امجد قریشیتازہ ترینکالم

جذبہ حسینؓ پیدا کر

amjadاللہ کو پا لیا سب کچھ پا لیا اللہ کو کھو دیا سب کچھ کھو دیا لا الہ الہللہ کا پیغام ہے کہ مرنے سے پہلے اللہ کو راضی کرلو حسینؓ نے اللہ کو راضی کیا یزید نے حکومت کو راضی کیایزید نے حکومت پا لی وہ حکمرا ن بنا اُس کے خاندان نے حکومت کی اور حکومت اُس کی باندی بنی ۔ حسین ابن علیؓ نے جان دیکر نیزے پر سر چھڑا دیا خاندان کا افضل ترین خون ایسے پانی کی طرح سستا ہو کر زمین پر بہا ۔قارئین کرام ظالم مظلوم کی کہانی کوئی نئی بات نہیں، لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے مظلوم کبھی ناکام نہیں ہوتا اور ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتا ۔مظلوم بن جاؤ حسینؓ کے رفیق کہلاؤ گئے ، ظالم بنو گے تو یزید کے ساتھ شمار کئے جاؤگے ۔محرم ہی کیا سارا سال یزید پر لعنت پڑتی ہے لیکن ناحق ظلم کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے انہیں بھی یزید کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا۔ یزید کے ساتھ کھڑا ہونا کون پسند کریگا ؟۔ آل رسول ؐذبح ہو رہے ہیں حسین ذؓبح ہو رہے ہیں ۔ کون حسینؓ ؟ کوئی اور نہیں میرے پیارے نبیؐ کا لاڈلا حسینؓ میرے نبی کا نواسہ حسینؓ وہی حسینؓ جس کے ہونٹوں کومیرے نبیؐ نے کئی بار پیار سے بوسے دئیے جس کے ماتھے کو چوما جس کے ہاتھوں کو چوما جس کو اپنے سینے پر لٹایا ۔گھر میں داخل ہوئے اپنے نواسوں پر نظر پڑ ی تو شفقت سے ہاتھ بھی زمین پر رکھ دئیے اور گھٹنے بھی زمین پر ٹکادئے اور اپنی پشت مبارک کو برابر ایک بیلنس کرکے دونوں نواسوں کو اپنی پیٹھ مبارک پر بٹھا کر ادھر سے اُدھر چکر لگا رہے ہیں اور ٹھہر ٹھہر کر چہرہ مبارک اوپر کی طرف اُٹھا کر بچوں کی طرف دیکھ کر پوچھتے کہ تمہاری سواری کیسی ہے۔ارے ، بچوں بولو تمہار موڈ کیسا ہے ۔ کیا تم خوش ہوئے؟۔ایسے خوش نصیب سوار جن کو رسول اکرم ؐ کی پاک سواری اور کائنات کی سب سے قیمتی صحبت ملی مگر بدبختوں نے کیا سے کیا کردیا ایک پیارے نواسہ رسول ؐ حضرت حسنؓ کو زہر دیاتو ایک کو نیزہ پر چڑھا دیاپر انہوں نے اللہ کو پا لیا اللہ کو پالیا تو سب کچھ پالیادین محمدیؐ کو بچا لیا ۔ فقط ایک بول پر امام عالی مقام حضرت حسینؓ اپنی جان بچا سکتے تھے،اپنا مال بچا سکتے تھے ،اولاد بچا سکتے تھے بیٹیاں بتا سکتے تھے سب کچھ بچا سکتے تھے کہ ہا ں میں ظالم کا ساتھ دیتا ہوں اتنا ہی تو کہنا تھا کہ میں ظالم یزید کا ساتھ دیتا ہوں اس کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔
مگر جناب حسینؓ نے برملا کہا نہیں میں آل رسول ؐہوں میں کٹ تو سکتا ہومگرظالم کا ساتھی نہیں بن سکتا کردو میری اولاد کو ذبح ،بھلے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردو،چڑھا دوں ان کونیزوں پر جو تجھ سے بن پاتا ہے وہ تو کر مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ میں حسین ابن علیؓ ظالم کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں۔
یہ شان ہے آل رسولؐ کی کہ دین اسلام کی سربلندی اورمظلوموں کے حق کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔ہم بھی اسی محمدؐ کی امت ہیں سانحہ کربلا بھی یہ درس دیتا ہے کہ ظالم نہ بنوں ورنہ ظالم کے ساتھی بن جاؤ گے مظلوم بن جاؤں حسین ؐکے ساتھی کہلاؤ گے روز قیامت کے دن ہمیں بھی ہمارا ا نبیؐ ہار پہنائیگا جب حسینؓ کے گلے میں ہار ڈالے جائینگے توہمارے گلے میں بھی ہار ڈالے جائیں گے ہمیں بھی سہرے پہنائے جائیں گے ہمیں بھی ہمارے آقاؐ اپنے ہاتھ سے حوض کوثر پلائیں گے بس کہ تھوڑی دیر تک کا صبر کر جاؤں جیسا کہ حسینؓ صبر کر گئے ۔
حسین یزیدیت کے آگے ڈٹ گئے کٹ گئے کٹا ہوا سر نیزے پر چڑھایا گیا بیٹیوں کو خیموں سے گھسیٹا گیا ،کسی اور کی نہیں آل رسول کی بیٹیوں کو خیموں سے گھسیٹا گیا وہ پاک بیبیاں کے شرم و حیا خودبھی جن کی پاکیزگی اور طہارت کی غلام ہے ۔ہاتھوں میں کپکپی طاری اور الفاظ لڑکھڑا جاتے ہیں تاریخ کا یہ دلخراش منظر نامہ لکھتے ہوئے ۔حضرت زینبؓ نے جب لاشوں کو کٹے ہوئے دیکھا اورسروں کو نیزے پر چڑھے ہوئے دیکھا تو انہوں نے ایک چیخ ماری اور کہا ،ہائے یا محمدؐہائے یا محمدؐ آؤ آؤ آج دیکھو کہ آپؐ کی اولاد کے ساتھ ان ظالموں نے کیاکردیا ۔
ؐ آج تیرے حسینؓ کی بارات ہیں انہوں نے اپنے خون کی تاروں کا جوڑا پہنا ہوا ہے اپنیمقدسجسم کی بوٹیوں کو پھلوں کی پتیاں بنا کر اُن کا ہار پہنا ہوا ہے ۔نیزے پرسر چڑھا مگر وہی پروقار شان وہی ہیبت وہ ہی خوبصورتی اور کلمہ حق کیلئے جان جان آفرین کے سپرد کردی ۔یہ ہے حسینؓ جس نے کلمہ حق کہتے ہوئے اسلام کو ابدی حیات بخشی۔وہ حسینؓ جس کے خاندان کی عورتیں قید ہوچکی ہیں وہ رسول اکرمؐ کا لاڈلا جس کے سارے ساتھی بھی یزید مردود کے ہاتھوں ذبح ہوچکے ہیں جن پر ہواؤں نے خوداُٹھ کر مٹی کو اُڑیا اور مٹی کا کفن پہنایا۔
کٹا ہوا سر ابن زیاد کے آگے رکھا گیا ہے ابن زیاد کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور وہ طاقت کے نشے میں چور ہے کہ میں نے بدلا لے لیا میں نے اپنے دشمن کو زیر کرلیا۔۔حسینؓ کا کٹا ہوا سر ابن زیاد کے سامنے آیا اُس کے ہاتھ میں چھڑی تھی اُس نے منہ پہ چھڑی ماری جو ہونٹوں پر آکر لگی پھر ماری اور کہا میں نے ایسا حسن آج تک نہیں دیکھا۔ پھر اُس نے چھڑی ماری تو حضرت انسؓ کھڑے ہوکر کہنے لگے بدبخت یہ چھڑی ان ہونٹوں سے ہٹا میں نے ان ہونٹوں پہ اللہ کے نبیؐ کے ہونٹوں کورکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
قارئین کرام کیا ابن زیاد کو موت نہ آئی؟ ۔کیا یزید کو موت نہ آئی؟۔ کیا مظلوم مر گیا تو کیا ظالم بچے گا ؟۔مقتول مر گیا تو کیا قاتل بچے گا؟۔ نہیں نہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا رب ذوالجلال کا فیصلہ یزید جیسے بدبختوں کیلئے جلد آنیوالا ہے جو آکر رہے گا ۔
اے مسلمانوں ہم ایسی عظیم تاریخ رکھتے ہیں ہم کیوں آپس میں دست و گریبان ہو گئے ،ہم کیوں ظالم کے ساتھی بن گئے،ہم کیوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ۔ارے کیا موت ہمیں نہیں مارے گی ۔ کیا اللہ کی قیامت قائم نہ ہوگی ۔ نعوذ باللہ کیا اللہ سو گیا ہے، کیا اللہ کے فرشتے کمزور ہوگئے ہیں، کیا اللہ نے دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کردیا ہے ۔کیا اللہ نے جنت کو آگ لگا دی ہے ہرگز ہرگز نہیں۔ہم تو کلمہ گو ہیں۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اُس کے خون کا پیاسا نہیں ہوتااُس کے مال کو نہیں لوٹتا اُس کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتا اس کو حقیر نہیں گردانتا ،اُ س کو ذلیل نہیں سمجھتا ۔مسلمان مسلمان کا ساتھی ہے ہم ایک قوم نہیں بلکہ ایک امت ہیں اور لا الہ الہ اللہہ ہماری پہچان ہے ۔ میرا اللہ کہتا ہے زمین و آسمان کو اور اُس کے خزانوں کو اورہر چیز کو ایک پلڑے میں رکھ دو مگر ایک چھوٹے سے کاغذ پر لا الہ الہ ا للہ محمد رسول اللہ لکھ کر دوسرے پلڑے پر رکھ دو تو میرے نبیؐ کا فرمان ہے کہ اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے لا الہ الہ اللہ محمد رسول اللہ میں اتنا وزن ہے کہ سب کو ہوا میں اُٹھا دے گا۔
میرے پیارے مسلمان بھائیوں اپنی نبی ؐ کی طریقت کو اپناؤ اپنینبی ؐ کے پیارے نواسے کے درس حسینؓ کو اپنے اندر بیدار کرو تفرقہ بازی ختم اور باہمی اختلافات ختم کرکے حسینیت ؓ کا علم تھالو ۔
قارئین کرام اسلامی واقعات اور تحاریرلکھتے ہوئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لا محالہ کہیں کوئی کوتاہی یہ کمی رہی گئی ہو تو میری اصلاح فرما ئیے گا اللہ مجھ سمیت سب کو راہ ہدایت نصیب کرے (آمین)note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button