ایکسکیوزمیکالم

اقتدار کا سورج

حضرت ابراھیم (ع)کے زمانے میں نمرود حضرت موسیٰ (ع)کے زمانے کا فرعون اور حضرت لوط (ع)کے زمانے میں شداد یہ وہ بد بخت ہیں جو اقتدار اور حکمرانی کے نشے میں ایسے بہک گئے کہ خود کو خد ا سمجھ بیٹھے معصوم لوگوں کا قتل عام کرنا اُن پر ظلم ،زیادتی، ناانصافی اور تشدد کرنے میں بڑ ا فخر محسوس کرتے تھے لیکن اﷲ تعالیٰ نے انکے ا نجام کو پوری کائنات کے لیئے عبر ت کا نشان بنا دیالیکن افسوس اُن لوگوں پر ہے جو نمرود ، فرعون اور شداد جیسے شیطانوں کے عبرت ناک انجام سے واقف ہونے کے باوجود بھی انکے پیروکار بنے ہوئے ہیں۔چند ماہ قبل 19نومبر 2011کوایک شخص کو ایسے بدبو دار اور چھوٹے سے کمرے سے گرفتار کیا گیاجس میں باتھ روم تک نہیں تھا اُس شخص کا کھانا پینا سونا اور باتھ روم کرنا سب کچھ اسی کمرے ہی میںہوتا تھا گرفتاری کے وقت اُس کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا تھا جیسے وہ کئی دنوں سے بھوکا پیاسا ہے اور کئی ہفتوں سے نہایا ہوا بھی نہیںہے کمرے میںپڑ ا میٹرس،تکیہ اور کمبل اس قدر گندہ اور بدبو دار تھا کہ ان کو استعمال کرنا تو رہی دور کی بات دیکھنے سے بھی قے آرہی تھی اس شخص کے بارے میںتفصیل اس لیئے بتا رہا ہوں کیونکہ کچھ عرصے پہلے تک یہ کوئی عام آدمی نہیں تھا وہ دنیا کا امیر ترین آدمی تھا اور اُسکا شمار دنیا کے بااثر ترین لوگوں میں ہوتا تھا ا سکی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کی چند مثالیں میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوںایک بار لند ن میں وہ اپنی کار میں سفر کرہا تھا کہ سفر کے دوران ہی اُسے شمالی لند ن کا ایک خوبصور ت گھر پسند آگیا اور اس نے گھر خریدنے کا فیصلہ کر لیا لیکن گھر کا مالک گھر بیچنے کو تیا ر نہیںتھا لیکن اس نے ضد میںآکر گھر کی ڈبل قیمت ادا کرکے وہیں کھڑے کھڑے ایک کروڑ برٹش پائونڈز کا وہ گھر خرید لیا جسکی قیمت پاکستانی کرنسی میں تقریباً ایک ارب چالیس کرو ڑ روپے بنتی ہے۔ 2009 ئ میں اُس نے اپنی 37سالگرہ منائی جس میں دنیا بھر کے امیر ترین لوگوں نے شرکت کی جن میں روس کے Albanian tycoon ،سونے کی کانوں کے مالک Peter Munkاور prince of Monaco Albertجیسی دنیا بھر کی مشہور شخصیا ت نے شرکت کی اور یہ سالگرہ اب تک کی دنیا کی مہنگی ترین سالگرہ میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ شخص انتہائی مہنگی پینٹنگ خریدنے کا شیدائی تھا اس نے اربوں ڈالرز مالیت کی پینٹنگ کو اپنے محل کی زینت بنایا ہوا تھا ۔2006ئ میں اسے اسرائیل کی ادارکارہ Orly weinermanسے عشق ہوگیا اور اس نے اُسے اپنی محبوبہ بنانے کے لیئے اس کے گرد دولت کے انبار لگادئیے چناچہ orly weinermanاس کی گرل فرینڈبن گئی اور یہ دنیا کی مہنگی ترین گرل فرینڈتھی ۔برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیرکا وہ بیسٹ فرینڈتھا اور برطانوی شاہی خاندان اسے کئی بار اسے buckingham palaceاور winsley castleمیں لنچ اور ڈنر دئیے تھے یہ لندن اور پیرس میں پلے بوائے کی زندگی گزارتااوردنیا جہان کے قانون کو توڑنے میں وہ بڑا فخر محسوس کرتاتھا اس نے ایک بار پیرس کی shanzelize street پر ایک سو تیس کلومیٹر کی رفتار سے گاڑی چلا کر پوری یورپی دنیا کو حیران کردیااور پیرس کی سٹی حکومت بھر پور کوشش کرنے کے باوجود اس کا چالان تک نہ کرسکی ۔اپنے ملک کی investment authorityکا یہ شخص سربراہ تھا اور یہ اتھارٹی اتنی پاور فل تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت $10 billionتک کی سرمایا کاری کرسکتی تھی اور یہ بہت بڑی بات تھی ۔ایسی شان وشوکت سے زندگی گُزاانے والا شخص جو 19نومبر2011ئ کو ایک چھوٹے سے بدبو دارکمرے میں بدبو دار کمبل میں لپٹا گرفتار ہوا وہ سیف الاسلام تھا دنیا کے تیسرے نمبر پر تیل سے مالامال ملک لیبیا کے سابق حکمران کرنل قزافی کا بیٹا اُس کا وارث اور لیبیا کا ولی عہدتھا یہ اپنے وقت میں لیبیا کا دوسرا بااثر ترین آدمی تھا یہ اتنا با اثر تھا کہ کرنل قذافی کو نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے کے لیئے بھی اسی نے قائل کیا تھا ۔ سیف الاسلا م اس وقت لیبیا کی موجودہ حکومت کے قبضے میں ہے وہ سیف الاسلام جسکا ایک قدم لیبیا میں تو دوسر ا لند ن یا پیرس میں ہوتا تھا۔ جس کے لیئے پیرس کی بڑ ی بڑی کمپنیاں خاص قسم کے خصوصی پرفیومز تیا ر کرتیں تھیںیہ وہی سیف الاسلام ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ملکہ برطانیہ کا شاہی مہمان بنتا تھا لیکن آج کوئی بھی ملک اُسے پناہ دینے کو تیار نہیں جس کے لیئے لندن اور پیرس میں خصوصی لنچ اور ڈنر ز کا اہتمام کیا جاتاتھا آج وہی سیف الاسلام ہے جسے ایک وقت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے نصیب ہوتا ہے کھڑے کھڑے ایک کروڑ پائونڈز کا گھر خریدنے والے کو آج پوری دنیا میں سر چھپانے کے لیئے ایک چھت درکار نہیں جس کے کل تک دنیا کے اربوں پتی لوگ بیسٹ فرینڈز تھے آج وہی بے یارو مددگار مدد کے لیئے دہائیاں لگا رہا ہے لیکن کوئی اس کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔سیف الاسلام پلک جھپکتے ہی عرش سے فرش پر آگیا اور بادشاہ سے فقیر ہوگیا۔ وہ لوگ جوخدا کو بھول جاتے ہیں اور خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں تو ایسے لوگوں پر ایک نہ ایک دن ﷲتعالیٰ کا قہر ضرور نازل ہوتا ہے اور اُس قہر سے پھر کوئی بچ نہیںسکتا ۔ سن لیں وہ تمام حکمران جواقتدار کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیںاور یہ خیال کرتے ہیں کہ اُن کے اقتدار کا سورج کبھی بھی غروب نہیںہوگا اور انکے مقدر کا ستارہ ہمیشہ چمکتا رہے گا تو ان لوگوں کو سیف الاسلام کی کہانی چیخ چیخ کر یہ بیان کررہی ہے کے ایسے حکمران جب عوام کا اعتماد کھو دیتے ہیں تو تب اُن کا ایسا ہی دردناک اور بھیانک انجام ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کے بعد۔۔۔سیاسی قیادت کی اصل ذمہ داری کا امتحان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker