تازہ ترینکالم

جیوے جیوے پاکستان

faisal shamiہیلو میرے پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے ،،،،،،،،،، اور یقیناًہم بھی اچھے ہی ہیں ،،،،،،،،،،،
جی ہاں دوستوں پتہ ہے آپ کو کہ ہم آج آپ کو کسی جگہ کی سیر کروانے لے جا رہے ہیں ،، اور یقیناًیہ جگہ جس کے بارے میں ہم آپ کو بتلانے جا رہے ہیں یقیناً آپ نے ٹی پر تو ضرور وہ جگہ دیکھی ہو گی ،،،،،،،،،،، جی ہاں ، اور آپ زیادہ سوچئے مت ہم بتلا ہی دیتے ہیں آپ کو ،، جی ہاں دوستوں ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ایک دوست جن کا تعلق اسلام آباد سے ہے نام انکا اویس ہے اور انشورنس کمپنی سے وابستہ ہیں ،،،،،،،،،، تو ہم بتلا رہے تھے کہ ہمیں اسلا م آباد سے ملک اویس کا فون آیا ،، سلام دعا ہوئی تو انھوں نے فون کرنے کا مدعا بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بی وی بچوں کے ساتھ لاہور آنا چاہتے ہیں ،، ہم نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ لاہور میں پریڈ ہوتی ہے ،،،
ہم نے کہا ہاں بالکل کیا آپ نے بارڈر پر جانا ہے ،، تو انھوں نے کہا جی ہاں ،،،،،،، بتلاتے چلیں کہ واہگہ بارڈر پر روز صبح سویرے پرچم لہرایا جاتا ہے اور شام پانچ بجے قومی پرچم کو سر نگوں مطلب اتارا جا تا ہے ،،،،،،،،،، اور واہگہ بارڈر پر رینجرز اہلکار قومی پرچم کو روزانہ شام کو باتارتے ہیں ،، اور پرچم اتارنے کی تقریب اتنی مسحور کن خوش رنگ اور ایمان کو تازہ کرنے کا بہانہ بن جاتی ہے ،،،،،،،،،،، اور یقیناً بے شمار پاکستانی عوام روزانہ دلکش اور ایمان افروز منظر کو دیکھنے کے لئے واہگہ بارڈر کی طرف کھنچے آتے ہیں ،،،،،،،،،،
تاہم ہمیں بھی لاہور رہتے ہوئے مدت ہو گئی لیکن ہمیں کبھی ایسا دلکش اور روح پرور منظر دیکھنے کا موقع نہ ملا،،،،،،،،،،،اور ملک اویس کی وجہ سے ہمیں بھی واہگہ بارڈر پر دلکش اور حسین نظارہ دیکھنا نصیب ہوا،،،،،،،،،،،،،،
بہر حال اتوار کے روز تقریبا تین بجے گھر سے واہگہ بارڈر کے لئے روانہ ہوئے ،، ہمارے ہمراہ مصطفیٰ رحمٰن اور ملک اویس کی فیملی بھی تھی ،،،،،،،،،،
تاہم ہم طویل سفر کے بعد واہگہ بارڈر پہنچے ،، اور جب ہم پنڈال میں پہنچے تو تو تقریبا پونے پانچ بج رہے تھے ،،، قومی پرچم اتارنے کی تقریب پانچ بجے شروع ہونی تھی ،، اور روزانہ کا یہی معمول ہے ،،،،،،،، جی ہاں دوستوں ہم جب واہگہ بارڈر کے احاطے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ قومی جھنڈے پہنے لباس میں عمران پاکستان اور شفیق واہگہ ، جوش بھرے انداز میں ڈھول کی تھاپ پر نعرہ تکبیر بلند کر رہے تھے اور جیوے جیوے پاکستان کے نعرے بھی بلند کر رہے تھے،،،،،،،،،،،،،،
تاہم رینجر کے چاق و چوبند اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے ،،،،،،،،،،،،
تاہم ہمیں سٹیڈیم تک پہنچنے کے لئے تین جگہ سکیورٹی چیکنگ سے گزرنا پڑا ،،
جی ہاں جب سے واہگہ بارڈر پر خود کش حملہ ہوا تب سے ،،، تقریب میں شرکت کے لئے آنے والوں کی حفاظت کے لئے سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے،،،،،،،،
تاہم واہگہ بارڈر پر گاڑیوں کا داخلہ بند ہے جبکہ عوام کو پرچم سرنگوں کر نے کی تقریب تک پہنچانے کے لئے خصو صی گاڑیوں کا انتظام کیا گیا ہے ،،،،،،،،،،،،
تاہم تقریب کا آغاز مقررہ وقت پرہوا ،، اور جب رینجرز اہلکار قومی پر چم اتارنے کے لئے میدان میں اترے تو ایسا سماں بندھ گیا کہ کہ ،،، جو بیان سے باہر ہے ،،،
جی ہاں دوستوں یقیناً ایسا دلکش روح پرور منظر ،، نعرہ تکبیر کی گونج میں ڈھول کی تھاپ میں رینجرز اہلکار وں نے قومی پرچم اتارا اور زمین پر گرنے سے پہلے ہی رینجرز اہلکاروں نے لپک کر قومی پرچم سنبھالا اور لپیٹ کر ہاتھوں میں سجا لیا اور نعروں کی گونج میں پریڈ کرتے ہوئے انداز شاہانہ میں آنا فانا عوام کی نظروں سے اوجھل ہو گئے ،،،،،،
اور اس کے ساتھ ہی تقریب اختتام پزیر ہوئی اور تقریب ختم ہوتے ہی عوام کی بڑی تعداد نے رینجرز اہلکاروں کو تصویریں بنوانے کے لئے گھیر لیا ،، تاہم ہم نے بھی مصطفٰی کی تصویریں رینجر ز اہلکاروں کے ساتھ بنوائی ،،،،،،،،،،،،
اور جب ہم گھر واپسی کے لئے روانہ ہو رہے تھے تو مغرب کا وقت قریب تھا اور ہمارا گھر بھی واہگہ بارڈر سے خاصا دور تھا اسلئے ہم نے گھر کے لئے روانگی اختیار کی تاکہ جلد از جلد گھر پہنچ سکیں ،،،،،،،،،،
اور گاڑی چلاتے اور گھر پہنچ کر بھی پرچم اتارنے کی تقریب کے مناظر ذہن پر نقش تھے ، اور تصور ہی تصور میں ان دلکش مناظر سے محظوظ ہو رہے تھے ،، بہر حال اگر کہا جائے کہ پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں نے ہمارے پیارے ملک کی حفاظت و خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ وہ قابل قدر بھی ہے اور قابل دید بھی جی ہاں ،، ہماری کیا پوری پاکستانی قوم کی دعا ہے کہ اللہ کرے پاک فوج و رینجرز کے جوان اسی طرح ہمارے پیارے ملک کی حفاظت کرتے رہیں تاکہ ہم تمام پاکستانی چین و سکھ کی لمبی نیندیں یونہی سوتے رہیں ، بہر ھال اجازت چاہتے ہیں پیارے دوستوں آپ سے تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا،،،

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو: شہر سے گزرنے والی کروڑوں روپے سے بننے والی ملتان روڈ کھنڈرات بن گئی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker