تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

جاپانی جدید ٹرانسپورٹ سسٹم اور ہم

جاپانیوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی اقدامات اٹھائے اور حیران کن نتائج حاصل کیے ہیں۔جنگی عذابوں ،سماوی آفتوں اور سونامی بلاؤں کی ماری جاپانی قوم ترقی اور خوشحالی کی منزلیں طے کرنے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کیے ہوئے ہے اور جاپانی سائنسدانوں نے ہار تسلیم نہیں کی ۔ہر شعبہ جدید بنیادوں پر استوار ہے جس سے جاپانی قوم خوب استفادہ کرتی ہے۔اور زندگی کے حقیقی مزے لوٹتی ہے۔ الیکٹرونکس کی مثالی ترقی میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔بین الاقوامی مارکیٹ میں جاپان کا طوطی بولتا ہے۔حال ہی میں جاپانی سائنسدانوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں جدید الیکٹرونکس کے نظام کو فروغ دیا ہے اس کا نام ’’ انٹیلی جینٹ ٹرانسپورٹ سسٹم ‘‘ رکھا ہے۔جاپان اس نظام کے استعمال میں قائدبنتا جا رہا ہے۔وابستہ رہبری کے وہ نظام ہیں جن میں سڑکوں کے عددی نقشے اور وہ آلات شامل ہیں جو گاڑی کے جائے وقوع اور ان کے راستوں کی توثیق کرتے ہیں ۔ضرورت کے وقت ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں اطلاعات کی چھان بین سے ’’آئی ٹی ایس‘‘ آلات کسی ڈرائیور کی بہترین یا قریب ترین راستے کی طرف راہنمائی کر سکتے ہیں۔
آئی ٹی ایس کا مرکزی عنصر گاڑیوں کی رہبری کے لیے ایسا نظام جس کے تحت گاڑی کے ڈیش بورڈ میں نصب ایک آلہ مستقل طور پر گاڑیوں کی جائے وقوع نہ تھا۔اس نظام کو ترقی دینے میں ایک بنیادی نقطہ سڑکوں کے نقشوں کی نمائش کو عددی بنانا تھا ۔یہ نقشہ سڑکوں کے پھیلے ہوئے جال کو ایک چوخانے کے بیچ اعدادو شمار کی صورت میں پیش کرتا ہے ،نقشے میں سڑکوں کو اعداد کی شکل میں اور خصوصی نقطوں کو رابطوں کی حیثیت سے دکھایا جاتا ہے۔کمپیوٹر نقشہ پر گاڑی کی پوزیشن بتاتا اور گاڑی کی جائے وقوع اور اس کے راستے کو دکھاتاہے۔تمام جاپان پر محیط ایک عددی گراف 1990میں پایہ تکمیل کو پہنچا ۔بہر حال جاپانی پتے عام طور پر گھروں کو دیئے گئے نمبر ہیں جو کسی حلقہ سے منسلک ہیں (جو نقشہ پر ایک خط قیاسی کے ذریعہ درستگی کے ساتھ دکھائے گئے ہیں ) یوں جاپانی سڑکوں کے نقشہ کے ذریعے ایک خاص منزل پر پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔مزید برآں مثال کے طور پر اگر یکطرفہ سڑکوں کے بارے میں معلومات شامل نہیں ہیں تو ایک صحیح راستہ کا تعین کرنا مشکل ہو گا۔ان کاموں کے لیے یاداشت کا اعلیٰ ترین ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ گاڑیوں کو پتلی سڑکوں کی طرف بھیجنا مناسب نہ ہو گا(جاپان میں بڑی تعداد میں بہت پتلی سڑکیں ہیں خاص طور پر ان رہائشی علاقوں میں ) اس صنعت کا خود ترتیبی عمل ان تمام سڑکوں کو اپنے ممکنہ راستوں کی ڈائریکٹری سے نکال دیتا ہے جن کی چوڑائی پانچ میٹر سے کم ہوتی ہے ۔ان پابندیوں کی موجودگی میں جاپان میں گاڑیوں کی رہبری کا نظام صرف بڑی سڑکوں کی طرف رہنمائی تک محدود ہو گیا ہے۔جاپانی رہبری کے نظام کی ایک عام خصوصیت ایک گاڑی کی پوزیشن اور اس کے اطراف کے نقشے کو دکھاتا ہے ۔یہ اگرچہ ایک کارآمد طریقہ ہے مگر ڈرائیور کو نقشہ پر غور کرنے کے لیے لازمی طور پر وقت کے اشارے ،ٹوکیو کے علاقے میں چلتی ہوئی گاڑیوں کو ٹریفک کی اطلاعات کی فراہمی جاری ہے۔
ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہم نے ٹرانسپورٹ کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے آج تک کوئی ایک بھی منصوبہ تشکیل نہیں دیا بلکہ جو نظام سرکاری سرپرستی میں چل رہا تھا وہ بھی ختم کر کے پرائیویٹ درندوں کے حوالے کر دیا ہے جنہوں نے ایسا غدر مچا رکھا ہے جسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔1965میں ایوبی حکومت نے ریلوے کو جدید الیکٹرانک ٹرانسپورٹ کا نظام مہیا کیا تھا جس کے لیے لاہور سے خانیوال تک بجلی کی قیمتی تاروں کی وائرنگ کی گئی تاکہ بجلی سے انجن چلا کر ٹرانسپورٹ کو جدید رنگ مہیا کیا جاسکے۔
افسوس صد افسوس کہ گزشتہ چند مہینوں میں اس نظام کو کلی طور پر ختم کر دیا ہے ۔بجلی کے انجن قیمتی تاریں اور کھمبے چوروں اور لٹیروں کے حوالے کر دیے ہیں تا کہ وہ اپنی مرضی سے اسے مارکیٹ میں فرخت کر کے اپنا پاپی پیٹ بھر سکیں۔
گزشتہ چند برسوں سے ہم یہ سنتے آرہے ہیں کہ بلٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ٹرا میں چلیں گی اور زیر زمین ریل کا نظام عمل میں آئے گا یہ سب کچھ خواب ہیں اور جب تک نام نہاد جمہوریت رہے گی کچھ نہیں ہو گا اور ہمارے کسی خواب کی تعبیر سچ نہیں ہو گی ۔ہم 63برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں کچھ دینے کی بجائے کھویا ہی ہے اور عوامی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر گلچھڑے اڑا رہے ہیں ۔بھاری بھر کم اسمبلیوں نے عوامی مسائل و مشکلات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے ۔اس طرح عوام اور حکومت کے درمیان نفرتیں فروغ پزیر ہیں ۔عوام کو ریلیف دینے کے لیے جتنی بھی اسکیمیں اور پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں وہ سب کے سب مفاد پرستوں کے ہتھے چڑھ کر کھوہ کھاتے چلے جاتے ہیں ۔جن پر میڈیا تنقید کے ایسے گولے اور راکٹ برساتا ہے کہ حکومتی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ عوام کہاں جائے؟ سیاستدان کہتے ہیں کہ فوجی آمرو ں نے ملک کو برباد کیا ہے ۔جبکہ ان کی اپنی کرتوتوں سے جمہوریت اپنی موت آپ مر جاتی ہے اور عوام کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگتا ۔ہر چیز بازار سے غائب ہو جاتی ہے ۔اس کے بر عکس فوجی آمریت میں عوام کو ہر قسم کی سہولتیں میسر آتی ہیں اگر سیاستدان سچے ہیں تو وہ عوامی جمہوریت کو اس طرح مربوط کیوں نہیں ہونے دیتے جس سے عوام فوجی آمریت سے مکمل نفرت کرنے لگیں۔

یہ بھی پڑھیں  ملک میں مردم شماری کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا، چیف آف آرمی سٹاف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker