تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

جوڈیشل کمیشن کا قیام اور تحریکِ انصاف کی واپسی

imran farooqمشرقِ وسطیٰ اور یمن کی مخدوش صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ۔ جس میں پی ۔ٹی ۔آئی نے بھی شرکت کی ۔ عمران خان متعدد بار جو ڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا اعلان کر چکے تھے ۔ ایم ۔ کیو ۔ایم ، اے ۔این ۔پی، جمعیت علماء پاکستان اور مسلم لیگی ہاکس (Hawks) نے پی ٹی آئی کی اسمبلی میں واپسی پر کافی شور شرابہ کیا ۔ مسلم لیگی ہاکس کے علاوہ دوسری پارٹیوں کیطرف سے مچایا جانے والا شور و غل تو سمجھ آتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اُنکی روزی روٹی اور برسوں کی چودھراہٹ کو چیلنج کیا ہے ۔ لیکن مسلم لیگی ارکان کا واویلا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگی قیادت سیاست کی باریکیوں سے نا بلد ہے ۔ مسلم لیگی قیادت ہمہ وقت عوامی سطح پر یہ تاثر پھیلانے کی سر توڑ کوشش کرتی نظر آتی ہے کہ عمران خان اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ اسی لیئے تمام میڈیا چینلز پر عمران خان کو یو ٹرن خاں کے خطاب سے نوازا جا رہا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی یہ سیاسی چال ہے ۔ اس سے پہلے گزشتہ الیکشنز سے قبل آصف علی زرداری کو بھی ہر فورم پر مسٹر ٹین پر سنٹ (10 Percent) کا خطاب دیا گیا تھا ۔
یہ سچ ہے کہ عمران خان ابھی پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ سیکھ رہے ہیں کیونکہ اُنہوں نے سیاست کی تعلیم بر طانیہ سے حاصل کی ہے۔ لیکن عمران خان کے 126روزہ دھرنہ نے پاکستانی سیاست کو ایک نئی جہت دی ہے ۔ سیاست ڈرائینگ رومز (Drawing Rooms) سے نکل کر عوامی رنگ اختیار کر چکی ہے ۔ آج اس ملک کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ ہمارے سیاسی ارباب اختیار کیا گُل کھلاتے رہے ہیں اور کسطرح اپنے اپنے اثاثہ جات بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں۔ یہ عمران خان کی حکومت مخالف مُہم کو اعجاز حاصل ہے کہ ایک عام پاکستانی بھی سیاسی معاملا ت کی سمجھ بوجھ رکھنے لگا ہے ۔ عمران خان کو یوٹرن خان کہنے والے بھول گئے ہیں کہ مشرف کے خلاف مہم جُوئی کے بعد معافی کس نے مانگی تھی اور سعودی عرب کون فرار ہو گیا تھا ؟ جبکہ ساتھ والی بیرک میں غوث علی شاہ بلاوے کے انتظار میں حسرت بھری نگاہوں سے دروازہ کو تکتے رہے تھے ۔ آصف علی زرداری کو چور اور ڈاکو کہنے والے آج کس طرح اُسی زرداری کے ساتھ عہدو پیمان کر رہے ہیں اور رشتے داریاں قائم کر رہے ہیں۔ طوالت کے پیشِ نظر یہ تازہ ترین مثالیں ہی کافی ہیں ۔
عمران خان اِس اسمبلی کو دھاندلی کی پیداوار کہتے ہیں ۔ اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ مئی 2013 ؁ء میں ہونے والے الیکشنز میں کھل کر دھاندلی کی گئی ۔ صوبہ پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں کچھ مخصوص نشستوں اور بلوچستان سارے میں مینڈیٹ چُرانے کا کھیل کھیلا گیا ۔ جوڈیشل کمیشن کا قیام اِس سارے کھیل کو بے نقاب کر دیگا ۔ گزشتہ انتخابات میں انتہائی سائنٹیفک (Scientific) انداز میں دھاندلی کی گئی ۔جن نشستوں پر دھاندلی کرنا مقصود تھا وہاں پر ایم پی اے کیلئے بیس ہزار اور ایم این اے کیلئے چالیس ہزار کے بعد گنتی شروع کی گئی ۔ اس عمل کی تیاری الیکشنز سے پہلے ہی کر لی گئی تھی ۔ انتخابی دھاندلی بھی دہشتگردی کی ہی ایک قسم ہے اُمید واثق ہے کہ جن قوتوں کے اشارے پر جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے وہ اِسے منطقی انجام تک ضرور پُہنچائیں گی۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker