ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

جشن آزادی یا ماتم

ma tabsumوطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 66سال کا عرصہ گزر چکا ہے ’’یوم آزادی‘‘ ایک طرف تاریخ کے لہو رنگ اوراق کی یاد تازہ کرتی ہے، تو دوسری طرف وہ آزادی کے حسین خواب پر قربان ہوئی قیمتی جانوں، لٹی عصمتوں سے تجدید عہد وفا کا ایک اور موقع بھی فراہم کرتی ہے تاکہ ہم اپنے ماضی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حال کا محاسبہ کریں اور مستقبل کے لئے ان راہوں کا انتخاب کریں جو ہماری قوم کو زندہ ضمیرلئے حقیقی معنوں میں آزاد قوموں کی فہرست میں لا کھڑا کریں۔ ہم آج تک قومی محاسبہ سے نگاہیں چراتے ہوئے ہر سال چودہ اگست کے دن کو بھر پور جوش وخروش سے منانا قومی روایت تو سمجھتے آرہے ہیں۔ جشن آزادی کا مقصد بحیثیت قوم ہمارا قومی محاسبہ ہونا چاہیے جو گزشتہ ماہ و سال کے آئینے میں ہمیں ہماری ناکامیاں اور کامیابیاں صاف صاف دکھائے تاکہ ہم دوسری قوموں سے مقابلہ کرنے کا ظرف پیدا کر سکیں۔اگر آزادی کا صحیح مفہوم سمجھنا ہے تو ایک نظر جرمنی اور جاپان پر ڈال لیجئے جو دوسری جنگ عظیم1945کی بھیانک تباہی کے بعد دوبارہ نئے سرے سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش میں جٹ گئے تھے اور ہم نے بھی تقریباً اسی وقت 1947میں ایک نوزائیدہ آزاد مملکت کے طور پر اپنا سفر اختیار کیا تھا اگر آج ان سے موازنہ کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ 66 برس کا عرصہ آگے کی بجائے ہمیں مزید صدیوں پیچھے لے گیا ہے۔ جرمن قوم کے اتحاد و یکجہتی نے دیوار برلن تک گرا دی 133مگر ہماری قومی ناؤ فرقہ وارانہ چھیدوں نے قومی سلامتی منافرت کے سیلاب میں بہا دی۔ جاپانی قوم کے حوصلے اور قوت ارادی نے انہیں ایک بار پھر سے دنیا کی عظیم ترقی یافتہ قوموں میں سر فہرست لا کھڑا کیا 133.. مگر جہالت اور ضمیر فروشی نے ہمیں آسمان کی بلندیوں سے ذلت کی گہرائیوں میں لا پٹخا 133کہ آج ہمیں آزادی کا دن تو یاد رہا مگر آزادی کا حقیقی مفہوم کیا ہے یہ بھول گئے.. آج تک ہم جس نام و نہاد آزادی کی مالا جپتے چلے آرہے ہیں وہ تو ہمیں کبھی نصیب ہی نہ ہوئی تھی۔ لیکن پھر بھی اگر ہمیں اپنی قومی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے آزادی کا جشن منانا ہے تو پھر شوق سے منائیے مگر ساتھ ساتھ غربت میں آزادی کا جشن بھی منائیے 133 ، بے رووزگاری میں آزادی کا جشن بھی منائیے 133 خودکشیوں میں آزادی کا جشن بھی منائیے133 اخلاقی اقدار سے آزادی اور قانون سے آزادی کا جشن بھی منائیے133، دہشت گردی اور جرائم میں آزادی کا جشن بھی منائیے 133 انسانی حقوق سے آزادی کا جشن بھی منائیے 133. اور پھر اپنی قومی جہالت کی آزادی کا جشن بھی منائیے۔آج ہم بحیثیت قوم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں چاروں طرف سینکڑوں بحران جبڑے کھولے ہماری ذرا سی لغزش کے منتظر ہیں۔ ایک طرف ہمارا سب سے بڑا بحران نظریاتی یکجہتی ،فکری وحدت اور اتحاد و اتفاق سے محروم ہے تو دوسری طرف امن و امان کی دگرگوں صورتحال کا بحران ہے ، ایک طرف ہمارا حال ہے جو روز بروز لا قانونیت کی دلدل میں دھنسا چلا جا رہا ہے تو دوسری طرف ہمارا مستقبل وہ نوجوان نسل ہے جسے علم کو اپنا آلہ کار بنانا ہے،مگر وہ خود دہشت گردی کا آلہ کار بن چکی ہے۔ جن کے ہاتھوں کوکل قوم کے مستقبل کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ان میں آج کتابیں نہیں بلکہ قوم کی تباہی کے سامان ہیں۔ دماغ علم کی روشنی سے منور نہیں بلکہ اسلحہ اور ہتھیاروں سے لیس ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ طبقاتی تفریق ، استحصالی نظام ، ہنر کی نا قدری ، تعلیمی ڈھانچے کا کھوکھلا پن ، اختیارات کا نا جائز استعمال اور اخلاقی اقدار کا فقدان جیسی خوفناک آندھیاں ہیں جن سے ہمارا حال بری طرح لرز رہا ہے۔جمہوری روایات کے فقدان کا المیہ جس نے ماضی تباہ حال سے بے حال اور اب مستقبل کو رسوا کرنے کا بیڑہ اپنی قوم کو ہر پل گرتی معیشت کے ساتھ ہاتھوں میں کشکول کا تحفہ دے کر ایک شان سے اٹھا رکھا ہے۔ غریب کا چولہا بجھ گیا ہے تو اشیائے خورد و نوش کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں۔ 60 فیصد ہم وطن پہلے ہی خط غربت تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور تھے تو رہی سہی کسرقدرتی آفات سے بے گھر ہوئے ہم وطنوں نے پوری کر دی۔ پینے کے صاف پانی سے محروم اور بجلی کی نعمت چھینی جا چکی ہے۔ نظام صحت کے اخراجات ناقابل برداشت اور ایک عام انسان کے بس سے باہر ہیں۔ یہی قیامتیں کیا کم تھیں کہ کراچی اورکوئٹہ کی دہشت گردی سے اور ملک بھر میں ہوتے ہوئے بم دھماکو ں نے لاشوں کے انبار لگا دئے۔
میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہ زمیں پر
وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں
میرے ہم وطنو ! 133ابابیلوں کے لشکر ہم جیسی بے ایمان ، بے یقین اور بے حس قوموں کی طرف نہیں اترا کرتے۔ ہم ایک ضمیر فروش وطن فروش اور ایمان فروش قوم ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جن کے مولوی حلوے کی چند پلیٹوں کی خاطر تو کافر میں مومن میں مسلمان تو مرتد کا ورد کرتے ہیں اور ہم اس پر آمین کرتے چلے آرہے ہیں 133ہم خود وہ غربت کی ماری قوم ہیں جو یوں تو جمہوریت کا رونا روتے ہیں مگر چودھری وڈیرے اور جاگیردارانہ نظام کے تناور درخت کو اپنے لہو سے سینچتے چلے آرہے ہیں . 133 ہم وہ بے غیرت قوم ہیں جو’’ امریکی کتے ہائے ہائے‘‘ کے نعرے تو بہت غیرتمندی سے لگاتے ہیں مگر جب بھی مصیبت پڑے کشکول تھامے بے غیرتی سے اسی کی طرف دوڑتے ہیں 133۔ ہم وہ بے ضمیر قوم ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنے مسلمان بھائیوں کا لہوتک بیچتے ہیں 133کہ آؤہم پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کرو ہم پاکستان کو قبرستان بنانے کے لئے تمہاری راہیں ہموار کرتے ہیں 133 آؤاور مال و زر سے ہماری تجوریاں بھر دو ہم اپنے مادر وطن کے کسی بھی حصے پر بمباری کرنے کی پوری اجازت دیتے ہیں 133 آؤاور ہمیں جنت کے ٹکٹ دو ہم ملک کو جہنم بناکے تمہارے ازلی سپنے پورے کرتے ہیں 133.آؤاور صرف ہمیں مسلمانیت کا سرٹیفکیٹ دے دو اور ہم اپنی سر زمین پاک پراپنے ہی مسلمان بھائیوں کے لہو کی ندیاں بہا کر تمہاری خواہشوں کی تکمیل کرتے ہیں 133۔ یہ ہے ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان،جہاں عدالتوں میں انصاف، درسگاہوں میں ڈگریاں، اسمبلیوں میں ضمیر ، اسپتالوں میں جعلی دوائیاں اور مسجدوں میں ایمان تک بکتے ہیں۔ جہاں کلمہ پڑھنے، سلام کرنے اور بسم اللہ کہنے پرتو ایک غیر مسلم کو پھانسی پر بھی چڑھایا جا سکتا ہے مگر مزار قائد پر دختر ملت کی آبرو ریزی کرنے والے کو کٹہرے تک نہیں لایا جا سکتا۔اگر مسجدوں سے نفرت کی منادی اور مدرسوں سے خودکش بمبار جہادی بن کر نکلتے ہیں تو نکلنے دو ہم اپنے گھروں میں بیٹھے اسلام کے نام کی مالا جپتے رہیں گے۔اگر امریکی فوج اور طالبان نامی ظالمان ہماری ہی سر زمیں پر ایک دوسرے کا لہو پی کر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں تو کرنے دو ،ہم منرل واٹر سے اپنی پیاس بجھاتے رہیں گے۔اگر ماؤں بہنوں کی عصمتیں نیلام ہوتی ہیں تو ہونے دو ہم جوش و خروش سے مدر ڈے منا لیا کریں گے 133.. اگر حکمران ملکی خزانہ لوٹتے ہیں تو لوٹنے دو، تو ہم بسنت کی چڑھتی پتنگیں لوٹتے رہیں گے 133.اگر ہم وطنوں کی تمناؤں کے پھول مرجھاتے ہیں تو مرجھانے دو ہم ویلن ٹائن ڈے دھوم سے منا لیا کریں گے 133اگر غریب کا چولہا بجھتا ہے ، فاقوں سے بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بلبلاتے ہیں ، صاف پانی نہ پینے سے ہزاروں امواتیں ہوتی ہیں ،بے روزگاری کے ستائے مینار پاکستان سے چھلانگیں لگا کر جان دینے والوں کی آرزوئیں لٹتی ہوں یا پھر مزار قائد پر قوم کی بیٹیوں کی عصمتیں 133ہمیں سوچنے کی بھلا کیا ضرورت ہے ہمارے لئے تو اتنا ہی بہت ہے کہ ہمارا پاکستان آزاد ہے۔ پاکستان زندہ باد133پاکستان زندہ باد 133پاکستان زندہ باد 133..
میرے عزیز ہم وطنو !133کب تک خون بہے گا اپنے اس گلستان میں ؟ 133کب تک وقت کی آندھیاں ہماری شاخیں قلم کرتی رہیں گی ؟..کب تک ہم اپنے ہاتھ اپنے ہی ہم وطنو کے لہو سے رنگتے رہیں گے ؟133کب تک ہم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی اس نام و نہاد آزادی کا جشن دھوم دھام سے مناتے رہیں گے ؟ 133 کب تک اس 66سالہ بوسیدہ آزادی کے تصور کو لئے خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے ؟ 133احساس کی کونپلیں اب بھی نہ پھوٹیں تو پھر کب پھوٹیں گی ؟ ہمارا سویا ہوا ضمیر اب بھی نہ جاگا تو پھر کب جاگے گا ؟ آخر کب تک ہم اپنی ناکامیوں پر آزادی کے جشن کا پردہ ڈال کر ناچتے رہیں گے ؟133 آخرکب تک؟ ایک نہ ایک دن تو ہمیں بھی وقت کے کٹہرے اور ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو کر اس سوال کا جواب دینا ہی ہو گا کہ ’’ کیا ہم آزاد ہیں ؟

یہ بھی پڑھیں  عمران خان اور طاہر القادری نے ڈرامہ رچایا ہوا ہے، رانا ثناء اللہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker