اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

جوش ملیح آبادی کی آخری محفل

ستار کی مدھر آواز ہال نما کمرے میں گونج رہی تھی۔سب دم سادھے بیٹھے تھے۔پرانی فلموں میں دکھائی جانے والی کوٹھی کی مانند ٹی وی لاؤنچ،ڈرائنگ روم نما ہال سے اوپر کی منزل میں جاتی سیڑھیاں اور اوپر بالکونی۔تیس چالیس مرد و خواتین دو تین قطاروں میں فرش پہ بچھے قالین پر بیٹھے تھے۔سامنے ہی کچھ فاصلے پہ ایک شخص خاموشی سے فرش پہ بیٹھا ہوا تھا،اس کے ساتھ ایک لڑکی دلنواز انداز میں ستار بجا رہی تھی۔چند منٹ بعد اچانک اس خاموش شخص کی آنکھوں میں چمک آ جاتی، اس کے ہونٹ زیر لب مسکرانے لگتے اور وہ شاعری کے انداز میں اظہار خیال کرنے لگتے۔وہ شخص خاموش ہوتا تو ستار کی دھن تیز ہو جاتی،وہ شخص جب بولتا تو سامنے بیٹھے افراد ’’واہ واہ ‘‘ کر اٹھتے۔وہ شخص جوش ملیح آبادی تھا اور وہ جوش ملیح آبادی کی فی البدیح شاعری کی ایک یادگار محفل تھی جس میں جوش ملیح آبادی کی شاعری کے پس منظر میں ان کی پوتی تبسم کے ستار کی دھن نے محفل کو چار چاند لگا دیئے تھے۔یہ غالبا 1975ء کی بات ہے کہ جب مجھے زبان اردو میں جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ عالمی شہرت یافتہ ایک عظیم شاعر و ادیب جوش ملیح آبادی کی فی البدیح شاعری کی اس یادگار محفل میں شرکت کا موقع ملا۔شاید یہ جوش ملیح آبادی کی شاعری کی آخری محفل تھی۔
جوش ملیح آبادی کے بیٹے سجاد حیدر نے میری والدہ کو اپنی منہ بولی بیٹی بنایا ہوا تھا اور وہ کئی بار اپنی بیٹیوں ،بیٹے اور اہلیہ کے ہمراہ ہمارے گھر آئے۔ایک دن سجاد حیدر کا ٹیلی فون آیا اور انہوں نے ہمیں اپنے گھر پہ جوش ملیح آبادی کی محفل میں شرکت کی دعوت دی۔ایک بوتل اور ایک جام جوش ملیح آبادی کے سامنے موجود تھے۔تبسم کے ستار کی دھن نے کچھ ایسا ماحول بنایا تھا کہ خاموشی کے باوجود تمام موجود افراد اس شاندار محفل سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ستار کی مدھر دھن میں جوش ملیح آبادی کبھی خاموشی سے سامنے بیٹھے افراد پر نظر ڈالتے کبھی سپاٹ چہرے کے ساتھ ہوا میں دیکھتے رہتے اور کبھی اچانک اک انداز کے ساتھ وارد ہونے والے شعر سنانے لگتے۔اس وقت میری عمر تقریبا 11سال تھی۔جوش نے اپنی شاعری میں کیا اظہار خیال کیا،مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن ہال میں داخل ہوتے ہی میں نے وہاں بیٹھے جوش ملیح آبادی کو پہچان لیا اور اس وقت بھی مجھے اس بات پہ فخر محسوس ہوا کہ میں نے جوش ملیح آبادی کو اپنے سامنے دیکھا ہے،ان کی فی البدیح شاعری کی محفل میں شرکت کی ہے،کیونکہ میں جوش ملیح آبادی کی آب بیتی ’’ یادوں کی بارات ‘‘ کے کئی حصے پڑھ چکا تھا۔دراصل جب سے میں پڑہنے کے قابل ہوا،میں نے اپنے والد گرامی خواجہ عبدالصمد وانی(1935.2001)کی لائیبریری سے استفادہ شروع کر دیا۔ہمارے گھر کی چھت پہ بنے ایک کمرے میں قائم اس لائیبریری میں مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں موجود تھیں ۔چھ،سات سال کی عمر میں زیادہ دلچسپی ڈائجسٹ پڑہنے میں ہوتی تھی لیکن سوانح عمری اور سفر نامے پڑہنے میں بھی لطف آتا تھا۔والد صاحب کی طرف سے سخت پابندی تھی کہ کوئی بھی کتاب لائیبریری سے باہر نہیں لیجائی جا سکتی ۔میں اور میرے بڑے بھائی لائیبریری کی ایک کھڑکی کی کنڈی کھلی رکھ دیتے اور والد صاحب کی غیر موجودگی میں اپنی دلچسپی کی کتابیں نکال لیتے اور چھپ کر پڑہتے۔
شبیر حسین خان المعروف جوش ملیح آبادی 5دسمبر1894کوضلع لکھئنو کے ایک قصبے ملیح آباد میں ایک نواب خاندان میں پیدا ہوئے۔1914ء میں آگرہ کے سینٹ پیٹر کالج سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا،عربی اور فارسی پڑھی اور ٹیگور یونیورسٹی میں بھی چھ ماہ تعلیم حاصل کی۔1916میں والد کی وفات پر کالج کی سلسلہ تعلیم ترک کرنا پڑا۔شاعری جوش کو والد کی طرف سے ورثے میں ملی۔1925میں ریاست حیدر آباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں ترجمے کے شعبے کے نگران مقرر ہوئے۔جوش برٹش راج سے آزادی کے داعی تھے،آزادی کی اس جدوجہد میں شامل رہے اور اسی حوالے سے کئی اہم سیاستدانوں سے ان کے قریبی تعلقات رہے جن میں جواہر لعل نہرو نمایاں ہیں۔1954میں ہندوستان نے جوش ملیح آبادی کو ’’پدھما بھوشن‘‘کا ایوارڈ دیا۔ہندوستان میں اردو پر ہندی کے غلبے اور ایسی ہی مجموعی صورتحال پر جوش نے 1958میں ہجرت کر کے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن جوش ملیح آبادی پاکستان کی سوچ سے پاکستان چلے آئے۔’’اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں‘‘ جوش ملیح آبادی کی پاکستان سے محبت کا ایک اظہار ہے ۔جوش نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور انجمن ترقی اردو کے لئے کام کیا۔وفات سے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد منتقل ہوئے۔پاکستان میں حکومتوں نے ان سے برا نہیں تو کوئی اچھا سلوک بھی نہیں کیا اور اتنی بڑی شخصیت سے اچھا سلوک نہ کرنا بھی برے سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔پاکستان میں سرکاری سطح پر نظر انداز کئے جانے کی صورتحال کے تناظر میں ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جوش ملیح آبادی کو اپنے خاندان سمیت ہندوستان واپس آنے کی دعوت دی لیکن جوش ملیح آباد ی نے انکار کر دیا۔جوش ملیح آبادی تو محبت کے درد کو بھی رسوا کرنے کے قائل نہیں تھے،وہ اپنی پاکستان کی سوچ کے درد کو کیسے مغلوب ہوتا دیکھ سکتے تھے۔جوش نے ہندوستان جانے سے انکار کر دیا اور پاکستان میں ہی مرنا پسند کیا۔
جوش ملیح آبادی کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں تاہم ان کی اپنی سوانح حیات ’’ یادوں کی بارات‘‘ کو اردو ادب میں ایک شاہکار کی حیثیت حاصل ہے اور ان کی یہ سوانح عمری اردو کے نصاب کا حصہ بھی ہے۔جوش کی شخصیت اور ان کے نظریات و خیالات کو سمجھنے کے لئے ’’ یادوں کی بارات‘‘ ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔’’یادوں کی بارات‘‘ اس دور کی ثقافت،رواجات کی بھی ایک بہترین تصویر پیش کرتی ہے۔ برطانوی ہندوستان میں نوابوں ،امراء کے زوال کی منظر کشی بھی اس سوانح عمری کی ایک گواہی ہے۔جوش نے ’’ یادوں کی بارات‘‘ میں مختلف شخصیات کے جو خاکے پیش کئے ،وہ اپنی جگہ ادبی شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔جوش نے’’یادوں کی بارات‘‘ میں معاشرے کے رواجات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں بھی ایسا سچ بولا ہے جس کی ہمت بہت کم لوگ کر سکتے ہیں،حتی کہ اپنے ہر قسم کے معاشقوں کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔جوش کا سچ اس کے کلام میں بھی نمایاں نظر آتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دل خود بخود جوش کی سچائی کی گواہی دینے لگتا ہے۔
جوش ملیح آبادی کو اپنے بیٹے سجاد حیدر کی بیماری کا دکھ ایسا نمایاں تھا کہ میں نے بھی اسے محسوس کیا۔دنیائے ادب کی یہ عظیم شخصیت22فروری1982کو اسلام آباد میں وفات پا گئی۔2013ء میں جوش ملیح آبادی کو ان کی وفات کے تین عشروں کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے ہلال امتیاز کا ایوارڈ دیا گیا۔دنیائے اردو کی اس عظیم شخصیت کی قبر پہ تحریر ہے کہ
جب زیست پہ ہوتے ہیں ترانے ممنوع
تب کار سرود موت کرتی ہے شروع
ہر شاہ و گدا قبر میں ہوتا ہے غروب
شاعر افق لحد سے ہوتا ہے طلوع
اے شاعر دانا خس و خاشاک نہ بن
اکسیر ہے تو سرنہ جھکا خاک نہ بن
آئندہ زمانے کی امانت ہشیار
اٹھ لحد موجود کی خوراک نہ بن

یہ بھی پڑھیں  ایک سال میں سی این جی کی قیمت میں47 فیصد اضافہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker