تازہ ترینعبدالماجد ملککالم

جنگل کا قانون

اس کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر ہوچکی تھی وہ بزرگ روتے ہوئے مجھے اپنی بیتا سنا رہے تھے کہ کس طرح ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے؟ کیسے وہ دینے والوں سے مانگنے والوں کی فہرست میں آ گئے؟بزرگ ہچکچیاں لیتے ہوئے اپنے اوپر بیتے ظلم کی کتھا سنا رہے تھے ،ویسے بھی جس معاشرے سے انصاف اٹھ جاتا ہے وہاں ظلم پروان چڑھنا شروع ہوجاتا ہے ان بزرگ کی بھی اس طرح کی ایک کہانی ہے ظلم کی یہ کہانی ان بزرگ کی زبانی سنئے۔
میرا نام محمد شیر ہے میرا شمار آج سے تقریباََ دو سال قبل جنڈانوالہ کے اہم اور کھاتے پیتے زمیندار افراد میں ہوتا تھا میری زمینیں سونا اگلتی تھیں اور میرے مال مویشیوں سے بہت اچھے طریقے گزر بسر ہو رہی تھی میرے رشتے کے ایک بھائی جنہیں میں ان کی عادات کی وجہ سے قطع تعلق کر چکا تھا کو پولیس نے چوری کے ایک کیس میں گرفتار کر لیا اس کے بعد مدعیوں نے تھانہ نور پور کی پولیس کی مدد سے میرے مال مویشی جن کی مالیت تقریباََ سات لاکھ روپے تھی لے گئے اور’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق‘ ان مال مویشیوں کی برآمدگی مجھ پر ڈال کر مجھے ہی حوالات میں بند کر دیامیں قدرت کی اس ستم ظریفی پر حیران تھا کہ آخر میرا قصور تھا کیا۔کہ مویشی بھی میرے گئے اور میں چور بھی بن گیا یہ کیس تقریباََ دو سال تک چلتا رہا جس کے بعداہل علاقہ کی میرے حق میں مشترکہ گواہی سے مجھے بے گناہ ثابت قرار دے کررہا کر دیا گیالیکن ان دو سالوں میں جو حالات مجھ پر بیتے یا جو ظلم میرے بیوی بچوں نے سہے وہ میں جانتا ہوں یا میرا رب جانتا ہے اس عرصے میں معزز ین علاقہ کی نظروں میں گر گیا اور مجھے واقعی مجرم سمجھا جانے لگا یہ سب باتیں میں تقدیر کا لکھا سمجھ کر سہ لیتا ،ان مظالم اور دکھ و الم کے کڑوے گھونٹ کو میں آنکھیں موند کر پی لیتا اگر مجھے میرے مویشی واپس مل جاتے ،جن لوگوں نے پولیس کی مدد سے میرے گھر سے مویشی کھولے تھے ان کے ہاتھ کافی لمبے ہونے کی وجہ سے مجھے میرا مال واپس ہوا نہ ہی مجھے انصاف ملا،
لوگوں سے سنا ہے کہ قانون کے ہاتھ کافی لمبے ہوتے ہیں اور میرے ملک میں تو اب عدلیہ بھی آزاد ہے لیکن مجھے انصاف کیوں نہیں ملتا ؟
وہ بزرگ آنسو پونچھتے ہوئے میری طرف امید بھری نظروں سے سوال کر رہے تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ جس ملک میں انصاف رخصت ہوجاتا ہے وہاں اس طرح کا ظلم معمول بن جاتا ہے جس معاشرے میں قانون ظالم کی پشت پناہی کرے اس بے حس معاشرے میں محمد شیر جیسے بزرگ انصاف کے لئے بھٹکتے رہتے ہیں جس علاقے میں قانون کے رکھوالے ظالم کا ہاتھ بن جائیں تو اس علاقے میں ظلم کی ایسی داستانیں رقم ہوتی رہتی ہیں لیکن ہم بے حسوں کی طرح خاموش رہتے ہوئے حقیقت سے آنکھیں موند لیتے ہیں ۔
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گرے
تو سارا جنگل جاگ اٹھتا ہے
ندی میں بار آ جائے ،کوئی پُل ٹوٹ جائے
تو کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری،سانپ،چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستورہوتا ہے
خداوند،جلیل و معتبر،دانا وبینا،منصف اکبر
ہمارے ملک میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر دے
میرے ملک میں اس وقت طبقاتی تفریق بڑھ چکی ہے امیروں کے لئے علیحدہ انصاف نگریاں تو غریبوں کے لئے الگ۔اس وقت تھانہ کلچر کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی وجہ سے جرائم میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آتا ہے اگر تھانہ کلچر کی تصحیح نہ کی گئی تو محمد شیر جیسے کئی بابے انصاف کے لئے در بدر ہوتے رہیں گے اس ملک میں الیکشن کے وقت عوام کے مسائل کے حل کا رونا تو ہر امیدوار روتا ہے لیکن جیتنے کے بعد عوام سے ہی دور ہو کر اپنی موج مستیوں میں مشغول ہو جاتا ہے ان حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایک حقیقی دستور کی ضرورت ہے جو سب کے لئے یکساں ہو،جس میں کوئی طبقاتی تفریق نہ ہو تب جا کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں نہیں تو حیوانوں سے بھی بدترہوتے چلے جائیں گے کیونکہ حیوانوں کا بھی اور جنگل کابھی ایک قانون ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker