شہ سرخیاں

جوابدہ کون؟

چیئرمین ایف بی آر، شبر زیدی نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آٹے پر ٹیکس نہیں لگایا پھر بھی روٹی کی قیمت بڑھی تو میں جوابدہ نہیں، اشیا خوردونوش پر ٹیکس نہیں لگا، چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس سکیم شروع کرنا چاہتے ہیں“ دوسری جانب لاہور نان روٹی ایسوسی ایشن نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ کردیا،اطلاعات کے مطابق جی ایس ٹی کے نفاذ سے 80 کلو آٹے کی بوری پر 550 روپے تک اضافے کا امکان ہے،نان روٹی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 3 روز تک آٹے کی بوری پر سیلز ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو پیر سے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے گا اور نرخ بڑھائے جانے سے سادہ روٹی 15 اور نان 20 روپے میں کاہوجائے گا،نان روٹی کی قیمت میں ڈبل سے بھی زائد اضافے کا مطلب یہ ہواکہ اب غریب عوام کے منہ سے روٹی کانوالہ بھی چھین لیاجائے گا،چیئرمین ایف بی آر کے مطابق آٹے اوردیگر اشیا خوردونوش پر ٹیکس نہیں لگاپھربھی بجلی، گیس،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہواہے جس کے اثرات پورے معاشرے کومتاثرکررہے ہیں،روٹی،نان صرف آٹے سے نہیں بن جاتے ایندھن بھی درکارہوتاہے،آٹے سے روٹی بنانے والی لیبرکی بھی ضروریات ہیں،حکومت نے آٹے پرکوئی ٹیکس لگایایانہیں لگایاروٹی،نان کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کوکنٹرول کرناحکومت کی ہی ذمہ داری ہے،بقول چیئرمین ایف بی آر،آٹے سمیت اشیا خوردونوش پر ٹیکس نہیں لگاتوپھردالوں،صابن،چائے کی پتی،گھی،نمک مرچ،ہلدی،آئل سمیت تمام گھریلوں استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بیس سے سو روپے فی کلوہونے والے اضافے کاذمہ دارکون ہے؟ چیئرمین ایف بی آرنے توکہہ دیاکہ وہ جوابدہ نہیں ہیں جبکہ عوام بھی نئے پاکستان میں صرف وزیراعظم عمران خان کی جانب حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں،عوام بھی فقط وزیراعظم پاکستان سے جواب مانگ رہے ہیں اورمانگیں گے،عمران خان کب اورکیسے غریب عوام کوریلیف دیں گے یہ کوئی نہیں جانتا،اصل سوال یہ ہے کہ عمران خان غریب عوام کوکسی قسم کاریلیف دیناچاہتے ہیں توپھران کی زندگی میں دیں گے یاانصاف کی طرح مرنے کے بعد دیں گے؟ گزشتہ روز صبح سویرے افسوس ناک خبرملی کہ لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس صادق آباد میں ولہار سٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی،آخری خبریں آنے تک اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں 22 افراد جان سے گئے جبکہ 105 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، انتظامیہ نے جاں بحق افراد کی نعشیں صادق آباد ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان میں منتقل کردیں،حادثہ اس قدر شدید تھاکہ کئی افراد کی نعشیں ڈبوں کو کاٹ کر نکالی گئیں جبکہ بچ جانے والے اور زخمی افراد کو بھی ڈبے کاٹ کر نکالا گیا،خبر کے مطابق اس حادثے میں پاک آرمی کے دو جوانوں کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں،یہ خبرتوآپ نے بھی دیکھ اورسن لی ہوگی اوریہ بھی آپ کومعلوم ہے کہ صدر پاکستان،وزیراعظم پاکستان،وزیرریلوے اوردیگرتمام سیاستدانوں نے حادثے کے متاثرین کے ساتھ اظہارہمدردی،مذمت اورذمہ داروں کیخلاف کارروائی کے بیانات جاری کئے جبکہ ہمارے لئے ان بیانات میں کوئی نئی بات نہیں،ماضی قریب میں بھی کئی خوفناک حادثات میں درجنوں شہری جان بحق ہوچکے ہیں جن کے ذمہ داران کیخلاف کسی قسم کی کارروائی نہ ہوناانتہائی پریشان کن ہے تودوسری جانب سوال کرنے پروزیرریلوے اوردیگرانتظامیہ کاصحافیوں پربرہم ہوجانااس بات کی دلیل ہے کہ یاتوانتظامیہ بے بس،نااہل ہے یاپھرانہیں لوگوں کی زندگیوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں،وزیرریلوے یادیگرانتظامیہ سے توعوام کاکوئی مطالبہ نہیں البتہ نئے پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نے کہاتھاکہ جب تک سزاوجزاکانظام نہیں قائم ہوتاتب تک ملک آگے نہیں بڑھ سکتاہے توآج عوام وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ٹرین حادثوں اورمہنگائی کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرکے انہیں عوام کے سامنے بے نقاب کیاجائے تاکہ جان بحق اورزخمی ہونے والوں کے لواحقین کے دلوں کوکچھ تسکین ملے اورساتھ ہی آئندہ حادثات کاباعث بننے والی غفلت سے محفوظ رہاجاسکے۔آج یہاں ایک اورضروری بات وزیراعظم کے نوٹس میں لاناچاہتاہوں کہ جب بجلی،گیس اورپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اوپرجاتی ہیں توعام آدمی مہنگائی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا،

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ:بھائی کی مدد سے بیوی کو بے دردری سے قتل کرنے والے دونوں بھائیوں کو سزائے موت کا حکم

error: Content is Protected!!