تازہ ترینعلاقائی

جھنگ:واپڈا اہلکاروں کا صحافیوں پر تشدد مکمل ثبوت دینے کے باوجود صحافیوں پر جھوٹے مقدمات کا اندراج کر دیا گیا

جھنگ(تحصیل رپورٹر)واپڈا اہلکاروں کا صحافیوں پر تشدد مکمل ثبوت دینے کے باوجود صحافیوں پر جھوٹے مقدمات کا اندراج کر دیا گیا صحافیوں کا شدید احتجاج میرٹ کی اپیل ۔تفصیلات کے مطابق منڈی شاہ جیونہ کے معروف صحافی صفدر وسیم ،جاوید اقبال ریاست علی ہاشمی اور ان کا کیمرہ مین محمد امجد گزشتہ روزموضع عاقل پور کے مکینوں نے 6روز سے بجلی کی بندش اور واپڈا کی کرپشن کے خلاف احتجاج کیا ہوا تھا جس کی کوریج کی اور سب ڈویثرن فیسکو اکڑیانوالا کے ایس ڈی او سے موقف لینے کے لیے ان کے دفتر پہنچے تو ایس ڈی او وہاں موجود نہ تھے جبکہ وہاں پر موجود میٹر انسپیکٹر ظفر، لائن سپریڈینٹ عنصر عباس ،میٹر ریڈر ثقلین ، سب ڈویثرن فیسکو شاہ جیونہ کے ایس ڈی او اورسب ڈویثرن فیسکو اکڑیانوالا و شاہ جیونہ کے دیگر مسلح ملازمین نے صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور کیمرے چھین کر توڑ ڈالے ،مائیک،لوگو،کارڈ اور پرس وغیرہ بھی چھین لیے اور صحافیوں کو کمرے میں بند کر دیا جس پر صحافیوں نے 15پر کال کی لیکن پولیس نہ پہنچ پائی متعلقہ تھانہ قادر پور کے ایس ایچ او اسرار علی ساہو کو ٹیلی فون کیا بعدازاں وہاں پر کھڑے سائلین نے صحافیوں کی جان بخشی کرائی اور پولیس بھی پہنچ گئی جس پر تھانہ قادر پور کے ایس ایچ او نے صحافیوں کو نقشہ مضروبی دی جس پر صحافیوں نے شاہ جیونہ ہسپتال سے (MLC) نمبر90/15۔91/15۔92/15 حاصل کیں اور تھانہ قادر پور پولیس کو درخواست گزار دی ڈی ایس پی سٹی جھنگ نے صحافیوں اور واپڈا والوں کو دوسرے دن گیارہ بجے طلب کیا جس پر صحافی دوسرے روز گیارہ بجے ڈی ایس پی سٹی جھنگ محمد طاہر کھچی کے پاس پیش ہوئے لیکن دو گھنٹے انتظار کرنے کے باوجود واپڈا والے وہاں نہ پہنچے جس پر صحافیوں نے اپنے مکمل ثبوت ڈی ایس پی سٹی جھنگ کو پیش کر دیے انہوں نے میرٹ کی یقین دہانی کراتے ہوئے صحافیوں کو وہاں سے روانہ کر دیا ڈی ایس پی سٹی جھنگ کی میرٹ کی یقین دہانی کے باوجود پولیس نے صحافیوں پر جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی اور واپڈا والوں کے خلاف کراس ورشن کر دیا جس پر ممبران پریس کلب منڈی شاہ جیونہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،آئی جی پنجاب ،آرپی او فیصل آباد ،ڈی پی او جھنگ سے میرٹ کی اپیل کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  جہلم : حرام کاری کروانے والی ماں اور بشارت دیگر کے خلاف مقدمہ درج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker