ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

کبڈی ورلڈ کپ ’’شرم تم کومگرنہیں آتی ‘‘

editor k qalam sy’’پاکستان اور ہندوستان ‘‘ آزاد خودمختار ریاستوں کے قیام کے دن سے آج تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں۔ دونوں میں بہت سی جغرافیائی ، سیاسی، لسانی اور معاشرتی قربتوں کے باوجود اختلافات پائے جاتے ہیں۔جس کی اصل بنیاددو قومی نظریے کی شکل میں منظر عام پر آئی اور تقسیم ہند کا باعث بنی۔ پاکستان اور بھارت میں جھگڑے کی اصل وجہ سرحدی تنازع ہے کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصے میں آئے کشمیر پر ناجائز قبصہ کیا ہوا ہے۔اس مسئلے پر کئی جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں ۔ ان بے شمار بحرانوں کے باوجود دونوں حریف ایٹمی قوت بن چکے ہیں۔بھارت اور پاکستان جب بھی کسی میدان میں آمنے سامنے ہوتے ہیں ساری دنیا کی نظریں اس پرمرکوز ہوتی ہیں۔
کھیل کے میدان میں توماہرین اس کو پاک بھارت جنگ کا نام دیتے ہیں۔ کرکٹ کا کھیل دنیا میں فٹ بال کے بعد سب سے زیادہ مشہو ر کھیل ہے ۔جس وقت پاکستان اور بھارت میدان میں اترتے ہیں وہ میدان دنیا کے کسی بھی شہر میں ہو تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر جاتا ہے۔ ایک ایک گیند اس طرح کھیلی اور دیکھی جاتی ہے جیسے مارو یا مرجاؤ۔ ہاکی کے میدان کی بھی یہی صورت حال ہوتی ہے۔ جو عوام میدان میں نہیں پہنچ سکتی وہ اپنے ٹی وی پر نظریں جمائیں بیٹھے رہتے ہیں ۔ گلیا ں سنسنان ہوجاتی ہیں۔ کاروبار بند ہوجاتے ہیں۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھارت کے رونے کی عادت آج تک نہیں گئی۔ بھارت نے پاکستان کی مخالفت کاکوئی بھی وقت ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ آئی سی سی کو جس طرح بھارت نے یرغمال بنایا اس کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ ’’بگ تھری ‘‘کے نام سے اس وقت بھارت سمیت تین ملک کرکٹ پر حکمرانی کررہے ہیں۔
حال ہی میں چمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پاکستان نے بھارت کو اس کے گھرمیں ایسی مات دی کہ وہ آپے سے باہر ہوگیا۔شکست تو بھارت کو پہلے بھی کئی بار ہوئی مگر اس کے گھر میں اور اسکی عوام کے سامنے مات دینے کا اپنی ہی مزا تھا۔اس شکست کے بعد بھلا ہو انٹرنیشنل قوانین کا جس کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کی جان بخشی گئی ورنہ ان کا بس چلتا تووہ پاکستانی کھلاڑیوں کو وہیں پر گولی ماردیتے۔ پھر بھی انہوں نے اپنے میڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کے کھلاڑیوں پر گھٹیا اور بے ہودہ الزام لگادیے۔’’خواجہ کا گواہ ڈڈو‘‘ کے مترادف انٹرنیشنل ہاکی فیدڑیشن نے فوراً دو پاکستانی کھلاڑیوں کو پابندی کی بھینٹ چڑھا کر پاکستان کو فائنل میں شکست سے دوچار کروادیا۔انٹرنیشنل ہاکی فیدڑیشن نے اس فیصلے کے فوراً بعد اپنی آنکھوں پر کالا چشمہ لگا لیا تاکہ اس کو کچھ نظر نہ آسکے اور اس کا ثبوت ہاکی فیڈریشن نے فائنل میں دے دیاجب جرمن کھلاڑیوں کے بے ہودہ حرکات و سکنات کو دیکھنے کے باوجود ایکشن نہ لے سکا۔ اس کی اصل وجہ آپ سب کو معلوم ہے کیونکہ یہ حرکات پاکستان کے خلاف تھی جس پر ایکشن لیناہاکی فیڈریشن نے ضروری نہ سمجھا اگر یہی حرکات پاکستانی کھلاڑی کرتے تو شاید اس بارپاکستان پر تاحیات ہاکی کے دروازے بند کردیے جاتے۔
یہ تو ہاکی کی بات تھی بے شرم انڈیا نے جوکچھ کبڈی کے فائنل میں کیا وہ تو ساری دنیا نے لائیو(Live)دیکھ لیا۔ کبڈی وہ واحد کھیل ہے جو پاک بھارت کے دیہاتوں میں بہت زیادہ مشہور ہے۔یہ بھارت اور پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ کھیلا جاتاہے۔ یہ کھیل صرف اور صرف طاقت کے زور پر کھیلا جاتا ہے۔اس کبڈی ورلڈ کپ سے پہلے چار ورلڈکپ کھیلے جاچکے ہیں اور چاروں ورلڈکپ جیتنے کا اعزاز بھارت کو حاصل ہے۔ پانچویں کبڈی ورلڈکپ کا فائنل تھااس فائنل میچ میں بھارت کا مقابلہ پاکستان سے تھا۔اس میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔فائنل میچ دونوں ٹیموں کے لیے پاک بھارت جنگ سے کم نہ تھا۔ پہلے تین کواٹرز میں پاکستان کو بھارت پر 1 پوائنٹ کی برتری حاصل رہی لیکن آخری کواٹر میں بھارت نے 42 کے مقابلے 45 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان کو شکست دے دی۔شکست تو پاکستان کو ہوئی مگر اس کے پیچھے جو ہاتھ پوشیدہ تھے وہ سب نے دیکھ لیے۔ آج تک کھیل میں کوئی بھی ناانصافی ہو اس کی آواز بہت دیر بعد سنی گئی مگر اس شکست کے خلاف پاکستان کبڈی ٹیم کے کپتان شفیق احمد چشتی نے اسی موقع پربلند کردی ۔ بقول ان کے کہ’’ ہمارے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے۔ اگر بھارت نے کپ اپنے پاس ہی رکھنا ہے تو ہمارا کھیلنے آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر غیر منصفانہ فیصلے ہونے ہیں تو پاکستان کبڈی ٹیم کبھی پاکستان کھیلنے نہیں آئے گی‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ’’ پاکستانی کھلاڑیوں کو پانی بھی پینے نہیں دیا گیا اور میچ کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا ۔ اس کے علاوہ بھارتی کھلاڑیوں نے اپنے جسم پر تیل اور بام وغیرہ لگائی ہوئی جو قانون کے خلاف ہے۔جبکہ بھارتی ٹیم کے لیے تمام سہولیات موجود تھیں۔انہوں نے کہا کہ اگر امپائروں نے جانب دارانہ فیصلے کرنے ہیں تو ہم آئندہ کبھی میچ نہیں کھیلیں گے‘‘۔
اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی بے شک دوسری پوزیشن رہی اور پاکستان کو ایک کروڑ روپے انعام میں بھی دیا گیامگر پاکستانی ٹیم نے اپنا احتجاج پوری دنیا کو دکھا دیا کہ بھارت کتنا بے ایمان اور خود غرض ہے۔پاکستانی کھلاڑیوں نے تقسیم انعامات کے موقع پر انعام لینے کے انکار کردیا۔ بھارت کی پوری مینجمنٹ اس وقت پاکستانی ٹیم کی منت سماجت پر لگ گئی اورمجبوراً پاکستان کے کپتان کو وہ انعام لینا پڑا۔
افسو س فائنل ہارنے کا نہیں کیونکہ کھیل میں ہارجیت تو ہوتی رہتی ہے مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ اتنی نا انصافی ہونے کے باوجود انٹرنیشنل لیول پر مینجمنٹ آنکھیں کیو ں بند کرکے بیٹھی رہتی ہے؟اگر میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر لکھنے بیٹھوں تو بہت سے صفحات بھر سکتا ہوں مگر لکھنے کا فائدہ تب ہی ہے جب ہمارے حکمران اس پر ایکشن لیں۔ اگر اس طرح ہی ہر میدان میں ہمیں بھارت کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرانا ہے تو پھر اس سے بہتر ہے کہ اس کھیل میں حصہ ہی نہ لیا جائے کیونکہ حکمرانوں کا تو پتہ نہیں مگر عوام کا غلط فیصلے اور ناانصافی پر خون کھولتا ہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker