تازہ ترینصفدر علی حیدریکالم

جوہری تبدیلی

نائن الیون ابھی کل کی بات لگتی ہے – ہم خوب انجوائے کر رہے تھے کہ دیکھیں خود کو سپر پاور کہا کرتے تھے ‘ کیسا مزا چکھایا ہے امریکہ دشمنوں نے امریکہ”  بہادر ” کا  – اسی دوران ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا – وہ کہہ رہے تھے ” مسلمانوں کو چاہیے کہ سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگیں اور دعا کریں کہ ہم مسلمان امریکہ کے عتاب سے بچ جائیں ” –
ان کا یہ بیان سن کر حیرت کا شدید جھٹکا سا لگا کہ یہ اتنے بڑے عالم دین کو ہو کیا گیا ہے – ان کے دل میں امریکہ کا کتنا ڈر بیٹھا ہوا ہے – اور پھر کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ امریکی صدر نے یہ کہہ کر دنیا کو اپنا ہمنوا بنا لیا کہ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں یا امن دشمنوں کے ساتھ  ۔۔۔۔۔ اور پھر امریکی درندے افغانستان پر چڑھ دوڑے – پھر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی  – پھر بات شام کی تاراجی تک جا پہنچی – اسلامی دنیا پر قیامت ٹوٹ پڑی اور ہمیں ڈاکٹر صاحب کی بات اور انکی دور اندیشی کا قائل ہونا پڑا –
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ  نائن الیون نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا – دنیا دہشت گردی کے خلاف یک سو ہو گئی اور آزادی کی تحریکوں کو شدید جھٹکا لگا – ہمارے ازلی دشمن نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا جس سے  کشمیر کاز کا نا قابل تلافی نقصان پہنچا – نائن الیون کی وجہ سے پاکستان کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا – پورے دنیا میں ہماری شناخت ایک دہشت گرد ملک کی حیثیت سے ہونے لگی – ستر ہزار جانوں کا نذرانہ دینے اور اربوں ڈالر کا  مالی نقصان برداشت کرنے کے باوجود ہمیں ڈو مور کی ڈگڈگی پہ نچایا جاتا رہا – یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ نائن الیون کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑا اور ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گئے –
کرونا وائرس کو اگر ایک اور نائن الیون کہا جائے تو ہرگز بے جا نہ ہو گا – کرونا وائرس نے بھی دنیا بدل کر رکھ دی ہے –  بلکہ یہ کہنا ہو گا کہ دنیا میں ایک جوہری تبدیلی پیدا ہوئی ہے – انسان نے جتنا بے بس اب خود کو محسوس کیا ہے پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا – عالمی معیشت کو ایسا دھچکا پہنچا ہے کہ اس کے بدترین اثرات تادیر محسوس کیے جاتے رہیں گے -دس لاکھ افراد کے بے روزگار ہو جائیں گے ‘ پانچ لاکھ سے زائد  افراد وبا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے پھسل جائے گی ” – یہ قیاس آرائیاں کسی بھی ذی ہوش شخص کے ہوش اڑانے کو کافی ہیں – کوئی ملک اس کی تباہ کاریوں سے بچ نہیں پایا – تباہی کے وار تا حال جاری ہیں – شاید کرونا کی بلا کو پوری طرح ختم ہونے میں  مہینوں لگیں – اس کے بعد  بحالی کا کام شروع ہونا ہے جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں – سر جوڑ کو بیٹھنے کا وقت ہے – ترقی یافتہ ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو یک سو کر آگے آنا ہو گا – انہی غریب ممالک کی مالی امداد کرنا ہوگی – اور اس سے بڑھ کر  یہ کہ تمام قرضے معاف کرنا ہوں گے – تب کہیں جا کر تیسری دنیا کے ممالک اپنی اپنی مملکتوں کو اس بحران سے بچا اور نکال پائیں گے – آخر میں کچھ بعد پاکستان کی ہو جائے -احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپوں کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے اور تقسیم کاری کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لگ یہی رہا ہے کہا لاک ڈاون کی ساری کوششوں پر پانی پھر جائے گا اور امداد لینے کے چکر میں انسانوں کے کرونا وائرس کا شکار بننے کی راہ ہموار ہو گی –
ڈاکٹر معیز پیرزادہ کی اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ لوگوں کو بارہ ہزار نقد دینے سے بہتر ہوتا انہوں شہر کی بڑی دکانوں سے بارہ ہزار کا راشن لے کر دے دیا جاتا تو لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگنے سے باآسانی بچا جا سکتا تھا – کاش اس سلسلے میں ارباب دانش سے رائے لے لی جاتی.
یہ بھی پڑھیں  ’’بھارت کی کہہ مکرنیاں‘‘

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker