شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / جو خوف سرسری تھا وہ دل میں اتر گیا

جو خوف سرسری تھا وہ دل میں اتر گیا

خوف کیا ہے ؟
 یہ آتا کہاں سے ہے ؟
 یہ ہوتا کیوں ہے ؟
اس کا ہم سے رشتہ کیا ہے ؟
کیا ہم خوف کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ؟
کیا خوف ہمارے وجود کا  لازمی حصہ ہے ؟
کبھی کبھی  اس پر غور کرتا ہوں تو بہت گہری سوچ میں ڈوبتا چلا جاتا ہوں ۔ یوں جیسے کوئی غیر محسوس طریقے سے  کسی گہرے دلدل میں لمحہ لمحہ اترتا چلا جائے۔
جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی
جو خوف سرری تھا وہ دل میں اتر گیا
خوف کے حوالے سے میرے سوالات اس سے کہیں  زیادہ ہیں جتنا اس کالم میں درج ہوئے ہیں ۔ سب کا ذکر کرنے لگوں تو مجھے
”  خوف ” ہے کہیں کالم کی ساری جگہ سوالات ہی نہ گھیر لیں ۔
خوف میرا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں شاید تمام عمر اس کا بری طرح اسیر رہا ہوں ۔
میں احساس کمتری کا شکار رہا ہوں جو خوف کا لازمہ ہے .
میں دعویٰ سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ احساس کمتری کا شکار ہوں یا احساس برتری کا وہ لوگ ہر حال میں کسی نہ کسی خوف کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
 اس کی بہت سی حسی مثالیں موجود ہیں اور میری اپنی زندگی اس کی مضبوط گواہ اور دلیل ہے ۔
آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں جو شاید بہت سے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دے ۔ اپنے طالب علمی دور میں جب کبھی میں سکول نہیں جاتا تھا تو اس خوف سے کہ سکول میں مار پڑے گی ‘ ساری رات جاگتا رہتا تھا۔ کہ اگر آنکھ لگ گئی تو سورج جلد طلوع ہو گا  اور پھر پٹائی کا وقت بھی جلد آئے گا۔ سو رات کو جاگتا رہتا تھا اور اپنی پوری کوشش کرتا کہ میری آنکھ نہ لگے ۔ لیکن بلآخر ہار کر سو جاتا ۔ یہ وہ وقت تھا جب ”  مار نہیں پیار ” کا سنہری اصول ابھی متعارف نہیں ہوا تھا ۔ممکن ہے اس کی موجودگی میں  یہ خوف کم ہوتا اور طالب علم سکون کی نیند سو پاتے ۔
میری اپنی زندگی کسی کھلی کتاب کی طرح سامنے ہے اور اس کا شاید ایک ایک ورق خوف سے لبریز دکھائی دیتا ہے۔ خوف کے کتنے پہلو ہیں اور اس کے اثرات کتنے گہرے ٬ کچھ بھی میرے نگاہوں  سے اوجھل نہیں۔ میں نے نہم جماعت علی پور ہائی اسکول سے پاس کی ۔ اس وقت نہم کے کل سات سیکشن تھے ۔ میں کلاس میں اول رہا اور اوور آل میری پوزیشن دوسری تھی ۔ جن دنوں رزلٹ اناونس ہونا تھا ۔ میں اوچ شریف  میں تھا اور اس خوف سے کہ مجھے اسٹیج پر بلایا جائے گا اور کچھ بولنے کے لیے بھی کہا جائے گا ‘ میں نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے اس تقریب میں شرکت نہیں کرنی چاہیے ۔ سو میں نے یہ تقریب مس کر دی ۔ میرے کلاس انچارج کئی عرصہ مجھ سے ناراض رہے ۔
یہ سب کیا تھا اور کیوں تھا ؟ صرف اور صرف اعتماد کی کمی احساس کمتری ۔ دنیا کا ہر مذہب  اپنے ماننے والوں سے ایک ہی مطالبہ کرتا ہے اور وہ ہے  خود اعتمادی ٬  جو خود آگاہی کا لازمہ ہے ۔ انسان کا سب سے بڑا سرمایا اس کی خود اعتمادی ہے اسکی  خود آگاہی ہے۔
یہی چیز انسان کو صاحب حال بناتی ہے ۔ کبھی لکھا تھا
” جو صاحب حال نہ ہو اس کا حال دیکھنے والا ہوتا ہے ” ۔
 کتاب کہتی ہے کہ خدا فراموش کو خود فراموشی گھیر لیتی ہے ۔ راقم اس کالم میں اپنے ذاتی تجربات شئیر کر رہا ہے ۔ انسان آج اگر ذہنی خلفشار کا شکار ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے یعنی خدا فراموشی ۔
انسان کا اپنی ذات سے جب جب  رابطہ ٹوٹتا ہے تو اس کی شخصیت تحت الثریٰ میں جا گرتی ہے ۔ اس کا اپنی ذات سے ربط تب ٹوٹتا ہے جب اس کا تعلق اور ربط اپنے رب سے ٹوٹتا ہے ۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ انسان ٹوٹ کر ٬ بکھر کر ٬  اجڑ کر رہ جاتا ہے ۔ اس کی حالت اس سیارے جیسی ہو جاتی ہے جو اپنے مدار سے ٹوٹ جائے اور اب وہ فری فال باڈی کی طرح فضا میں گرتا چلا جاتا  ہے اور یہ کٹی پتنگ پستی کی گہرائیوں  میں جا پڑتا ہے ۔
اب ایسی حالت میں انسان دو حالتوں میں  تقسیم ہو جاتا ہے ۔ داخلیت پسند تنہائی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے اور خارجیت پسند گلیوں کی خاک چھانتا پھرتا ہے ۔ علاج دونوں کا ایک سا ہے ۔ اپنے رب کے ساتھ ٹوٹے تعلق کو پھر سے استوار کرنا ۔ اور یہ صرف  سوچنے سے نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے ۔ عمل واحد ماسٹر کی  ہے جو ہر طرح کا تالا کھول دیتی ہے  ۔ صراط مستقیم پر  لازما قدم اٹھانا پڑتا ہے  ۔ صبر اور نماز سے مدد طلب کی جاتی ہے ۔ یوں  رفتہ رفتہ شخصیت میں ٹھہراؤ سا اترتا  ہے ۔ اپنی ذات سے ٹوٹا ربط پھر سے استوار ہونے لگتا ہے ۔ کٹی پتنگ میں پھر سے ڈور پڑ جاتی ہے ‘  اس کا سرا اس کے ہاتھ میں آ جاتا جس نے پوری  کائنات کو سنبھال رکھا ہے ۔ اعتماد کی قوت عود کر آتی ہے ۔ انسان غفلت سے بیداری کی طرف لوٹ آتا ہے ۔ گتھی سلجھ جاتی ہے ۔ گنجلک دھاگوں کا وہ سرا ہاتھ آ جاتا ہے جو سارے دھاگے پھر سے سیدھا کر دیا کرتا ہے ۔
آپ نے دیکھا ہو گا جب چھوٹے بچے کو آپ ہوا میں اچھالتے ہیں  تو بجائے رونے کے وہ ہنستا ہے ٬  کھلکھلاتا ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے جن  ہاتھوں نے ہوا میں  اچھالا ہے وہی ہاتھ اسے سنبھال بھی لیں گے  ۔ تو کیا خیال ہے جس نے ہمیں وجود بخشا اور اس بے بسیط  کائنات میں اچھالا ہے کیا وہ اپنے بندے کو گرنے دے گا ؟
۔ نہیں
 ہرگز نہیں
بالکل بھی نہیں
میں جہاں کہیں بھی پھسل وہیں گرتے گرتے سنبھل گیا
مجھے ٹھوکروں سے پتہ چلا میرا ہاتھ ہے کسی ہاتھ میں
یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ میں مختلف مقامت سے چھ لڑکیاں اغواء کرلی گئیں

What is your opinion on this news?