تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

یہ جھوٹے وعدے، یہ بھولی عوام

Tajammal Janjuaزیادہ نہیں بس چار ، ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے جب ہر طرف گہما گہمی تھی۔ روزانہ میری کٹیا کے باہر دو چار جھنڈا لگی گاڑیاں آ کر رکتیں۔ علاقہ کے نامور لوگ آتے، بیٹھتے، خوش گپیاں ہوتیں اور ہم بھی ان کی خاطر تواضع میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ پھر اٹھتے وقت ہمیں درپیش مسائل بارے بھی دریافت کیا جاتا۔ اٹھتے وقت جب ہمیں اک مسحورکن وعدے کا راگ سنایا جاتا تو ہم خوشی سے جھوم جھوم جاتے۔اور ان "معزز مہمانوں”کو see off کہنے اپنی کٹیا سے کافی آگے نکل جاتے۔
یہ ذکر تھا گزشتہ انتخابات سے چند روز قبل کا۔
خیر پھر انتخابات کا دن آن پہنچا اور ہم صبح ہی صبح سج دھج کے انتخابی سنٹر پہنچے۔ ہماری خوب آؤ بھگت کی گئی۔اور ووٹ ڈالنے جیسے اہم قومی فریضہ کی بجا آوری میں ہماری مدد بھی فرمائی گئی۔ "امیدوار” ممبر بنے، وزیر، مشیر بنے اور اسمبلیوں میں آرام دہ نشستوں پر براجمان ہونے کے بعدعوام سے یوں کنارہ کش ہوئے کہ گویا پھر کبھی ان سے واسطہ نہیں پڑے گا۔
وہ دن تھا اور آج کا دن ہے۔ ہمیں کسی امیدوار کے چہرۂ انور کی زیارت کا شرف حاصل نہیں ہو سکا۔ہاں البتہ ان چار، پانچ برسوں میں اک آدھ ممبراسمبلی اپنے حلقے میں اک دو جلسوں میں ضرور موجود پایا گیا۔ جس میں جناب نے کچھ نئے وعدے کئے، پرانے وعدوں کو ایفاء کرنے کا اک نیا وعدہ کیا، اپنے نام کی کچھ تختیاں لگائیں اور کھا اڑا کے چلتے بنے۔ یہ کہانی مسائل میں پسے ہر اس غریب باسی کی ہے جسے سوائے وعدوں کے کچھ نہیں ملتا۔
ہمارے ووٹوں سے منتخب ہونے والے لوگ اسمبلیوں میں پہنچے، اپنی مرضی کی قانون سازی کی، اربوں کمائے،کوٹھیاں، جاگیریں بنائیں۔ آج حالت یہ ہے کہ مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ روز بروز بڑھتی پیٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی اور روزمرہ کی دیگر اشیاء کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے تو دوسری طرف سیاستدان اپنی اپنی دکان چمکانے میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ جہاں ہمسایہ ممالک کی معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے وہیں وطن عزیز کی معیشت مسلسل پستی کا شکار ہے۔ اندرونی و بیرونی مسائل جہاں پاکستان کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں وہیں ہماری تمام سیا سی جماعتیں اپنی جاگیرداری و تسلط کو بچانے میں لگی ہوئی ہیں۔
اب ساڑھے چار سال سے عوام کو بھولے ممبران کو پھر سے عوام کی یاد ستانے لگی ہے۔ روز جلسے ، جلوس، ریلیاں،پھر سے وہی وعدے۔ یہ سب اس لئے کہ اگلے انتخابات میں کچھ ماہ ہی باقی ہیں اور ان لوگوں کو پھر سے ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔
چند دن بعد وہی گہما گہمی ہو گی، وہی لوگ ہوں گے، وہی وعدے ہوں گیاور پھر وہی عوام….. آہ ! ہماری سادہ لوح عوام…… !
یہ پھر انہی آزمائے گئے لوگوں کو ووٹ دے کر منتخب کریں گے، پھر انہی لوگو ں کو اسمبلیوں میں بھیجیں گے اور پھر انہی سے امیدیں لگا کر بیٹھ جائیں گے۔ اور دوسری طرف وہ لوگ پھر پانچ سال پیسہ بنائیں گے، وعدے کریں گے، اور اس بھولی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی جاگیرداری و تسلط کو قائم رکھیں گے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے کم خواندہ عوام آخر کب تک ان بہروپیوں کی باتوں میں آ کر یوں ہی ارض پاک کی تقدیر کا فیصلہ ان مفاد پرستوں کو سونپتے رہیں گے جو اپنے دھو نس و دبدبہ قائم رکھنے کی خاطر ملک کو درپیش سنگین حالات و خطرات سے نگاہیں موندے بیٹھے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ڈر ہے کہ کہیں اک اور سقوط ڈھاکہ رونما نہ ہو جائے۔
اللہ پاک میرے وطن عزیز کو تاقیامت قائم و دائم رکھے…… آمین

یہ بھی پڑھیں  نزولِ قرآن اور عظمتوں والی رات.... شبِ قدر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker