امجد قریشیتازہ ترینکالم

میں نے ‘‘جرنلسٹ فاؤنڈیشن‘‘ کیوں جوائن کی

’’ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے جو کام آئیں دوسروں کے‘‘۔لوگوں کی خدمت کو عبادت سمجھ کر کرنا بنا کسی لالچ و حرص کے صرف خدا کی خوشنودی کیلئے اسے لوگ آج کل ناپید ہوچکے ہیں۔بہت سے ایسے نامور لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنا آپ بھلا کر اپنی ساری زندگی صرف لوگوں کی خدمت میں وقف کردی ،ایسے باہمت اور مخلص لوگ تاریخ میں امر ہوگئے۔ہر شعبہ زندگی میں ایسے لوگ ضرور ہیں جو اپنے اندر اپنے ہی ادارے کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں جس کیلئے دن رات ایک کئے دیتے ہیں،دیگر شعبہ جات کی بات کی جائے تو تمہید گفتگو طویل ہوجائے گی، یہاں صرف شعبہ صحافت پر بات کرنا ہی کافی ہے کیونکہ لوگوں کی نظر میں توصحافت ایک بہت شاندار،باوقار شعبہ کہلاتا ہے جو کہ بجا بھی ہے، مگر اکثریت اس شعبہ سے منسلک لوگوں کے اندرونی حالات سے واقفیت نہیں رکھتے ،کئی جگہوں پر انتہائی نامساعد حالات کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے جس پر بعض دفعہ اکثر مالکان ایک طرف ہوجاتے ہیں اور مشکلات کا سارا بوجھ اُس خبر یا تحریر سے منسلک صحافی پر آجاتا ہے ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اپنی جان جوکھوں اور اپنے بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر ایک خبر کیلئے صحافی حضرات کو جو کچھ کرنا پڑتا ہے وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن اس کے برعکس ان لوگوں کی وہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جس کے وہ حقدار ہیں ۔بہت سے ایسے نامور صحافی گزرے ہیں بوقت بیماری د وا خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دیدی، اب بھی بیشتر ایسے لوگوں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں جو جانفشانی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اُن کے گھروں کے حالات ایسے ہیں کہ ایک ٹائم کھانا بنتا ہے تو دوسرے وقت فاقہ کرنا پڑتا ہے ۔
میں عرصہ 99ء اوئل عمری سے ہی شعبہ صحافت سے منسلک ہوں ۔ اخبارات میں کام کا آغاز کمپیوٹر سیکشن سے شروع کیا پھر اپنے کام کی بدولت چند مہینوں میں ہی ترقی کرتا ہوں کمپیوٹر انچارج بن گیا ۔لیکن شاید اندر صحافتی جراثیم شروع سے ہی کلبلا رہے تھے ،دن کے ٹائم ایک اخبار میں بطور پروف ریڈر کام کا آغاز کیا ، ساتھ ہی لکھنا بھی شروع کردیا اسی طرح 2002 میں باقاعدہ صحافت کی فیلڈ میں قدم رکھ دیا اور ایک ادارے کیلئے رپورٹنگ شروع کردی ،کچھ ہی عرصہ بعد کمپیوٹر سیکشن کی فیلڈ کو خیر آباد کہہ کر ایک ادارے میں بطور سب ایڈیٹر کام شروع کردیا ۔اسی اثناء میں ملک سے باہر جانے کا اتفاق ہوا اور 2003ء میں ملک سے باہر چلا گیا ، وہاں بھی شوق صحافت جاری رکھا ،ایک اُردو ہفت روزہ میں بطور اانچارج ایڈیٹوریل صفحہ پارٹ ٹائم کام شروع کردیا اور باقاعدہ اداریہ لکھنا شروع کیا ۔پھر کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر وطن واپس آنا پڑا اورپاکستان آکر بھی صحافت کا سفر مستقل جاری و ساری ہے اور ایک اشاعتی ادارے سے تاحال منسلک ہوں (یہ الگ بات ہے کہ مجھے آج تک پریس کلب کی ممبر شپ نہیں ملی جتنی دفعہ فارم جمع کروائے ہمیشہ گم ہی ہوجاتے ہیں ،واللہ عالم ایسا کون سا جن ہے جو صرف میرے کاغذات کھا جاتا ہے )۔خیر قصہ مختصر ایسے ہی ماہ و سال گزرتے رہے اور بہت سے صحافتی تنظیموں سے بھی وابستگی جاری رہی۔ساتھ ہی سائیڈ بزنس کے طور پر علیحدہ سے اپنا کاروبار بھی شروع کیا، کاروبار میں بھی ایمانداری اور ضرورت سے زیادہ لوگوں پر بھروسہ نے جمنے نہ دیا اور جلد ہی شدید کاروباری مسائل کا شکار ہوگیا،جن میں کچھ قانونی مسائل بھی آڑے آگئے ،جن کی بناء پر اپنے حق کیلئے قانون کادروازہ بھی کھٹکانا پڑا، ہمارے ملک کا پولیس سسٹم تو خیر سے آپ سب لوگ جانتے ہی ہیں جو کہ بیان کرنا قارئین کے قیمتی وقت کا ضیاع ہے ۔ ایک جائز ایف آئی آر کٹوانے کیلئے مجھے کن مرحلوں سے گزرنا پڑا وہ ایک طویل کہانی ہے اس ایف آئی آر کیلئے مجھے اپنے صحافی بھائیوں کی مدد بھی درکار پڑی، جس پر میں نے اپنے جان پہچان کے بہت سے بڑے نامور صحافیوں اور قلمکار بھائیوں سے رابطہ کیا اور مدد مانگی مگر سوائے چند کے سب نے زبانی کلامی باتیں کی اور غائب ہونا شروع ہوگئے ، جن دوستوں کو فون بھی کئے تو انہوں نے کال اُٹھانا تک گنوارا نہ کیا ۔
خیر میں حق پر تھا اور اللہ کے ساتھ پر پورا بھروسہ تھا اس لئے مایوس نہ ہوا اپنے حق کیلئے کوششیں کرتا رہا ۔اسی تگ و دو میں میری ملاقات ذوالفقار علی ملک سے ہوئی وہ بھی شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور ایک بین الاقوامی اخبار سے منسلک ہیں ، میں سارا معاملہ ملک صاحب کے گوش گزار کیا تو انہوں نے میرے ساتھ انتہائی شفقت برتی اور بھرپور تعاون کیا جس کی بنا پر میں ایک جائز ایف آئی آر کٹوانے میں کامیاب ہوا۔( یہاں خادم اعلیٰ صاحب کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ اُن کے ماڈل پولیس سٹیشنوں میں کیا ہو رہا ہے )
سو ان سب کاموں سے فراغت کے بعد میری ذوالفقار علی ملک صاحب سے ملاقات ہوئی جس میں میں نے اُن کے مخلصانہ ساتھ دینے کا شکریہ ادا کیا ، ملاقات میں معلوم ہوا کہ وہ ایک صحافتی تنظیم’’ جرنلسٹ فاؤنڈیشن ‘‘کے بانی و صدر بھی ہیں ۔میں اُن کی مخلصانہ شخصیت کا پہلے ہی معترف تھا ،مجھ میں مزیدتجسس پیدا ہوااور اس تنظیم کی ساری معلومات اپنے تیءں اکٹھی کی جس پر میرے دل میں ملک صاحب کی عزت میں اور اضافہ ہوگیا ،کیونکہ ملک صاحب کے قریبی رفقاء سے جب ملاقات ہوئی تو یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ’’ جرنلسٹ فاؤنڈیشن ‘‘نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے وہ وہ کارنامہ ہائے سرانجام دئیے جس کی نظیر نہیں ملتی۔
خیر میں نے بلا جھجھک جرنلسٹ فاؤنڈیشن جوائن کرلی اور پھر جرنلسٹ فاؤنڈیشن کی کالمسٹ کمیٹی کا چیئرمین اور ایگزیکٹو باڈی کا رکن بھی منتخب ہوگیا ۔جس کے بعد مجھے بھی اپنے جیسے صحافی بھائیوں کیلئے ذوالفقار ملک صاحب کی معیت میں کام کرنے کاموقع فراہم ہوا۔اور یوں میرا جرنلسٹ فاؤنڈیشن سے اٹوٹ رشتہ قائم ہوگیا۔
اب ذوالفقار علی ملک صاحب نے انتہائی مالی مشکلات اور راستہ کی کٹھن دشواریوں کو بالائے طاق رکھ کر اُن صحافیوں اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی عظیم ہستیوں کو جنہیں سب فراموش کرچکیاُنکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملکی تاریخ کے پہلے ’ دی پلر آف پاکستان‘‘ ایوارڈ شو کرانے کا فیصلہ کیا جس میں مجھ سمیت ہم سب اراکین کو اعتماد میں لیا ،اور اللہ کے کرم سے یہ عظیم کام آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور جس کے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مجھے بھی کچھ کام کرنے کا موقع ملا ،یوں ہم سب اس عظیم انسان کے ساتھ یکجا ہوکر اپنے صحافی بھائیوں کیلئے کچھ کرگزرنے کے فلسفہ پر عمل پیرا ہوئے ۔
اپریل 2014 میں یہ عالی شان ایوارڈ شومنعقد کرکے’’ جرنلسٹ فاؤنڈیشن ‘‘ ایک نئی تاریخ رقم کریگی ان شاء اللہ ۔
میری دعا ہے کہ اللہ ذوالفقار علی ملک صاحب کو ہمت اور استقامت عطا فرمائے ۔(آمین)

یہ بھی پڑھیں  بیٹیاں رحمت ہیں ۔۔۔ !

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker