شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / خوشبو ؤں کی صبح ۔ 06ستمبر

خوشبو ؤں کی صبح ۔ 06ستمبر

06ستمبر 1965 کو میرا وجود اس دارِ فانی میں نہیں تھا وہ اس لئے کہ میری پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی ۔ لیکن اپنے آبائو اجداد کی زبانی اور پھر اسکول ، کالج اور پھر یونیورسٹی تک 06ستمبر کے بارے میں پڑھا، لکھا اور سنا کہ اب تو یہ تمام واقعہ ذہن پر نقش سا ہو گیا ہے۔ اور پھر ظاہر کہ اتنے اہم دن کیلئے کالم نگار ہونے کے باوجود نہ لکھنا کالم نگاری سے ناانصافی ہوگی اس لئے آج آفس میں ہی فراغت کے لمحات نکال کر اس واقعہ کی یاد تازہ کرنے اور اپنے قلمِ خاص کو اس اہم موضوع پر لکھنے کی التجا کرتے ہوئے کوشش کر رہا ہوں کہ 06ستمبر 1965 کی صحیح ترجمانی کی جائے۔ میں کہاں تک کامیاب ہوا یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں ، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ ذکر رہ جائے اور کچھ بیاں ہو جائے۔ اگر رہ جائے تو معذرت کے ساتھ ابتدا کرنے کی سعی کرتا ہوں۔ دیکھئے میں اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں اور کہاں کوتاہی رہ گئی ہے۔
ویسے تو مسلمانوں کے ہاتھوں کئی بار رُسوا اور ذلیل و خوار ہونے کے باوجود ہندوئوں کو ہوش نہیں آیا کہ وہ کس قوم سے ٹکرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ قوم تو ایک اللہ، ایک رسول، ایک قرآن، ایک دین کی پیروکار ہے ، یہ قوم کٹ تو سکتی ہے مگر کسی بھی سطح پر جھکنا گوارا نہیں کر سکتی۔ یہ حقیقت تو آپ کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جنگیں محض ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سچے جذبوں سے بھی جیتی جاتی ہے۔ اُ وقت ظاہر ہے کہ ہماری قوم میں جذبۂ ایثار زندہ تھا اور ہماری قوم بیدار بھی تھی۔
شاہینوں کے شہر سرگودھا ائیر بیس کے کمانڈر کے مطابق جنگ کے ادوار میں ائیر بیس کی زیادہ حفاظت کیلئے زیادہ فوج کی ضرورت ہوتی تھی تو اس وقت بھی ائیر بیس پر اضافی فوجیوں کی ٹولی آئی ہوئی تھی لیکن ان کے رہنے اور سونے کیلئے چارپائیوں اور بستر کی اشد ضرورت تھی۔ کمانڈر کے مطابق اگر مسجد سے اعلان کر دیا جائے تو کچھ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ مگر اعلان ہوتے ہی فوجیوں کیلئے بستر اور چارپائیوں کی خاطر خواہ مقدار جمع کرانے انسانوں کا اور صاحبِ سواریوں کا ایک جمِّ غفیر جمع ہو گیا تھا ۔ ایسا جذبہ اور خلوص دیکھ کر فوجیوں سمیت لوگوں کی آنکھوں میں آنسوئوں کا سیلاب اُمڈ آیا اور دعا یہی مانگا کہ خدا تعالیٰ یہ جذبہ اور ایثار ہماری قوم پر ہمیشہ سلامت رکھنا۔
ویسے بھی قوموں کی زندگی میں حب الوطنی کا چراغ ہمیشہ جلتے رہنا چاہیئے کیونکہ ان کی حب الوطنی کی وجہ سے ہمارے فوجی بھائیوں کا حوصلہ بھی جوان رہتا ہے۔ یوں تو یومِ دفاع ہر سال 06ستمبر کو بڑ ے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ مادرِ وطن کی حفاظت کُلّی طور پر قوموں کا ایمان ہوتا ہے ۔ ملک و ملت کے ہر سپوت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے وطن پر کٹ مریں، ویسے بھی ہمارا ایمان ہے کہ جو ملک و قوم کیلئے اپنا جان پیش کرتا ہے انہیں شہیدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہید مرتا نہیں ہے اور اسی لئے ہماری قوم اپنے شہیدوں کی قربانیوں اور ان کی لازوال انمٹ کاروائیوں کی وجہ سے ان کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
یہ دن ضرور منائیں مگر اس دن کو مناتے ہوئے مسلمہ اصولوں کو مدِّ نظر ضرور رکھنا چاہیئے کہ ہم اپنے جانباز سپہ سالاروں کو یاد بھی کریں اور دوسروں کے بہادروں کا احترام بھی رہے۔جیسے 06ستمبر 1965ئ کو ہماری پوری ایثار و قربانی کا پیکر بنی ہوئی تھی وہی جذبہ ہر سال 06ستمبر کو دیکھنے میں آتا ہے۔ اور وہی قوم دنیا میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنے وطن کی حفاظت کو اپنی ہر معاملے، ہر فیصلے،سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں کی داستان رقم کی جاتی ہیں اور کی جاتی رہیں گی جو آزمائش کی گھڑی پر پورا اترنے کے رنگ ڈھنگ سے واقف ہوں۔ اور آپ دیکھئے کہ آج کے اس تیز رفتار دور میں بھی بے مثال جرأت و بہادری کے بڑے ہی ایمان افروز حالات و واقعات ہماری قومی، بین الاقوامی تاریخ کے صفحات پر روشن ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں۔آج کے اس دور میں ضروری ہے کہ دنیا کے ہر قوموں کو یہ درس دیا جائے کہ امن اور بھائی چارہ قائم رکھیں تاکہ دشمنی کا تدارک کیا جا سکے۔
کہتے ہیں کہ06ستمبر 1965ئ کو جنگ کی فضا بنی ہوئی تھی ، رن آف کچھ کے ساتھ ساتھ ہماری سرحدوں کے محافظوں نے موچے سنبھال لئے تھے اور تو اور ہماری کھیتوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھا ئی جا چکی تھیں اور درختوں کے نیچے فوجی گاڑیوں کو بھی ڈھک دیا گیا تھا ۔ چھ ستمبر کی رات کے آخری پہر میں لاہور کی فضا توپوں کی گھن گرج سے گونج اٹھی تھی۔ سنتے ہیں کہ پہلے ایسی آوازیں دور سے آتی ہوئی سنی گئی پھر یہ بہت قریب آتی چلی گئی اور یوں بھارت نے صبح سویرے ہی حملہ کر دیا۔ مگر قصور کے محاذ پر کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی، سوئے آصل کے پاس ہندوستانی ہوائی جہازوں نے مسفر بسوں پر بم برسانے شروع کئے مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان کے تمام نشانے خطا گئے۔لاہوریوں نے یہ سارا معرکہ گھروں سے نکل کر دیکھا تھا۔
ریڈیو کھولنے پر میڈم نورجہاں کی سریلی آواز میں یہ ترانہ بج رہا تھا: اے وطن کے سجیلے جوانو۔ میرے نغمے تمہارے لئے ہیں۔ پورے ملک میں اپنے سپہ سالاروں کو فوجی وردیوں میں دیکھ کر لوگوں کی آنکھوں میں جو چمک اٹھتی تھی اسے قوس و قزح کے رنگ سے تشبیح دی جا سکتی ہے۔جنگوں کی تاریخ میں توپوں کا سامنا ٹینکوں سے ہوا ہو لیکن سیالکوٹ کے محاذ پر بھارت ہماری اول پوزیشنوں کو روندتے ہوئے ہمارے توپخانے پر چڑھ گیا اور اس سخت آزمائش کا وقت تھا اور ہمارے جوان توپوں کے گولے سینے سے باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور یوں ان بدبختوں کا یہ حملہ پسپا کیا۔اور یوں تاریخ کے اوراق میں بھارت کیلئے 06ستمبر 1965ئ کا دن ستمگر ہی ثابت ہوا۔
آج بھی یقینا ہندو قوم اور خاص کر بھارت وہ منظر نامہ یاد کرکے ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہونگے اور یہ سوچ کر ہی آئندہ کیلئے ان کے حوصلے پست ہوتے ہونگے ، اور وہ دوبارہ ایسا کرنے سے پہلے ایک بار سوچیں گے ضرور.اور ویسے بھی کہتے ہیں نا کہ لہروں کو خاموش دیکھ کر یہ مت سمجھنا کہ سمندر میں روانی نہیں رہی ہے۔
آج ہمیں پھر سے ایسے ہی حوصلے ، زندہ دلی، ایثار و قربانی سے لبریز قوم کی ضرورت ہے لیکن در پردہ ہم پر غیر مسلم ملکوں کا راج نافذ ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ خدارا ایک ہو جایئے اور اپنے ملک کی اور اپنے آزادی کی قدر کرنا سیکھ لیںکیونکہ آزادی ایک نعمت ہے جو غلامی کی زندگی سے لاکھ درجہ بہتر ہے۔ یہود و ہنود مسلمانوں کے دوست نہ کبھی تھی اور نہ کبھی ہونگے۔اس لئے ضروری ہے کہ آزادی کی قدر کیجئے اور اپنے ملک کی بھی قدر کریں تاکہ کوئی میلی آنکھ ہم پر اور ہمارے ملک پر نہ ڈال سکے۔
اس اختتامیہ شعر کے ساتھ اس مضمون کو لکھتے ہوئے قلم کو روک لینے کی کوشش کر رہا ہوں کیونکہ اس شعر میں ہی تمام راز پوشیدہ ہیں پڑھیں اور سمجھ جائیں کہ میں اور شاعر کیا کہنا چاہتے ہیں۔
ہم تو مِٹ جائیں گے ائے ارضِ وطن لیکن تم کو
زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک

یہ بھی پڑھیں  معروف ادیب اور ناول نگار عبد اللہ حسین انتقال کرگئے