تازہ ترینکالممحمد فرقان

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں

Muhammad Furqan logoاردو کا ایک محاورہ ہے’’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘‘جس سے آپ پہلے بھی بخوبی واقف ہوں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو باتیں بہت کرتے ہیں اندر سے کھوکھلے اور کمزور عقائد کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے پاس سوائے باتیں کرنے کے کچھ نہیں ہوتاکیونکہ عملی کام تو ایسے لوگوں کے بس کی بات نہیں تو بس پھر وہ بڑی بڑی باتوں سے ہی گزارہ کرتے ہیں۔
ماضی قریب کے چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات میں سے ایک دلچسپ واقعہ قادری صاحب کا بھی ہے۔سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے کہ میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی بات کر رہا ہوں کیونکہ انہوں نے اپنی جس سیریل کا آغاز 23دسمبر 2012سے کیا تھااُس سیریل کواس محاورے کے ساتھ نتھی کیا جا سکتا ہے یہ سیریل تو بڑی دلچسپ تھی مگر اِس کا نتیجہ (End) کچھ اچھا نہیں ہوا ۔طاہر القادری صاحب نے 23دسمبر کو مینارِپاکستان پر ہونے والے جلسے میں حکومت کو مہلت دی کہ 18دنوں کے اندر اندر اپنے اندرونی معاملات درست کر لے ورنہ 14جنوری کو ہم اسلام آباد کو تحریر اسکوائر بنا دینگے۔طاہر القادری صاحب کو عقل سے کام لینا چاہیے تھا کہ جو معاملات اسی حکومت کے ہوتے ہوئے پچھلے پانچ سالوں سے درست نہیں ہوئے وہ آپ کی اِس دھمکی سے کیسے صرف 18دنوں کے کم ترین وقت میں درست ہو سکتے ہیں ۔
دلفریب با ت تو یہ ہے کہ کیسے ایک ایسا شخص جو پچھلے پانچ سالوں سے کینڈا میں رہائش پذیر رہا اور کینڈین قومیت بھی رکھتا ہے اور پاکستان آتے ہی یہاں کی حکومت کو مہلتیں دے رہا ہے کہ ایسا کر دو ،ویسا کر دو اور خود نہ تو کسی پارٹی سے الیکشن کے ذریعے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچا بس صرف مطالبات وہ بھی عجیب و غریب اور غیر آئینی جیسے الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو۔اصل میں طاہر القادری صاحب کی پشت پناہی کوئی خاص قوت کر رہی ہے جو پہلے عمران خان صاحب کے ساتھ تھی اور مینارپاکستان پر ہی تحریکِ انصاف کا جلسہ منعقد کرایا تھا اب اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں کہ وہ خاص قوت اپنے مقاصد کا آغاز مینارپاکستان سے ہی کیوں کر تی ہے سمجھدار لوگ تو بخوبی واقف ہوں گے پشت پناہی کرنے والی قوت کے متعلق۔
پچھلے دنوں میری بات جنت پاکستان پارٹی کے امیر ڈاکٹر اثر السلام سید صاحب سے اِسی موضوع پرہو ئی تو اُن کا یہی کہناتھاکہ بس قادری صاحب دو چار دن نعرے مار کے اور پاکستانی عوام کو ذلیل و خوار کر کے واپس کینڈا لوٹ جائیں گے۔ ڈاکٹر اثر السلام سیدنے طاہر القادری صاحب کے متعلق سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا قادری صاحب کینڈا کے شہری ہونے کے ناتے کینڈا میں بھی ایسا ہی دھرنا دینے کی سکت رکھتے ہیں؟میرے خیال میں اِس سوال کا جواب شائد منفی میں ہو کیونکہ قادری صاحب کینڈا میں ایسا دھرنا کبھی بھی نہیں دے سکتے۔ قادری صاحب شائد حکومت میں چھلانگ لگا کر آنا چاہتے تھے جس کے لیے وہ کافی بڑا تیر مار رہے تھے جو 14جنوری کو واپس لوٹ کر انہی کو ہی لگا جب سپریم کورٹ نے اُن کی رِٹ خارج کیاور چیف جسٹس نے کھڑے کھڑے جواب دیئے ، طاہر القادری صاحب انقلاب لانے کے خواب میں تھے لیکن اُن کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکا۔میں تو اُس بیان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن نبیل گبول نے طاہر القادری سے مخاتب ہو کر دیا کہ قادری صاحب مدرسہ چلانے اور ایک ملک چلانے میں بڑا واضح فرق ہے۔طاہر القادرصاحب کے جب حکومت سے مزاکرات کامیاب ہو گئے تو بس صرف ایک پوائنٹ پر ابھی تکرار باقی تھی جسے سپریم کورٹ میں پیش کر دیا جس کا متن الیکشن کمیشن کو تشکیلِ نو تھا۔سپریم کورٹ میں طاہر القادری صاحب نے اپنی طرف سے وکیل کے بجائے خود دلائل دے کر اپنی عزت کی رہی سہی کسر نکال دی۔
آخر پر میں تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ طاہر القادری صاحب کے دھرنے سے کیا کھویا اور کیا پایا۔تو جہاں تک بات ہے کہ دھرنے سے کیا پایا صرف گونجتے نعرے اور نقصانات کی طرف نظر دورائیں تو بے شمار نظر آئیں گے۔دھرنے کے صرف تین دنوں میں پاکستان کی معیشت کو 80ارب روپے کا نقصان ہوا،سردی کی وجہ سے دھرنے کے ہزاروں شرکاء بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے۔لاہور سے اسلام آباد تک نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔جناح ایونیو پر ٹنوں کچڑا جمع ہو گیا تھا اور اُن دنوں سرکاری دفاتر مین حاضری نہ ہونے کے برابر تھی اصل میں دیکھا جائے تو دھرنے سے فائدہ صفر اور نقصانات بے شمار ہوئے کیونکہ طاہر القادری صاحب نے نعرے تو بہت مارے لیکن سیانے کہتے ہیں نا جو گرجتے ہین وہ برستے نہیں۔note

یہ بھی پڑھیں  میں نے جو کچھ کیا وہ عوام کے وسیع تر مفادات کی خاطر کیا، ارشد محمود

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker