تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

جوڈیشل کمیشن کا قیام نظر نہیں آرہا

imran farooqسانحہ ٗ پشاور کے بعد عمران خان نے اسلام آباد میں جاری اپنا دھرنا ختم کر نے کا اعلان کر دیا ۔ اُنکا مقصد قومی اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اظہارِ یکجہتی تھا ۔ اخلاقی طور پر حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ جوڈیشل کمیشن قائم کرے تاکہ انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک ہوسکے۔حکومت مختلف حیلوں بہانوں سے کمیشن کے قیام کو ٹالتی رہی ہے ۔ پیٹرول بحران اور بجلی کے طویل ترین بریک ڈاؤن نے حکومتی ساکھ کو خاصا متاثر کیا ۔ پیٹرول بحران کے دوران عوام میں یہ تاثر عام تھا کہ اگر عمران خان کا دھرنہ جاری رہتا تو عوام اس مشکل سے نہ گزرتی ۔ موجودہ حکمران ٹولہ کا وطیرہ ہے کہ جب مشکل وقت ہو تو پاؤں پکڑ لو اور جونہی مشکل وقت گزر جائے تو اُٹھ کر گریبان پکڑ لو ۔ اسطرح کے وقتی بندوبست سے عوام کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ پیٹرولیم کے کارو بار سے جڑے ماہرین کے مطابق پیٹرول کا بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ۔ اِسکی بازگشت آئیگی جس سے عوام پھر مشکل میں آجائیگی ۔ اِسی طرح حکومت نے بجلی کے لائن لاسسز ’’LINE LOSSES‘‘کے زمرے میں 55ارب کا خسارہ عوام کی جیبوں پر منتقل کرنے کی ٹھانی ہے ۔ یعنی ایک عام صارف اُس بجلی کا بل بھی ادا کریگا جو اُس نے استعمال ہی نہیں کی ہے ۔ یہ حکومت کی اخلاقی اور انتظامی شکست ہے ۔ فرنس آئل کے ذخائر کم پڑ جانے سے آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران وطنِ عزیز کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے ۔ بڑے شہروں میں دس گھنٹے اور چھوٹے شہروں میں سولہ گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے کئی اضلاع کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے ۔ حکومتی سطح پر پے در پے ہونے والی ناکامیاں عوام میں غیض وغضب کا اُبھار رہی ہیں ۔
انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن نے جس انتخابی منشور کا اعلان کیا تھا اُس میں گیس ، بجلی کی فراہمی اور ملک کی اقتصادی خود کفالت سرِ فہرست تھی ۔ شریف خاندان نے بقول میاں شہباز شریف صرف 5000روپے سے کارو بار شروع کیا تھا ۔ اللہ کے فضل و کرم سے آج پاکستان کا سب سے بڑا کارو باری خاندان ہے ۔لیکن اِسی کاروباری خاندان کے دورِ اقتدار میں پاکستان بھر کے تمام ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ لیکن میاں صاحب کا خاندانی کاروبار روز بروز پھل پھول رہا ہے اور اس کا احاطہ 5برِ اعظموں تک پُہنچ چکا ہے ۔انتخابات کے دوران مسلم لیگ ن کی قیادت کا سب سے بڑا دعویٰ یہ تھا کہ انتہائی تجربہ کار مسلم لیگی قیادت ہی ملک کو گو ناگوں مشکلات سے نکال سکتی ہے۔ دوسالہ حکومتی کارکردگی سے یہ بات آشکار ہو چکی ہے کہ حکومتی ٹیم میں ہم آہنگی کا فقدان ہے ۔ وزراء مختلف گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ چوہدری نثار علی خاں اور شاہد خاقان عباسی ایک دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔ اِسی طرح چوہدری نثار اور خواجہ آصف میں بھی تعلقات کشیدہ ہیں ۔ داخلی اور خارجی محاذوں پر کوئی واضح سمت نظر نہیں آرہی ہے ۔امریکہ ،بھارت تعلقات کی بدلتی ہوئی نوعیت ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے ۔ خارجی سطح پر کوئی ایسی زیرک شخصیت نہیں جو ہمارے مؤقف کا دفاع کر سکے ۔ چیف آف آرمی سٹاف دہشت گردی کے خلاف اُٹھائے گئے حالیہ اقدامات کی افادئیت اُجاگر کرنے کے لیے اور خطہ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی وضاحت کیلئے مسلسل بیرونی دوروں پر ہیں ۔
داخلی سطح پر گو کہ فوجی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں ۔ لیکن علماء دین کے قلبی اطمینان کا اہتمام نہیں کیا گیا ۔ اسی لیئے حکومتی حلیف مذہبی جماعتوں کے علماء بھی صف بندی میں مشغول ہیں ۔ ان حالات میں حکومت کمال ڈھٹائی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے عمران خان کو بھی بند گلی میں دھکیل رہی ہے ۔ NA-122 میں دھاندلی کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں ۔ جن میں مختلف رنگوں کے بیلٹ پیپرز کا استعمال ، بغیر دستخط کے کاؤنٹر فائلز ، جعلی شناختی کارڈز کا استعمال شامل ہے ۔ عمران خان منظم دھاندلی کا واویلا کر رہے ہیں جبکہ حکومتی ٹیم اِسے انتظامی نا اہلی قراردے رہی ہے ۔ ان اُمور کا فیصلہ کون کریگا ؟یہ واضح ہے کہ حکومت جان بوجھ کر جوڈیشل کمیشن کے قیام سے جان چھڑوا رہی ہے ۔ اُسے معلوم ہے کہ کمیشن کا قیام بہت سارے سر بستہ رازوں کو افشاء کر دیگا ۔ ذوالفقار رعلی بھٹو نے دھاندلی کے واویلا پر ایک آرڈنینس کے ذریعہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا تھا ۔ جس نے کاؤنٹر فائلوں پر دستخط نہ ہونے کی بناء پر کئی حلقوں میں انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا تھا ۔ اور جب پشین صوبہ بلوچستان کے ایک حلقہ میں یحییٰ بختیار کے حلقہ کی چھان بین شروع کی تو اپنے دوست یحییٰ بختیار کی نشست بچانے کیلئے بھٹو صاحب نے کمیشن ہی ختم کر دیا ۔
میاں صاحب اِ س وقت زندگی کی 65بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ معلوم نہیں کہ کب دوبارہ باری آئے ؟ میاں صاحب اِ س وقت اپنی پوری توجہ اپنے کاروبار کو دینا چاہتے ہیں ۔ تاکہ اِس حکومتی دورانیہ کے بعد وہ اپنی بقیہ زندگی سعودی عرب اور لندن میں گزار سکیں ۔ اِسی لیئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی بجائے اُنکی توجہ چین اور ترکی کے ساتھ کیئے جانے والے معاہدوں سے ملنے والی کمیشن کی طرف ہے ۔ عوام کی فلاح و بہبود ایک ثانوی مسئلہ ہے ۔ حال ہی میں اسحاق ڈار صاحب نے اکنامک ریلیشن شپ کمیٹی کے اجلاس میں شوگر مِلز مالکان کو 6ارب روپے کی سبسڈی دی ہے تاکہ وہ اپنی چینی بر آمد کر سکیں ۔ اِسکا مقصد صرف یہ ہے کہ اندرون ملک چینی کی قیمت کم نہ ہو۔ میاں صاحب کا خاندان اور پی پی پی کی قیادت شوگر ملز کی مالک ہے ۔ باہمی مفادات کے تحفظ کیلئے جمہوریت کا راگ آلاپ رہے ہیں ۔ تبدیلی کا جو خواب عمران خان نے دیا تھا وہ دھندلا چکا ہے ۔ ہماری قوم سوئی ہے اور بے حسی کا شکا ر ہے ۔حالات گواہی دے رہے ہیں کہ عمران خان کو اپنا سفر دوبارہ پہلی منزل سے شروع کرنا پڑیگا ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker