تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

رنگ بدلتے گِرگٹ کی طرح ہماری’’ کرکٹ‘‘

اس وقت دنیائے کرکٹ میںT20ورلڈ کپ کی بڑی گہما گہمی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی کرکٹ کے شیدائی کروڑوں میں موجود ہیں انہیں میں سے ایک راقم الحروف بھی ہے ۔ اور کرکٹ سے لگاؤ کا تعلق یہاں تک ہے کہ اگر پاکستان کا کوئی میچ آ رہا ہو تو اپنے تمام کاموں کو یا تو وقت سے پہلے مکمل کر تا ہوں اگر نہیں تو میچ کے بعد کا وقت معین کرتا ہوں کیونکہ اس دوران مجھے صرف کرکٹ دیکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کرنا ہوتا۔ اپنے دلی کیفیت کا حال کیا بتاؤں ! بس یوں سمجھئے کہ پاکستان کا میچ کسی بھی ملک سے ہو رہا ہو اور خاص کر انڈیا سے اور اگر پاکستان ہار رہا ہو تو میں اپنے دل کی دھڑکنوں کو رُکتا ہوا محسوس کرتا ہوں اور کوشش یہی کرتا ہوں کہ میچ سے اپنی دلچسپی کو کسی حد تک کم کر لوں کہ کہیں یہ دھڑکنیں حقیقتاً ہی نہ رُک جائیں۔میرے احباب تو یہاں تک مجھے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کیسا بندہ ہے کھیل کو کھیل کی طرح کیوں نہیں لیتا اپنے اوپر سَوار کیوں کرتا ہے، مگر میں ان سب کو کیسے مطمئن کروں کہ میں پاکستان کو ہارتا ہوا نہیں سہہ سکتا ، میں ہی کیا کوئی بھی کرکٹ کا شیدائی اور محب وطن ایسا نہیں دیکھ سکتا۔
کرکٹ کے حوالے سے اگر موازنہ کیا جائے تو دنیائے کرکٹ میں کرکٹرز کو دیکھیں کہ ان کی عمریں ڈھل رہی ہوتی ہیں مگر وہ اپنی ٹیم کی طرف سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ؟ صرف اس لئے کہ وہ اپنے کے لئے کھیل رہے ہوتے ہیں، عمریں زیادہ تو تجربہ بھی زیادہ ہمارے یہاں بالکل اس کے برعکس ہے ، یہاں تو کسی کو کسی عہدے پر مستقل رکھا ہی نہیں جاتا چاہے کوچ ہو‘ مینجر ہو‘ یا کپتان ہو‘ یا کوئی کھلاڑی ہو۔ یہ تمام نام ہی میچ میں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتیں ہیں اور یہی افراد ہمارے یہاں سب سے زیادہ تبدیل ہوتے ہیں۔ کسی کوچ سے جب کھلاڑی مانوس ہونے لگتے ہیں تو کوچ تبدیل، کسی کپتان سے جب کھلاڑیوں کی Under standingہو جاتی ہے تو کپتان تبدیل! یہی خامیاں ہیں جس سے ہماری کرکٹ کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ مگر اربابِ اختیار اس پر توجہ دینے کے بجائے صرف بیان بازی تک محدود رہتے ہیں۔ ویسے تو کوچ چاہے فیلڈنگ ہو یا بیٹنگ دیسی ہونا چاہیئے کیونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے اکثر کھلاڑیوں کی انگریزی کمزور ہے ، ظاہر ہے کہ جب بولنے کی استطاعت کم ہے تو سمجھنے کی کمی ہوگی اور ایسے میں انگلش کوچ کا جواز نہیں بنتا۔ اگر انگلش کوچ رکھنا ہی مقصود ہے تو ان کھلاڑیوں کو پی سی بی انگریزی زبان پر عبور کیلئے کوئی کورس بھی کروائے۔
دوسری طرف یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے یہاں کس شعبے میں کمی ہے الحمد للہ! بڑے سے بڑے کھلاڑی موجود ہیں، ان میں سے ہی اگر یہ عہدے پُر کئے جائیں تو کوئی مذائقہ نہیں۔ لیجنڈ جاوید میاں داد، وسیم اکرم‘ ظہیر عباس‘ اور دوسرے موجود ہیں تو ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیوں نہیں لیا جاتا۔ یہ سب معاملات سوچنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ Out of Groundکے لئے بھی اگر کسی آفیشلز کو رکھا جاتا ہے تو اس کا تجربہ دیکھا جاتا ہے ، میرے خیال میں گراؤنڈ سے باہر کی پوسٹوں کیلئے صرف تجربہ نہیں بلکہ ملک کی کرکٹ سے اس کے لگاؤ کو بھی دیکھا جائے کیونکہ جو ملک اور کرکٹ سے لگاؤ رکھتا ہوگا وہ اچھا کام کرے گا۔
اب آتے ہیں موجودہ T20میچیز کی طرف ۔ سُپر ایٹ مرحلے کا بہت ہی زیادہ اہم میچ پاک بھارت میچ تھا اور اس میں ہماری کرکٹ کا ہر شعبہ ان کے سامنے فیل ہوگیا یہ کیسا پلان بنایا گیا تھا ، مانا کہ انڈیا کے لئے یہ میچ ڈو اور ڈائی (مطلب موت اور زندگی) تھا تو کیا ہمارے لئے نہیں تھا۔ کرکٹ کے شیدایوں کا ہی خیال کر لیا جاتا جو یہاں تک کہہ چکے تھے ہمیں فائنل نہیں چاہیئے بلکہ آج کے میچ کا رزلٹ جیت کی صورت میں چاہیئے۔ مگر کہاں جب بھی یہ عوام اپنے کرکٹ ٹیم سے امید لگاتی ہے تو انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اور اس میچ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ عوام روتی رہ گئی اور کرکٹرز میچ ہار کر بھی مسکراتے رہے۔ کل آسٹریلیا سے ہمارا میچ ہے اور وہ بھی ڈُو اور ڈائی ہی ہے ، دیکھتے ہیں ہمارے کھلاڑی اس معرکے میں پورا اترتے ہیں یا نہیں ۔ یا پھر؟ (میرے منہ میں خاک) مگر کیا کیا جائے کہ حالات کچھ ایسا ہی سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ہچکولے کھاتی پاکستانی ٹیم کو آج آسٹریلوی طوفان کا سامنا ہے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے کیلئے پاکستانی ٹیم کو جس قدر پیچیدگیوں کا سامنا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں، کیا ہم چالیس رنز کی رنز کی زیادہ مارجن سے کینگروز کو شکست دے سکتے ہیں اور کیا پروٹیز دھونی الیون کو شکست سے دو چار کریں گے، اس کے علاوہ بھی اور پیچیدگیاں موجود ہیں ۔ ان تمام صورتحال کو مدِّنظر رکھتے ہوئے راقم تو صرف اتنا کہہ سکتا ہے کہ صرف اور صرف قوم کی دعائیں ہی اس ٹیم کی ہچکولوں کو ساحل تک رسائی دلا سکتی ہے تو ہم وطنو! اللہ رب العزت سے دعائیں کریں اور اب صرف یہی ایک راستہ بچا ہے ہمیں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کا۔
پاک انڈیا میچ کی طرح کپتان صاحب اپنی ہمدردیاں اپنے دوست کرکٹروں تک محدود نہ کریں بلکہ ملکی مفاد اور عوام کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کریں جس کا اظہار چیئرمین ذکاء اشرف صاحب بھی کر چکے ہیں۔ آج مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ بہترین فیلڈنگ‘ بیٹنگ ‘ اور باؤلنگ کیلئے میدان میں اتریں انشاء اللہ قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہونگی۔ہر پاکستانی یہی چاہتا ہے کہ ہماری ٹیم سیمی فائنل میں پہنچے اور اس کے لئے تمام کھلاڑیوں کو سخت ترین محنت کی ضرورت درپیش ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہماری ٹیم یہ سوچتی ہے یا نہیں، اور اگر سوچتی ہے تو کیا اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے یا؟
مردوں کی ٹیم تو انڈیا سے ہار گئی اور ہم سب عوام کو رُسوا کر دیا مگر دوسرے ہی دن ہماری خواتین کی ٹیم نے بھارت کو ہرا کر ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ خواتین کی ٹیم اگلے مرحلے سے باہر ہوگئی ہے مگر اس کا کسی ہم وطن کو دُکھ نہیں کیونکہ انہوں نے کانٹے دار مقاملے کے بعد بھارت کو زیر کیا۔ اسے کہتے ہیں قوم کی توقعات پر پورا اترنا، پتہ نہیں ہماری مردوں کی ٹیم اس بات کو کب سمجھے گی۔
بہرحال آج کے میچ کے بعد یہ تمام منظر نامہ صاف ہو جائے گا کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اگر حفیظ الیون کی پلاننگ درست ہوئی تو انشاء اللہ آج کینگروز کو بڑے مارجن سے شکست ہوگی ورنہ تو قوی امید یہی کہ بوریا بستر گول! دیکھنا یہ ہے کہ کرکٹ کی اس کشتی کو اس طوفان سے کون کون نکالنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر کہیں یہ کشتی ڈوبی تو قوی امکان یہی ہے کہ اس کشتی کے سواروں میں سے کئی کھلاڑی طوفانی لہروں کی نظر ہو جائیں گے جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔
رنگ بدلتے گرگٹ کی طرح ہماری ’’کرکٹ‘‘ پر راقم الحروف کی یہ تحریر کڑوی ضرور لگے گی مگر سچ ہمیشہ کڑوا ہی ہوتا ہے کے مصداق کچھ زیادہ ہی تفصیلات درج ہو گئی ، اور یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ اس موضوع کی گہرائی کو جانچنے کیلئے اتنا تو لکھنا ہی تھا۔ پھر بھی راقم الحروف یہ کہنے میں حق بہ جانب ہے کہ اگر اس کی مزید گہرائیوں کا نانپا جائے تو یہ تحقیق کئی صفحوں پر محیط ہو سکتی ہے۔
بہرحال صورتحال کے پیشِ نظر میں مضمون کو سمیٹے ہوئے اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ ہماری ٹیم آج سرخرو ہو جائے اور اچھے مارجن سے سرخروئی حاصل کرے۔ ایک اور دعا عوام کر رہی ہے کہ کسی طرح ہمارے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی بھی ممکن ہو جائے۔ (آمین یا رب العالمین)

یہ بھی پڑھیں  لاہور:لوڈشیڈنگ وبے روزگاری کامسئلہ دہشتگردی سے بھی زیادہ خطرناک ہے:لطیف الرحمان پیزادہ

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker