بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

دہشتگرد ی کیخلاف جنگ سے کیسے جیت ممکن۔۔۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirگذشتہ دنوں سے مسلسل جاری دہشت گردوں کی انسانیت سوز کارروائیاں انتہائی افسوسناک وتشویش ناک حدوں کو چھو رہی ہیں ،المیہ یہ ہے کہ انتہائی حساس علاقے بھی ان کے نشانے میں آ رہے ہیں۔پشاور باچا خان ائیر پورٹ پر حملہ ،سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور پولیو مہم کو سبوتاژ کرنے کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو کراچی اور پشاور میں ٹارگٹ کلنگ سے ان کی معصوم جانیں لینے تک ذرا سا رحم انہیں نہیں آ رہا ۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا سلسلہ ،قتل و غارت ،بم دھماکے خود کش حملے اور بڑھتے ہوئے جرائم آخر کیا یہی اسلام کا درس دے رہے ہیں ؟ہرگز اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں،یہ کفار سے بد تر اور حیوانیت سے گرے ہوئے اسلام دشمن عناصر ہیں جو خود تو محفوظ ٹھکانوں میں اللہ کے عذاب سے مقید ہیں مگر یہ ظالم نا پختہ،نا سمجھ اور نو خیز نوجوانوں کو ہتھیار کے طور استعمال کرکے اپنے مذموم عزائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔جمہور علماء کے فتوے ان کے مسلمان نہ ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔
ان ظالموں نے مساجد،مدارس،مزارات،امام بارگاہیں،بازار اور حساس علاقوں سمیت بے گناہ انسانوں کی حرمت و حیات کا خیال تک نہیں رکھا انہوں نے وطن کی سلامتی کو داؤ پر لگا نے سے پرہیز نہیں کیا ۔اسلام نے یہ درس نہیں دیا ہے کہ وہ انسانی جانوں کو اتنا ارزاں سمجھ لیں کہ جب چاہیں جہاں کہیں انسان ہوں انہیں لقمہ اجل بنادیں۔جب ہم ان دہشت گردوں کے عزائم کا باریک بینی سے جائیزہ لیتے ہیں تو ہمیں جہاں ان کے مسلمان نہ ہونے کا فتویٰ نظر آتا ہے وہیں ہمیں یہ بھی مشاہدہ ہوتا ہے کہ یہ ظالم گروہ ،انسانیت اور وطن دشمن عناصر پر مشتمل خوفناک سازشوں سے منظم ہو کر ہمارے مستقبل کو تاریک کرنے کے درپے ہے۔
پشاور ائیر پورٹ کو نشانہ بنانے کی واردات یہ ظاہر کر رہی ہے کہ یہ گروہ طاقت کے بل بوتے پر اب ہمارے نظم و نسق پر قابض ہو کر قتل و غارت گری کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے جو انتہائی تشویشناک صورت حال کی عکاسی کر رہی ہے۔پولیو مہم قومی سطح پر جاری ہے جسے سبوتاژ کرنے کے لئے معصوم خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے ایک طرف قیمتی جانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف قومی سطح کی مہم جس کا مقصد موذی مرض کے خلاف جنگ کر کے نسل انسانی کو بچانا مقصود ہے اس اہم منصوبے کو ختم کیا جانا کہاں کا انسانیت دوست کردار ہے۔
پوری قوم ان بد بختوں اور قابل سزائے موت مجرموں کے خلاف ناصرف نفرت بلکہ ان کو صفہ ہستی سے ختم کرنے کے لئے کمربستہ ہے ۔قابل صد افسوس امر یہ ہے کہ اس منظم اور درپردہ مستحکم گروہ کو جڑ سے نہیں پکڑا گیا،ہماری انسانی نفسیات یہ ہے کہ ہم بیماری کا علاج کم اور بیمار کے خاتمہ پر زیادہ متوجہ رہتے ہیں ،اجمل قصاب کو پھانسی چڑھانے یاسر بجیت سنگھ کو گولی مارنے،بے شمار راہگیروں کی پکڑ دھکڑ،پولیس گردی اور ڈرون حملوں سے دہشتگرد ختم نہیں ہو سکتے ۔اس کے لئے بین الاقوامی سطح تک یکسوئی اور مشترکہ جدو جہد ضروری ہے۔جو بد قسمتی سے زبانی کلامی تو ہو رہی ہے مگر اس پر عملی کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔دہشتگردی کی شروعات سے ہم قلمکار یہ لکھ لکھ کر اب مایوس ہو چکے ہیں کہ ہماری درست آراء کو آج تک ایک فیصد اہمیت نہیں دی گئی ہے ۔
تاریخ نے ثابت کیا کہ ہم نے بارہا کہا کہ لال مسجد کو نشانہ نہ بنایا جائے،وہاں کوئی دہشتگردی نہیں ہو رہی تھی مگر اس وقت کے حکمران نے امریکہ کی عینک پہن کر تاریخ کا بڑا ظلم جو اگر غلط نہ ہو ’’کربلا‘‘ کی مثل ’’یزید وقت نے کر ڈالا جس پر کئی ہمارے انتہاء پسند شیعہ برادران نے خوشی کے شادیانے بجائے ۔حالانکہ اس مسجد سے ایک دہشتگرد بھی نہیں پکڑا گیا۔اسی طرح جب کسی امام گاہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو سنی انتہاء پسند خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔لیکن یہ دونوں طبقے اس پر غور نہیں کر رہے ہیں کہ کون کمزور ہو رہا ہے اور کون طاقتور؟80سالہ نواب اکبر بگٹی کو گھیر کر بمباری کرکے مارا گیا یہ کس قدر بے حسی کا مظاہرہ ہے،یہی نہیں بے گناہ پٹھانوں کو پورے ملک میں مشکوک سمجھ کر پولیس گرد ی کا نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔کراچی میں اردو سپیکنگ، پنجابی،پٹھان،سندھی آپس میں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں کی عسکری تنظیمیں بھی سر گرم ہیں جن کی ٹارگٹ کلنگ سے کئی قابل ذکر شخصیات نشانہ بن رہی ہیں،جن میں سیکیورٹی فورسز ،صحافی،سماجی کارکن،سیاسی و مذہبی رہنما،تاجر،طلباء الغرض ہر شہری صبح سے شام تک کی زندگی کا مہمان بن چکا ہے۔ایسے حالات سقوط ڈھاکہ کے نہ تھے جو اب ہماری لاپروائی اور کوتاہ اندیشی کا نتیجہ بن رہے ہیں ،کوئی ناراض یا دشمن کیوں نہ بن جائے سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے بیماری کا علاج اب تک نہیں کر سکا ،بیمار کو مارتے جا رہے ہیں مگر پھر بھی حالات سدھرنے کی بجائے بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں۔
اب آتے ہیں کہ آخر ان حالات کا کیا حل ہے؟اللہ کا کرم ہے کہ ملک میں پہلی بار دور اندیش ،مضبوط ، جمہوری آذادی،آذا دعدلیہ اور میڈیا کے ادارے ہزاروں سازشوں کے باوجود پھل پھول رہے ہیں۔اگر کہیں سقم ہے تو ماضی سے ورثہ میں ملنے والی سازشی انتظامی اداروں کی ہے ۔ان خوشامدی،مراعات یافتہ وارداتیوں نے ملک کے تمام اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔جب تک ہمارے حکمران طبع شخصیات انتظامی امور میں تطہیری عمل انقلابی بنیادوں پر نہیں کرتی تو ہرگز کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہو سکتی۔ہمارے بجٹ کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہو رہے ہیں،جن کا انتظامی امور سے تعلق ہے۔
دنیا بھر میں ائیر لائیز،ریلوے سمیت کئی منافع بخش ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ’’ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے‘‘۔جس کے سبب انصاف پسند معاشرہ قائم ہونے نہیں پا رہا ۔ملک میں بہت سے لینڈ،ڈرگ،قانون شکن اور بے شمار معاشرتی و معاشی مافیاز مختلف انداز سے سرگرم ہیں اور انہی مافیاز کی پشت پناہی سے نظام مملکت میں بگاڑ لاعلاج مرض کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔سب سے پہلے اس کا علاج کیا جانا از بس ضروری ہے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کا عزم کر رکھا ہے مگر عالمی برادری کو ان اسباب اور ضروریات سے آگاہ و حصول کے لئے سنجیدہ کوشش نہ ہونے سے معاشی بد حالی نے دہشتگردوں کو تقویت دی۔ایک سو ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصان ہو چکا ہے جس سے بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اسی وجہ سے زندگی سے مایوس نوجوانوں کی بڑی تعداد دہشتگردوں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں ۔اگر چہ گذشتہ روز امریکہ نے 68کروڑ80لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے یہی فیصلہ چار سال قبل ہوتا تو کافی حد تک بے روزگاری پر قابو پایا جا سکتا تھا۔بہر حال اگر مذکورہ رقم کو درست استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔اگر آج کے نوجوانوں کے لئے با عزت روزگار مہم چلا دی جائے تو دہشتگردوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپاجا سکتا ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ رشوت خوری کو سزائے موت دئے جانے کی قانون سازی کی جائے۔آج بھی پولیس میں کنسٹیبل بھرتی ہونے کے لئے دو لاکھ،کسی دوسرے ادارے میں بھی یہی شرح بڑھتے بڑھتے 5سے10لاکھ تک ریٹ پہنچ چکے ہیں ۔جب تک اس بیماری کو نہیں پکڑا جاتا ہے تب تک اصلاح احوال ممکن نہیں۔خامیاں بے شمار ہیں تاہم بنیادی بیماری کی مختصر تشخیص کر دی ہے اب دوا ساز ہی اس کا علاج کر سکتے ہیں۔آئندہ انشاء اللہ ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ پر قارئین کو بتایا جائے گا کہ یہ عوام سے کیا ہمدردی یا کوئی ڈرامہ ہونے جا رہا ہے؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  ملک میں گھمبیرمسائل کاحل صرف اورصرف پرویزمشرف کےپاس ہے،کرن صباء

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker