ایم اے تبسم

سوئس بینکوں میں پڑی بلیک منی واپس لاؤ

آج کل پاکستان جس دوراہے پر کھڑا ہے یہ سب کیا دھرا ہمارے سیاستدانوں کا ہے۔جنہوں نے اپنے کالے دھن کوسفیدکرنے کے لئے این آراو جیسے قانون کومتعارف کروایا۔ہمارے وزیراعظم بڑے فخرسے واشگاف کہتے ہیں کہ ہم اپنے کسی شہری کو بھی کسی غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کرسکتے توبھلا صدر پاکستان کوکیونکر کریں اس سے ہماری بدنامی ہوگی،محترم وزیراعظم صاحب شائد یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ہم صدر پاکستان کو توکسی غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے اس لئے نہیں ہیش کرینگے کیونکہ وہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائز ہیں ،اس کے برعکس پاکستان کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو بڑی خوشی سے غیر ملکی جج کے سامنے پیش ہونے دیا گیا اور اسے 86برس کی ناکردہ گناہوں کی سزا بھی سنا دی گئی محترم وزیراعظم صاحب اس قوم کی بیٹی کے مسئلے پر خاموش کیوں رہے یا پھر یہ سب مفادات کی سیاست ہورہی ہے ،میرے دوستوں یوں توپاکستان دنیا کی نظروں میں یقینی طور پر 14اگست 1947کوآزاد اور خود مختار ہو گیالیکن آزادی کے بعد قوم کے خیرخواہ لیڈران، افسران اور محب وطنوں کے سامنے اس وقت اس عظیم ملک کو خود کفیل بنانے جیسا بڑا چیلنج تھا وہیں اسی کے متوازی ہمارے ہی ملک میں وہ طاقتیں بھی ساتھ ساتھ سرگرم عمل ہو اٹھیں جنہیں ملکی ترقی یا ملک کے غریب عوام کی سلامتی سے الگ اس بات کی فکر تھی کہ وہ کس طرح کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع کر سکیں اور ایسی ملک مخالف طاقتوں کے ذریعہ ملک لٹنا شروع ہو گیا۔ آج جو لوگ 1947کے بعد اور اس سے پہلے کی آزادی سے وابستہ تمام واقعات سے واقفیت رکھتے ہیں، وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے اور سنتے آ رہے ہیں کہ ملک کے تمام بدعنوان لیڈر، افسر، تاجر ،جمع خوروں اور بلیک منی جمع کرنے والوں کا پیسہ سوئٹزرلینڈ میں یا سوئس بینکوں میں جمع ہے۔اب دھیرے دھیرے عوام کو میڈیا کے ذریعہ یہ پتہ چلنے لگا ہے کہ سوئس بینک کے کھاتوں سے متعلق مکمل پرائیویسی برتنے کا کام اور بھی کئی مغربی ممالک کے بینکوں میں کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا ایسی بلیک منی صرف سوئس بینک میں ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی غیر ملکی بینکوں میں جمع ہے۔پاکستانی معیشت یہاں پھیلی غریبی اور بے روزگاری،پاکستانی قاعدے قانون اور اپنی ضرورت کے لئے غیر ملکی بینکوں سے وقتاً فوقتاًقرض لینے جیسے حالات بلاشبہ کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنے پیسے کو پاکستان کے بینکوں میں جمع کرنے کے بجائے غیر ملکی بینکوں میں جمع کرے اور وہ بھی صرف اس لئے کہ اس کا پیسہ ناجائز اور غلط طریقوں سے جمع کیا گیا ہے۔جسے وہ دنیا کی نظروں سے صرف اس لئے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے کہ ایک تو اس کا پیسہ محفوظ رہ سکے دوسرے یہ کہ وہ پاکستانی مالیاتی قانون سے بچا رہ سکے اور تیسری بات یہ کہ وہ خود کو بدنامی سے بچائے رکھ سکے۔دیکھا بھی یہی جا رہا ہے کہ مغربی ممالک کے بلیک منی جمع کرنے والے ان بینکوں کی پرائیویسی برقرار رکھنے کے اس قدر اونچے پیمانے مقرر کئے گئے ہیں کہ ابھی تک واضح طور سے کسی بھی کھاتے دار کا نام اور اس کی جمع رقم کا انکشاف ابھی تک نہیں سنا گیا۔ البتہ اگر وکی لیکس جیسی ویب سائٹ یا اس جیسی کسی دیگر سراغ رساںصحافت کے سبب کچھ نام سامنے آجائیںتو یہ با ت الگ ہے۔ ایسے بینک بلیک منی کی اصطلاح بھی اپنے ہی طریقہ سے وضع کرتے ہیں مگر پاکستان میں گزشتہ کچھ ماہ سے غیر ملکی بینکوں میں جمع بلیک منی کا ایشو اس قدر گرمایا ہوا ہے جیسے کہ اس موضوع پر شورو غل کرنے اور ہنگامہ برپا کرنے والوں کو اس بات کا پتہ چل چکا ہو کہ کس شخص کا کتنا پیسہ کس ملک کے بینک میں جمع ہے؟اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان جیسے ملک کی اقتصادی حالت قطعی ایسی نہیں کہ اس طرح کے منفی اقتصادی ماحول کا سامنا کر سکے۔ یقینی طور پر پاکستان کو اس سلسلہ میں پوری سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے اور غیر ممالک میں جمع پاکستانی بلیک منی جلد از جلد اپنے ملک میں واپس لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگوں کو خواہ وہ کتنی بھی قدآور شخصیت کے مالک کیوں نہ ہوں ،انہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے اور ایسے لوگوں کے نام بھی جلد سے جلد اجاگر کئے جانے چاہئیں تاکہ ملک کے عوام یہ سمجھ سکیں کہ لیڈر، اداکار، افسر، سماجی خدمت گار یا مذہبی رہنما اور تاجر کی شکل میں دکھائی دینے والا یہ شخص حقیقت میں وہ نہیں ہے جو دکھائی دے رہا ہے بلکہ سادھو کے بھیس میں نظر آنے والا یہ شخص ملک کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ناجائز دولت کی جمع خوری کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جن کے سبب پاکستان کو غریب ملک کہا جانے لگا ہے،لیکن غیر ملکوں میں جمع کالے دھن کے ایشو کو لے کر پاکستان میں ہو رہی ہائے توبہ کی آڑ میں تمام پاکستانی لیڈر، سیاسی جماعتیں اور سیاست میںاعلیٰ عہدوں کے خواہشمند تمام نئے چہرے اس موضوع پر کچھ اتنی زیادہ دلیلیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے کہ کالا دھن غیر ممالک سے واپس لانے جیسا سنگین ایشو اپنے موضوع سے بھٹکتا دکھائی دینے لگا ہے اور یہ بھی صاف ظاہر ہونے لگا ہے کہ اس ایشوپرکئے جانے والے شور شرابہ کا مقصد حقیقت میں غیر ممالک سے بلیک منی کی واپسی کا کم ،بلکہ سیاسی طور پر کسی مخصوص شخص یا جماعت کو بدنام کرنے کازیادہ ہے۔غالباً ایسے لوگ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملک کے بھولے بھالے عوام اور رائے دہندگان اس طرح کی افواہوں پر جلدی یقین

یہ بھی پڑھیں  قتل حسینؓ اصل میں مرگ یذید ہے۔

کر لیتے ہیں اور ان کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیںلگتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک بار پھر پروپیگنڈہ کرنے والے ماہرین کے ذریعہ ملک میں ویسے ہی حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا ئے گی۔ کسی بھی شخص کو بدنام کرنا یہ آخر کہاں کی سیاست ہے اور اسے کس طرح کی سیاست کہا جانا چاہئے؟ جوبھی سیاستدان اگر قصوروار ہیںیا ان کے خلاف پختہ ثبوت ہیں تو ضرور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے لیکن ملک کے عوام کو بے وجہ گمراہ کرنا، ملک کے ذمہ دار سیاستدانوں پر کیچڑ اچھال کر خود اپنے اور اپنی جماعت کے لیڈران پر لگے سیاہ دھبوں کو چھپانے کی کوشش کرنا قطعی غیر اخلاقی ہے۔اس طرح کے بے بنیاد شور شرابہ اور الزام تراشی سے صاف ظاہر ہوتا ہے ۔کہ ہم اپنے لیڈران کی بلیک منی کو اپنے بیانات کے ذریعے تحفظ دینے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔اب جبکہ پاکستان تقریبا ہر سال سیلاب جیسے عذاب کا سامنا کرتا ہے۔اور ہمارے حکمران ہمیشہ کی طرح غیر ملکی ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ کوئی ہماری مدد کرے ۔بجائے اس کہ ہم کسی سے مدد مانگیں ہمیں اپنی جمع کروائی گئی غیر ملکی بینکوں میں کروڑوں ڈالر کی رقم کو واپس لاکر اپنے سیلاب ذدگان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیئے۔کیونکہ ہمیشہ سے وہی قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں جو اپنی عوام کا خیال رکھتی ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد میں پہل کرتی ہیں۔جو قومیں غیر ملکی قرضوں سے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی تگ ودو میں لگی رہتی ہیں۔اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے میں ہی اپنی قوم کا ذہن بنائے رکھتی ہیں ۔وہ ترقی نہیں کر سکتیں۔مجھے صرف یہی کہنا ہے کہ خدارا خود کو پہچانوں اور اپنے غیر ملکی بینکوں میں جمع کئے گئے سرمائے کو لاکر پاکستانی عوام کا پیسہ انہیں ہی لوٹایا جائے،تبھی تو پاکستان سے لوڈشیڈنگ،گیس بندش اور مہنگائی جیسے عذابوں سے ہمیں چھٹکارا مل سکے گا۔﴿پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  ہم امن کے حامی یا دہشت کے؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker