تازہ ترینکالم

جرگے کا سچ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

tariq sawatiیہ انتہائی خوش کن بات ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں کچھ لوگوں کو یہ خیال آ ہی گیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب کو سچ بول ہی دینا چاہیے کہ ہم من حیث القوم آج تک جھوٹ ہی بولتے رہے ہیں اور اپنے اپنے اقتدار اور کاروبار کو جھوٹ کی بنیاد پر ہی چلا کر اس قوم کو دھوکہ دیتے رہے ہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ قوم کا ہم پر سے اعتماد اٹھ گیا اور ایک افرا تفری کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور ادارے آپس میں ٹکرانے لگے۔ اس ٹکراؤ کو ختم کرنے کے لیے ہر ذمہ دار کو سچ بولنا پڑے گا۔ یہ باتیں کچھ روزقبل ایک ٹی ۔وی پروگرام جرگہ میں سننے کو ملیں جس جرگہ کی میزبانی سلیم صافی کر رہے تھے اور اس جرگہ میں شامل چند ذمہ دار جن میں وفاقی وزیر نذر محمد گوندل۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز، ایک ریٹائرڈ اےئر مارشل، اور سینئر وکلاء جن میں اکرم شیخ، اطہر من اللہ کے علاوہ ایاز امیر اور حامدمیر اینکر پرسن شامل تھے جنہوں نے باری باری اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ سب سے پہلے اکرم شیخ سے گفتگو کا آغاز ہوا جنہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ بات آج سے 65سال پہلے ہی کر لیتے جو آج کر رہے ہیں تو آج اتنا نقصان نہ ہو چکا ہوتا۔ ہر ادارہ اپنے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہا ہوتا۔ اسی طرح ایا زمیر نے کہا کہ ہم سب بطور سیاست دان وہ کچھ عوام کو نہ دے سکے جس کی وہ ہم سے امید لگائے بیٹھے تھے۔ یوں اطہر من اللہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کچھ اسی طرح سے کیا۔ حامد میرنے اپنا دکھڑا سنایا اور جنرل حامد نواز نے حالیہ بحث کے کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں نے سیاستدانوں کو پیسے دے کر خریدا اور آئی جے آئی کی تشکیل کی والی بحث پر اپنے خیالات کا اطہار کچھ یوں کیا کہ فوجی جرنیل تو قوم کے سر کا تاج ہوتے ہیں ۔ اس تاج کو یوں بدنام نہیں کرنا چاہیے۔ آج ملک حالت جنگ میں ہے اگر اس فوجی ادارے کے خلاف یوں ہی زیریلی باتیں جاری رہیں تو پھر ہر جونےئر آفیسر اپنے سینئر کا حکم ماننے سے انکار کرے گا جو بات بھی سچ ہے ۔ ہاں ان لوگوں کے خلاف بے شک کاروائی کی جانی چاہیے جن پر یہ الزامات ہیں مگر سارے ادارے کو بدنام نہ کیا جائے۔ الغرض اس جرگہ کے ذریعے ان تمام شرکاء نے بہت اچھی اچھی باتین کیں۔ کاش کہ اس طرح ہر ذمہ دار جن میں سب سے پہلے حکمران پھر تمام سیاستدان، پھر عدلیہ ، وکلا، فوج اور تمام سول اداروں کے سربراہ اسی طرح ٹی وی پر آ کر اپنے اچھے کام اور غلطیاں بتائیں اور آئندہ درست سمت میں چلنے کا عہد کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا یہ معاشرہ پہلے سے بہت اچھا ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کی ماں پارلیمان ہے جہاں سے ہر ادارہ ایڈوائس لے کر آگے چلتا ہے پھر انہوں نے اپنے سابقہ وزیر اعظم کے گن گانا شروع کر دیے کہ ہماری حکومت نے عدلیہ کو بحال کیا جس کی مخالفت اکرم شیخ نے کی جو بجا طور پر درست تھی کہ اگر حکومت اور سابقہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ہی عدلیہ کو بحال کرنا تھا تو پھر دن کے اجالے میں کرتے نہ کہ رات کے تین بجے بحال کرنا تھا۔ وہ بات غلط تھی کیوں کہ یہ صرف پبلک کاروبار تھا جس کے تحت رات کے پچھلے پہر اس عدلیہ کو بحال کیا گیا اور اگر ان کی اس بات پر یقین کر بھی لیا جائے کہ جناب گیلانی صاحب عدلیہ کا احترام کرتے تھے تو پھر عدلیہ کی انہوں نے بات کیوں نہیں مانی گھر جانا اور نااہل ہونا منظور کر لیا۔ مگر عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنا گوارہ نہ کیا ۔ یہ کیسا احترام ہے کہ ہم آپ کے تمام احکامات پر من و عن عمل کریں گے مگر پرنالہ وہیں رہے گا۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم آج دولت اور شہرت کی دوڑ میں اپنے ماضی کو یکسر بھول ہی گئے ۔ ہم کیا تھے ہمارے اباؤ اجداد کس بات کی و تربیت دیتے تھے ۔وہ بھی ایک وقت تھا کہ بڑوں کا ادب اس قدر کیا جاتا تھا کہ کوئی ننگے سر نہیں پھرتا تھا۔ کسی کے گھر کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوتا تھا۔ کسی کا حق مارنا یا کھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔ عورت کا بے حد احترام کیاجاتھا تھا کیوں کہ عورت ایک عظیم ماں ہے ۔ جو آج بیٹی ہے، بہو ہے بہن ہے وہ یقیناًکل ماں بنے گی اور ماں بن کر اس عظیم رتبے پر پہنچ جائے گی۔ مگر آج ہماری آنکھوں پر دولت کی پٹی باندھی جا چکی ہے۔ ہم سب مغرب زدہ ہو کر عورت کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے اشتہارات کی زینت بنا کر پیش کرتے ہیں وہ بھی اپنے تھوڑے سے عارضی اور دنیاوی فائدے کے لیے۔ اپنی ترقی کے لیے اسی عورت کا یوں سہارا لیتے ہوئے زرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ کہاں گئی وہ تعلیمات اسلامی جن تعلیمات میں یہ پڑھایا جاتا تھا کہ یہ عورت ہی تمہاری سب سے عظیم عزت ہے جس کا احترام ہر صورت میں کرنا ہے۔ اس عورت کو بازار کی زینت نہ بننے دینا۔ مگر افسوس کہ ہم اپنی ان تعلیمات کو بھول کر غیر مسلموں کے بتائے ہوئے راستوں پر چل نکلے ہیں جس معاشرے میں عورت کو وہ عزت اور مقام نہیں دیاجاتا جو اسلام نے عورت کے لئے متعین کیا ہے۔ جبکہ ہم بطور مسلمان اپنے آقائے دو جہاں جن پر اپنی جان فدا کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اگر ان کی شان میں کوئی گستاخی کا مرتکب ہو جائے تو ہم سب مل کر غصے کے عالم میں اپنی اپنی انٹ سے اینٹ بجا کر یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ ہم اپنے آقا کے ماننے والے ہیں مگر ان کی دی گئی تعلیمات پر عمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں وہ اس لئے کہ ہم دنیا دار بھی ہیں جو دنیا ہر صورت میں مال و متاع جمع کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔وہ آقائے دوجہاں اپنی صاحبزادی کے آنے پر بیٹھے ہ
وئے کھڑے ہو جاتے تھے جو پیار بھی تھا اور احترام بھی ۔ کاش ہم آج اپنی ان اقدار کو ہی درست کر لیں تو اس سے بڑا اور کوئی سچ نہیں ہوگا۔ہاں ایک وقت آتا ہے جب انسان عمر کے اس حصے میں پہنچتا ہے جس عمر میں اس کے ساتھی ایک ایک کر کے اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں تب اسے بھی اپنے جانے کا خطرہ سامنے نظر آنے لگتا ہے۔ اس وقت وہ سچ بولنا شروع کر دیتا ہے اور عبادتیں بھی بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے کیوں کہ جب اس کے پاس اختیارات تھے طاقت تھی وسائل تھے اس وقت اس نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر ہر وہ کام اور ظلم کیا جس کی اجازت انسانیت نہیں دیتی تھی۔ اب کیا فائدہ جب نہ اقتدار رہا نہ طاقت نہ وسائل تب ہاتھ میں تسبیح پکڑ کراور سر پرٹوپی پہن لی اور ہر وقت پانی میں بھیگے ہوئے چہرے کے ساتھ مسجد کو اپنا مسکن بنا لیا یہ تو سرا سر دھوکہ ہے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور اپنے ساتھ۔ ہاں اس کی ذات بڑی رحیم و کریم ہے وہ چاہے تو آپ کے کسی بھی چھوٹے سے عمل سے بخش دے اس میں ہر گز کوئی شک نہیں مگر اس نے ہم سب کو ایک خوبصورت جوانی عطا فرما کر چیک کر لیا تھا کہ ہم نے اس وقت اپنی اس جوانی کو کن کن عیاشیوں میں تباہ کر کے آخر عمر بڑھاپے میں اس کی یاد میں مصروف عمل دکھائی دینے لگے اورہم نے اس کی مخلوق کے ساتھ جو اپنے حقوق العباد پورے کرنے میں خطائیں کیں ان کا کیا بنے گا جس کے بارے میں رب نے خود فرمایا کہ یہ میں معاف نہیں کروں گا جب تک کہ میرا بندہ جس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے وہ خود معاف نہ کر دے۔ اس لئے ہمیں اپنے حقوق العباد کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور اپنی سابقہ غلطیوں اور کوتاہیوں کا محاسبہ کرتے ہوئے توبہ کرنی چاہیے ۔ بصورت دیگر آج ہم میں کوئی خوبی نظر نہیں آ رہی جو اسے پسند ہو۔ ہم آج جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ بھی صرف دکھاوے کے لیے اور یہ بھی اسی کا فرمان ہے کہ اے میرے بندے اگر تو صرف میری رضا کے لیے کوئی عبادت کرے گا تو اس کا صلہ میں دوں گا اور اگر صرف دکھاوے کے لیے کرے گا گو پھر جس کو دکھا رہا ہے صلہ بھی اسی سے ہی مانگنا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ کریم ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے اور سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے!
حکمت دیں دلنوازی ہائے فقر قوت دیں بے نیازی ہائے فقر
ترجمہ۔ دین کی حکمت تو فقر کی ادائے دلنوازی ہے مگر دین کی قوت فقر کی ادائے بے نیازی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بہاولپور:ٹبہ بدر شیر میں اے ایس آئی غلام مرتضی اور نکاح خواں شاہ محمد نے بھاری رقم کے عوض حاملہ خاتون کا نکاح پڑھوا دیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker