تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

جاری دھرنے کا فائدہ تو ہوا۔۔۔ مگر کس کو

zafar ali shah logoشہراقتداراسلام آباد کے ڈی چوکمیں تحریک انصاف کا دھرنالگ بھگ نوے دن سے بدستورجاری ہے اور کب ختم ہوگااس بارے کچھ کہانہیں جاسکتاالبتہ دھرنادیئے اور وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کے لئے بضدچیئرمین تحریک انصاف عمران خان روزکنٹینرپرکھڑے ہوکر واضح کرتے رہتے ہیں کہ وزیراعظم کے استعفیٰ اور انتخابی تحقیقات کے بغیردھرناختم ہوگاکوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے اوراب توعمران خان نے یہ اعلان بھی کردیاہے کہ اگلے موسم گرماسے پہلے تبدیلی آجائیگی ان کے اس نئے اعلان کودیکھتے ہوئے تولگ یہ رہاہے کہ موسم سرما کے اختتام تک دھرناجاری رہنے کاقوی امکان ہے۔اگرچہ جماعت اسلامی اورپیپلزپارٹی سمیت دیگرجماعتوں کے رہنماؤں پرمشتمل سیاسی جرگہ کی کوششوں سے تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے راضی ہوگئی ہے جیساکہ سیاسی جرگہ کے رکن اور جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق کادعویٰ ہے اور یہ مطالبہ بھی کہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لئے اپنی ٹیم کااعلان کریں۔بہرحال اگرحکومت پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لئے ٹیم تشکیل دے بھی دیتی ہے اورمذاکرات کاسلسلہ جڑبھی جاتاہے تو مذاکرات کامیاب ہوں گے کہ نہیں یہ پھر بھی وثوق سے نہیں کہاجاسکتا البتہ نظرآتی صورتحال کے تناظر میں فریقین کے مابین معاملہ حل ہوتا نظرنہیں آتاکیونکہ نون لیگ اوروفاقی حکومت شائد پی ٹی آئی کے دیگر مطالبات تسلیم کربھی لے سوائے وزیراعظم کے استعفے کے مگر دوسری جانب وزیراعظم کونظام کانام دے کرپی ٹی آئی بہرصورت ان کے استعفے کے لئے بضد ہے اوراس سے کم بات ہی نہیں کرناچاہتی ایسے میں سوال یہ اٹھتاہے کہ اگر پی ٹی آئی نہیں چاہتی وزیراعظم کے استعفیٰ کے بغیردھرناختم کرنااورحکومت بھی وزیراعظم کے استعفے کے لئے کسی صورت راضی نہیں اور واضح کرچکی ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں گے نہ مڈٹرم انتخابات ہوں گے توپھربے نتیجہ مذاکرات کامقصد کیاہوگا جبکہ قطع نظر اس کے کہ سیاسی جرگہ کی کوششوں کے نتیجے میں حکومت اور پی ٹی آئی کے ممکنہ مذاکرات ہوپائیں گے کہ نہیں اور اگر مذاکرات بھی ہو جاتے ہیں توکیاکامیابی سے ہمکنارہوں گے یاپچھلی مذاکرات کی طرح بے سودثابت ہوں گے تاہم یہاں جنم لینے والے یہ سوالات اہم بھی ہیں اور جواب طلب بھی کہ شہراقتدارمیں پی ٹی آئی کے دھرنے کافائدہ کون لے رہاہے اور اس کانقصان کسے پہنچ رہاہے،کیاواقعی حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کادھرناختم ہویادھرنااسی طرح جاری رہے یہ حکومتی خواہش ہے،کیاواقعی پی ٹی آئی کوھرنے سے سیاسی فائدہ مل رہاہے یا اس سے اس کی سیاست بند گلی میں پھنس چکی ہے،کیادھرنے سے ملکی معیشت متاثرہورہی ہے یادھرنامزید جاری رہنے سے پی ٹی آئی مالی طورپرنقصان اٹھانے سے دوچارہوگی،کیا پی ٹی آئی کواحساس ہوچکاہے کہ کہ دھرنامزیدجاری رہناان کے سیاسی مستقبل کے لئے نقصان دہ ہے اور چاہتی ہے کہ اب کسی طرح دھرناختم ہو اسی لئے حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لئے تیارہوگئی ہے ۔یہ سوالات جنم اس لئے لے رہے ہیں کیونکہ سیاسی امور کے ماہرین کے نزدیک عوامی تحریک کادھرناختم ہونے کے بعد شہراقتدارمیں پی ٹی آئی کے دھرنے کا حکومت پر کوئی بھی اثرنہیں ہورہاکیونکہ ڈاکٹرطاہرالقادری کے چلے جانے سے زورٹوٹ چکاہے اوراب دھرنے میں وہ جان نہیں رہی جو ابتداء میں اورعوامی تحریک کی موجودگی میں تھی جبکہ دوسری جانب دھرناختم نہ ہواب ایساحکومت خود چاہتی ہے کیونکہ دیکھاجائے تواگرچہ دھرنادینے کے بعد تحریک انصاف کراچی، لاہور،میانوالی،ملتان،سرگودھا، گجرات اوررحیم یارخان جیسے شہروں میں بڑے بڑے جلسے کرکے عوامی طاقت کا مظاہرہ اور21 نومبرکوسندھ کے شہرلاڑکانہ میں جلسہ کرانے کاعلان کرچکی ہے لیکن دھرناپر تالیاں بجاکرخوشیاں مناتی پی ٹی آئی کوشائد اس حقیقت کااحساس کرناہوگاکہ حکومت کواس کے دھرنے سے نقصان ہونہ ہولیکن خود پی ٹی آئی سیاسی طورپرنقصان یہ اٹھارہی ہے کہ اس کی پوری توجہ دھرنے پرمرکوزہے اور اس کااثرخیبرپختونخوامیں قائم ان کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پربھی پڑرہاہے۔ سیاسی امورکے ماہرین کا خیال یہ ہے کہ د دھرناختم کرکے ملک بھرمیں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے سے پی ٹی آئی کوسیاسی لحاظ سے زیادہ فائدہ ہوگاجبکہ دھرناجتنی دیرتک جاری رہے گاپی ٹی آئی سیاسی طورپر نقصان سے دوچارہوگی اور تاثریہ ملے گاکہ پی ٹی آئی واقعی بند گلی میں کھڑی ہے وہ یہ بھی سوال اٹھارہے ہیں کہ اگر عمران خان لگ بھگ نوے دن کے دھرنے کے بعد اگر پی ٹی آئی کے چیئرمین عدالتی کمیشن کے ذریعے ایک ماہ میں انتخابی تحقیقات کامطالبہ کرتے سنائی دے رہے ہیں تودھرنوں کے آغازپر جب وزیراعظم نواز شریف نے کمیشن کے قیام کااعلان کیاتھاتب انکارکیوں کیاتھاکیااس کایہ مطلب لیاجائے کہ پی ٹی آئی مواقع گنواچکی ہے اور دھرناختم ہویہ اب پی ٹی آئی بھی چاہتی ہے مگراس کوراستہ نہیں مل رہاہے جبکہ دوسری جانب حکومت اس حقیقت کوبھانپ چکی ہے کہ دھرنااس کاکچھ نہیں بگاڑسکتاالبتہ پی ٹی آئی خود نقصان کی زد میں آچکی ہے اس لئے اب حکومت بھی نہیں چاہتی کہ دھرناختم ہو ۔اگرچہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنااور دھرنادیناپی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کاجمہوری حق ہوتاہے اور اگر پی ٹی آئی نے انتخابی دھاندلی کو بنیاد بناکر شہراقتدارمیں دھرنادیاہے اور وزیراعظم نوازشریف کونظام کانام دے کر ان سے مستعفی ہونے کامطالبہ کررہی ہے توبادی النظرمیں وہ حقیقی اپوزیشن کاکرداراداکررہی ہے اورکسی بھی جمہوری نظام میں حکومت وقت کوبے لگام گھوڑے کی مانند چھوڑدینے کی بجائے اس کی کارکردگی پر نظررکھنے کے لئے سیاسی جدوجہد ہونی چاہئے اس میں کریڈٹ دیناہوگاپی ٹی آئی کی قیادت کوکہ حکومت کوٹف ٹائم دینے کی کوششوں میں بجلی بلزمیں اجاضافہ واپس لینے اورپٹرولیم مصنوعات میں کمی جیسے عوامی ریلیف کی فراہمی کامیاب رہی ہے لیکن پھر وہی بات کہ پی ٹی آئی کاجاری دھرناکس جانب جارہاہے اورمزید جاری رہنے کی صورت میں اس کاسیاسی فائدہ اور نقصان کس کوپہنچ رہا ہے پی ٹی آئی کواس حقیقت کا احساس کرناہوگا۔اگر پی ٹی آئی کولگ رہاہے کہ اس کادھرناواقعی عوام کی بہتر مفادکے لئے ہے اوراس سے اس کی سیاسی ساکھ مضبوط ہورہی ہے توٹھیک ورنہ ایسانہ ہو کہ دھرناکی زحمت پی ٹی آئی اٹھاتی پھرے اوراس کافائدہ پہنچے کسی اور کوجیساکہ پشتومیں کہتے ہیں کہ ہندوستڑے او خدائے ناراضہ یعنی بویابہت کچھ کاٹا کچھ بھی نہیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker