پاکستانتازہ ترین

بلوچستان کےعوام کوان کےحقوق کےمطابق جینےکاحق دیاجائے،جاوید ہاشمی

ملتان ﴿بیورو چیف﴾تحریک انصاف کے مرکزی صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سول و فوجی حکمران کے بلوچوں پر حکومت کرنے کے خواب چکنا چور ہونے چاہئیں اور بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق کے مطابق جینے کا حق دیا جائے ۔یہ بات انہوںنے جمعرات کی دوپہر ملتان سے کوئٹہ روانگی سے قبل اپنی رہائش گاہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، جاوید ہاشمی نے کہا کہ جب تک ہم چھوٹوں پر حکمرانی کے خواب چکنا چور نہیں کریں گے اس وقت تک وہ جنگ لڑتے رہیں گے ۔بلوچستان والے بڑے لوگ ہیں ہمیں انکا حق دینا چاہیے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں سرائیکی کو بڑی زبان سمجھتا ہوں جو اُردو سے زیادہ بولی جاتی ہے مگر اُردو کی اپنی اہمیت ہے۔لسانی بنیادوں پر صوبے یا بینک نہیں بننے چاہئیں ۔صدر زرداری کی زبان بھی سرائیکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ نئے صوبے بنیں ہیں اگر پاکستان میں بھی زیادہ صوبے بنیں گے تو پاکستان اتنا ہی زیادہ مستحکم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی صوبے کی بات کرنا سرائیکی زبان کی توہین ہے کیونکہ سرائیکی کوہاٹ۔ڈیرہ اسماعیل خان ،بہاولپور ،ملتان ،سکھراور لاڑکانہ میں بھی بولی جاتی ہے لہذا میرا مطالبہ ہے کہ پاک سرائیکی صوبے بننے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ جہاں بھی صوبہ مانگ رہے ہیں وہاں بننا چاہیے۔فاٹا والے بھی صوبہ چاہتے ہیں ،ہزارہ والے بھی صوبہ چاہتے ہیں ،بہاولپور ،ملتان ،پوٹھوہار ،ہزارہ ہر جگہ صوبے بننے چاہئیں اور شہباز شریف کا یہ کہنا کہ پہلے کراچی کو صوبہ بنایا جائے پھر یہاں صوبے بنائیں گے یہ بات غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاچن پر پاک بھارت فوجیوں کی واپسی بارے میاں نواز شریف نے جو بات کی ہے اور کہا ہے کہ کیانی اور میری سوچ ایک ہے ہمارایہ کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور کشمیر سے ملحقہ علاقوں میں خون بہنا بند ہوناچاہیے ۔نواز شریف کو بھارت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے تھی جب وہ اقتدار میں تھے ۔نواز شریف نے یہ بات کہی تو نواز شریف بڑی عقل کے آدمی ہے ۔20 سال ملک پر حکمرانی کر چکے ہیں اور نواز شریف نے اپنے دور میں جس فوجی جرنیل نے آئین کی نافرمانی کرکے کارگل پر فوجوں پر شکست دلائی تھی اس کا کورٹ مارشل کرنے کی بجائے اسے جائنٹ چیفس آف سٹاف بنادیا تھا انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پرویز مشرف کا کورٹ مارشل کرنا چاہیے تھا ۔اور اگر نواز شریف اور کیانی کی سوچ ایک تھی تو پھر انہیں اس معاملے پر دیگر سیاسی قائدین کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے تھا ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی خبر نشر ہوئی ہے کہ میں نے نواز شریف کو گاڑی واپس نہیں کی ۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب نواز شریف ملک چھوڑ کر گئے تھے تو ان کیمیں نے 6 سال تک پارٹی چلائی اور نواز شریف نے ایک پیسہ تک نہیں دیا اور یہاں تک میرے دوست نے لاہور میں میں مسلم لیگ کا دفتر خرید کر دیا اب وہ مجھ سے قرض واپس مانگتا ہے تو میں نے شہباز شریف ،سعد رفیق ،کھوسہ اور حتی کہ نواز شریف کو بھی کہا ہے کہ میرے دوست کوگھر واپس کر دیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے حالات پوری قوم کے سامنے ہیں ،ہمارا کل کا جلسہ بلوچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف واحد پارٹی ہے جو چار ماہ سے عوام سے رابطے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان لہو کے آنسو رو رہا ہے ،وہاں لوگوں کو اٹھا ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سب جماعتیں اقتدار میں ہیں لیکن وہاں خون روکنے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھٹو اور ایوب دور میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا سکون تباہ ہوگیا ہمیں ان کو حقوق دینا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لشکررئیسانی کی تحریک انصاف میں شمولیت بارے جواب نہیں دوں گا تاہم بہت سے لوگ ہم سے رابطے میں ہیں جو جلد پارٹی میں شامل ہوں گے ۔

یہ بھی پڑھیں  مولانا فضل الرحمان کیخلاف کارروائی کیلئے درخواست مسترد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker