبظ ا و ر و قت کی پا بند ی ہے جا پا نی لو گ ہما ر ی طر ح و قت ضائع نہیں کر تے ، فضو ل خر چی نہیں کر تے جا پا نی حکمر ا ن لٹیرے نہیں ہیں افسران عو ا م کے صحیح خا د م ہیں پا لیسیا ں ا و ر منصو بے تیا ر کر تے و قت ہو ش میں ر ہتے ہیں فنڈ ذ میں خربرد نہیں ہو نے د یتے ٹھیکیداروں سے کمیشن نہیں لیتے۔کام بس کام کا اصول اپنایا ہوا ہے۔غیر معیاری منصوبوں کا تصور تک نہیں۔مقررہ وقت میں منصوبوں کی تکمیل کی جاتی ہے۔اس لیے وہاں مانیٹرنگ کا کوئی ادارہ نہیں ہے۔عوام خود احتساب کرتے ہیں۔اگر کسی حکمران پر لوٹ کھسوٹ یا کسی نوع کی برائی کا الزام لگ جائے تو وہ استعفیٰ دے کر خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔اس لیے وہاں کسی این آر او کی ضرورت نہیں پڑتی۔عدلیہ آزادی سے کام کرتی ہے۔عدلیہ کے فیصلوں کا احترام سب پر لازم ہے۔وہاں کوئی حکمران چیف جسٹس کو معطل کر کے نظر بند نہیں کرتا۔اور نہ ہی سپریم کورٹ پر حملے کے مرتکب ہوتے ہیں۔وہاں کے حکمران عوام کے خدمتگار کہلاتے ہیں۔اس لیے ایٹم بموں سے تباہ شدہ قوم ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار ہے۔لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے فرشتے جاپان میں بھیج دیے ہیں اور شیطان ہماری سر زمین پر مسلط کر دیے ہیں جو ہمیں کوئی کام سیدھا نہیں کرنے دیتے ۔اور ہم بے غیرتی اور بے شرمی پر اُتر آئے ہیں۔اور اپنے ہی ملک کو خود کش حملوں سے برباد کر رہے ہیں۔اور’ ’این ۔آر۔ او‘‘ کے خاتمے پر آگ بگولہ ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو دیانتدار اور نیک بنائے(آمین)

یہ بھی پڑھیں  نادراملازمین کے مسائل ،مطالبات اور احتجاج مگر حل؟؟؟