انور عباس انورتازہ ترینکالم

جمہوریت کے ثمرات اشرافیہ کے لیے کیوں ؟

anwar abasسیاسی قیادت چاہے مسلم لیگ نواز کی ہو،مسلم لیگ قاف کی ہویاپھرپیپلزپارٹی کی ہو سبھی وعدے تو عوام کی تقدیر بدلنے کے کرتی ہے۔۔۔جمہوریت ،جمہوریت کی قوالی گاتے ہیں۔اس کورس قوالی میں جمہوریت کو بہترین نظام حکومت اور پاکستان کے تمام مسائل کا حل ا سی جمہوریت کوہی قرار دیا جاتا ہے۔ عوام اس سیاسی قیادت کے ’’آکھے ‘‘ لگ کر جلسے جلوس نکالتے ہیں۔غیر سیاسی ھکومتوں کے خلاف میدان کارزار میں کود پڑتے ہیں۔۔۔لاٹھیاں کھاتے ہیں ، قربانیاں دیتے ہیں ۔اور اپنی جانیں اپنی اپنی سیاسی قیادت بلکہ اپنے محبوب راہنماوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دہتے ہیں۔
سیاسی کارکن خواہ مرد ہوں یا خواتین ۔جیالے جیالیاں ہو یا متوالے اور متوالیاں۔۔۔سب آمریت سے نجات اور جمہوریت کے لیے گرفتاریاں دیتے ہیں، اور پھر گرفتار ہو کر عدالتوں میں ذلت آمیز ،توہین آمیز سلوک کے جان لیوا مراحل سے گذرتے ہیں۔ بابا ہیرا کی صورت میں لاہور کی شاہراہوں پر گدھا گاڑی پر ترنگا جھنڈا لگا کر اپنے قائد ’’ بھٹو اور بینظیر ‘‘ کی تقاریر لوگوں کو سناتا پھرتا ہے اور ’’ اپنا پیٹ گٹھا‘‘ بیچ کر پالتا ہے۔ برج اٹاری سے گذر کر جڑانوالہ جانے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ چھبیل سٹاپ پر لب سڑک واقع اپنے مکان کو بھٹو اور انکی دلیر، جرآت مند اور بہادر اہلیہ نصرت بھٹو کے اقوال اور پیپلز پارٹی کے جھنڈے کے رنگوں سے سجانے والے ’’ ذات کے سید بادشاہ صادق علی شاہ ۔۔۔ جنہیں لوگ ’’ صادق بھٹو کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان جیسے لاکھوں کارکن ہیں جو شائد ان دونوں ’’بابا ہیرا اور صادق بھٹو‘‘ سے زیادہ جیالے ہوں۔جن کی آنکھیں آج بھی کسی ’’بھٹو ‘‘ کے منتظر ہیں
ایسے ہی بہت سے متوالیاں اورمتوالے بھی موجود ہیں۔جو میاں نواز شریف اور انکی فیملی سے بہت پیار کرتے ہیں،انکے ایک اشارہ آبرو پر اپنی زندگیاں موت کی تجوری میں گروی رکھنے کو ہر وقت تیار و آمادہ ہوتے ہیں۔انکی جلاوطنی کے زمانے میں اور مشرف کی قید کے دور میں انہوں نے ثابت قدمی سے انکی آواز کو بلند کیا،انکے پرچم کو سرنگوں نہ ہونے دیا۔ انکی جلاوطنی میں انکی آنکھیں اس امید کے ساتھ انکی راہ تکتی رہیں کہ میاں نواز شریف ابھی آئے کہ ابھی آئے اور انہیں جبر و ظلم اور استبداد سے نجات دلائیں گے۔اس ملک کی تقدیر بدلیں گے۔ اور ایسا نظام لائیں گے کہ کوئی غریب اس ملک میں بھوکا انہیں سوگے،کوئی بچہ چائے خانوں،فیکٹریوں میں جبری مشقت نہیں کریگا۔کسی غریب کی بیٹی کے ’’جہیز ‘] نہ ہونے کے باعث باپ کی دہلیز پر بیٹھے بیٹھے بال سفید نہیں ہوں گے ۔ کوئی سرکاری ہسپتالوں میں دوائیوں کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہیں مرے گا۔۔۔کوئی غریب مزدور سارا دن تلاش روزگار میں پھر پھر شام کو خالی ہاتھ واپس بچوں سے نظریں چراکر گھر میں نہیں گھسے گا۔۔۔ کوئی تعلیم یافتہ نوجوان رشوت کے لیے بھاری رقم نہ ہونے کے سبب ملازمت سے محرومی سے خودکشی نہیں کریگا۔۔۔
لیکن یہ خواب آنکھوں میں سجائے ۔۔۔ یہ امیدیں دلوں میں بسائے۔۔۔اس ملک کے فتح دین،شمائلہ۔ فرحان اور صغراں قیام پاکستان سے لیکر آج تک بس اس آس پر جی رہی ہیں کہ کبھی نہ کبھی تو کوئی آئیگا جو انکے دکھوں کا مداوا کریگا۔۔۔کوئی تو آئیگا جو انکے زخموں پر مرہم رکھے گا۔۔۔حالانکہ 14 اگست 1947سے آج تک بیشمار حکومتیں برسراقتدار آئیں اور انکے جذبات سے کھیل کر اپنا ’’الو‘‘ سیدھا کرکے چلی گئیں۔ لیکن قوم جمہوریت کے ثمرات سے محروم رہی۔
پاکستان میں وقتا فوقتا آنے والی جمہوریت سے کوئی فیضیاب ہوا ہے تو وہ ایک خاص طبقہ ہوا ہے ،جس کے بغیر کوئی سیاسی پارٹیاں بیکار شمار ہوتی ہیں جنہں لوگ اشرافیہ کے نام سے جاتے ہیں۔جمہوریت چاہے بینظیر بھٹو کی ہو چاہے نواز شریف کی ہو،چودہری براداران کی ہو یا پھر آصف علی زرداری کی ہو۔۔۔ان جمہوریتوں میں عوام کے لیے کچھ نہیں اگر انکے لیے کچھ ہے تو وہ دھکے ،ذلالت مہنگائی کی چکی کے دو پاٹوں میں پسنا ہے ۔اوور بلنگ کے خنجروں کے ’’وار ‘‘ سے جگر چھلنی کروانا ہے ۔۔۔۔باقی سب کئچھ اس ملک کے بااثر طبقات کے لیے۔۔۔ اس ملک کے وسائل خاص اشرافیہ کے لیے کیا کوب کہا تھا اپنے حبیب جالب نے
’’ دن پھرے ہیں فقط امیروں کے
پاوں آج بھی ننگے ہیں بے نظیروں کے‘‘
لیکن میں اس میں جالب صاحب سے معذرت کے ساتھ تھوڑا سا اضافہ کرتا ہوں
قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہے کمر غریبوں کی
بات ہوتی ہے سب اپنے اپنے نصیبوں
دھرتی کا ہربچہ بلاول اور حمزہ تو نہیں ہے
نہ ہی مریم و آصفہ ہے بیٹیاں غریبوں کی
انور کہاں ہم کچے مکانوں میں رہنے والے
کہاں بات سر محل اور رائیونڈ کے مکینوں کی
سوچتا ہے برسر اقتدار آکر ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت اور حکومتوں کی سوچ ،دل اور نظر اس قدر تنگ نظر کیوں ہو جاتے ہیں کہ انہیں سوا اپنوں کے کچھ دکھائی نہین دیتا۔۔۔انکا اور ہمارا خالق اور رازق تو یہی کہتا ہے کہ وہ ہر ایک کوئی ایک نظر سے دیکھیں لیکن یہ اشرافیہ کے گرد ہی کیوں سارے وسائل پھینک دیتے ہیں۔۔۔آخر یہ سب کب تک چلے گا۔۔۔کب تک یہ ظلم اور ناانسافی کی چکی عوام کو پیستے رہیں گے۔؟؟؟جمہوریت کے ثمرات اشرافیہ کی بجائے عام پاکستانیوں کے لیے کب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں  محکمہ موسمیات کے مطابق پہلا روزہ 17 مئی کو ہو گا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker