شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اعجاز رانا / جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔۔۔!

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔۔۔!

جنگ آگ اور خون کا کھیل ہے جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے ، بیوگی و یتیمی ہے، معذوری و مفلسی ہے خوشحالی ہرگز نہیں ۔ مگر اس حقیقت سے قطع نظر بھارت کی جارحانہ سرگرمیوں اورجنگی جنون کے باعث برصغیر کی دو ایٹمی قوتیں عملاً ایک بڑی جنگ کے دھانے پرپہنچ چکی ہیں، اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ملکوں میں جنگ کی نوبت آئی تو پوری دنیا کا امن متاثر ہونا یقینی ہے۔ پلوامہ حملے پر بغیر تحقیق کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر بھارت نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی حماقت کی ، جس کا واضع مقصد یہ باور کروانا تھا کہ ہم جب چاہیں ، جہاں سے چاہیں تمہاری حدود میں داخل ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی آزاد اور خودمختار ریاست کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی ، پاکستان کے لیے بھی قابل قبول نہیں تھی چنانچہ پاکستان نے ایسا ردعمل دیا جس کے نتیجے میں ہندوستان کو باور کروا دیا کہ پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی قیمت چکانا پڑے گی۔ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے نتیجے میں جموں وکشمیرکی کنٹرول لائن پر شدید فائرنگ اورگولہ باری کے باوجود پاک بھارت بین الاقوامی سرحدوں پرحالات نسبتاًپرسکون ہیں۔ لیکن اب بھی سرحد پارسے امن کوموقع دینے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آرہے بلکہ بھارت کسی زخمی سانپ کی طرح تڑپ رہا ہے اور موقع کی تلاش میں ہے جبکہ پاکستانی مارخور اس کی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ درحقیقت پاک فوج بھارتی مہم جوئی کے آغاز سے بہت پہلے سے تیار مستعد اورچوکس تھی،یہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں خصوصاً آئی ایس آئی ہی تھی جس نے قبل ازوقت پتہ چلالیا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کرپاکستان پرمیزائل حملے کرنا چاہتا ہے اوراس مقصد کے لئے اس نے8یا9مقامات کونشانے پر رکھ لیاہے۔پاکستان نے دوست ممالک کے ذریعے بھارت کوبروقت خبردار کیا کہ اس نے ایسی حرکت کی تواس کا تین گنا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔بھارت نے راجستھان سے حملے کرنے تھے اورکراچی اوربہاولپور کونشانہ بناناتھا مگر پاکستان کی مسلح افواج کے باخبرہونے اورحکومتی سطح پر سخت وارننگ کے بعد اسے اپنا ناپاک منصوبہ ترک کرناپڑا۔ پلوامہ واقعے کاڈرامہ،بالاکوٹ پرفضائی جارحیت اورراجستھان سے میزائل حملے کے منصوبے بری طرح ناکام ہونے کے بعد تازہ ترین خفیہ اطلاع یہ ہے کہ بھارت نے اب پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے دہشت گردانہ حملے کروانے کامنصوبہ بنارکھا ہے،ان پے درپے سازشوں کے پس منظر میں اگر پاکستان کے سمندری زون کے قریب بھارتی آبدوز کی دراندازی کودیکھاجائے توصاف ظاہر ہوجاتاہے کہ پاک بھارت امن تباہ کرنے کے حوالے سے مودی حکومت کے اصل عزائم کیاہیں۔
اس سنگین صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں سمیت متعدد ممالک کوشاں ہیں، اور مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے خود ساختہ ڈرامے پر کشیدگی بڑھا کر پاکستان اور بھارت کو جنگ کے دھانے تک پہنچانے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امریکہ، روس، چین، برطانیہ، ترکی، سعودی عرب، قطر سمیت دیگر ممالک امن کی جانب لوٹنے کے مشورے دے رہے ہیں تو دوسری جانب خود بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتیں، حتیٰ کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے خیر خواہ سیاسی کارکن، سابق جج، جرنیل اور دانشور مسلسل زور دے رہے ہیں کہ بھارت انتہا پسندی ترک کر کے اعتدال و توازن کا ہوشمندانہ راستہ اختیار کرے اور پاکستان کی جانب سے تنازع کشمیر سمیت تمام باہمی مسائل پر مذاکرات کی پیشکش قبول کر لے۔ مگر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عقل و منطق کی کوئی دلیل بھارتی حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہی اور وہ نہ صرف برصغیر بلکہ ساری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کرنے کے لئے مزید فوج بھیجنے، سرچ آپریشن کے نام پر بے گناہ لوگوں کے قتل ناحق اور کنٹرول لائن پر جنگی کارروائیاں بڑھانے کے علاوہ انہوں نے پاکستان کے خلاف جارحانہ مہم تیز کردی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں انتہا پسندی کی طرف جانے والے جس طرح خود انتہا پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں اسی طرح مودی نے بھارت میں عام انتخابات جیتنے کے لئے پاکستان کے خلاف جو جال بچھایا تھا اس میں خود پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ متعصب بھارتی حکمران اور غیر ذمہ دار بھارتی میڈیا جہاں جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے وہاں دہلی، ممبئی اور بعض دوسرے مقامات پر بھارتی شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلبا، مزدوروں اور فنکاروں نے امن مہم شروع کردی ہے۔ دہلی میں اس حوالے سے دو روزہ ثقافتی میلہ بھی لگایا گیا ہے جس میں جنگ کیخلاف فن پاروں کی نمائش کی گئی۔نریندر مودی نے پلوامہ واقعے میں خودبھارتی حکومت کے ملوث ہونے اوربالاکوٹ میں کسی جانی یا مالی نقصانات کاثبوت مانگنے والے بھارتی سیاستدانوں اوردانشوروں کو بھارت کاغدار قراردیاہے ، مودی کی یہ جھنجلاہٹ ظاہرکرتی ہے کہ وہ رائے عامہ اوربین الاقوامی برادری کے مطالبے کے باوجود پاکستان کے ساتھ امن اورتنازع کشمیر پر مذاکرات کیلئے تیار نہیں، حالانکہ اقوام عالم کی امن خواہش پر بھارت کے پاس پرامن مذاکرات کا بہترین موقع تھا ۔ بھارت کے اس جارحانہ رویے کے پیش نظر پاکستان بظاہر پر سکون حالات کے باوجود انتہائی چوکس ہے، اور افواج پاکستان ہرقسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہردم تیار ہے۔ لیکن دو ایٹمی ملکوں کے درمیان جنگ کے حالات میں اقوام عالم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کو انتہا پسند رویہ ترک کرکے پر امن مذاکرات پر مجبور اور مسئلہ کشمیر کے حل پر قائل کرے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ’’ انتہاء پسندبھارت کا اصلی چہرہ ‘‘