تازہ ترینتہمور حسنکالم

کہیں ایسا تو نہیں۔۔۔؟؟؟

اتنی صیبتوں اور مشکلات کے بعد زندگی کی امنگ نہ جانے ہمیں کس آس اور امید پر زندہ رکھے ہوئے ہے جو کہ غیر معمولی اور غیر فطری معلوم ہوتی ہے‘ ایک طرف حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور دوسری طرف پاکستان خوشحال بنانے کے دعوے سوائے دعووں کے اور کچھ نہیں جو کہ صرف بیان کی حد تک ہے۔۔۔جو چند کیمروں کے سامنے دینا مجبوری بن گیا ہے اور دینا ہی پڑتا ہے‘ ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ پاکستان ایسے حروف کا مجموعہ ہے جس کا منہ پر آنا روح اور طبیعت کا راستہ استوار کرنے کے مقابل ہے‘ لیکن ہم نے پاکستان کا حال کیا کر دیا ہے جو روح اور طبیعت کو باہمی ملاپ کا درس دے رہا ہے‘ ہم جیسی نا اہل عوام ہی کے انتخاب نے ہمیں وہ صبھ اور راتیں دکھا دی ہیں جو کبھی سوچ کی سرحد کو عبور کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی‘ آج پاکستان کا موازنہ آنے والے کل سے کر کے دیکھ لیں‘ نمایاں تبدیلیاں محسوس کی جا سکتی ہیں جو میں آپ کی سوچ پر چھوڑتاہوں‘ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اپنا حق ’’ووٹ‘‘ دیتے وقت اس بات کا تو خیال رکھا جاتا ہے کہ فلاں فرد میرے اور میرے گھر والوں کے کاموں کیلئے کتنا موزوں ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جو آپ کے تمام معاملات کیلئے درست وہ دوسروں کیلئے بھی درست ہو‘ یہی وہ غیر مساوی سوچ اور رویہ ہے جس کی وجہ سے ہم ذہنی اذیت کا شکار ہیں‘ ملک میں بگڑتی صورتحال کے ذمہ دار جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں وہیں ہم سب کا بھی یہ بنیادی فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد رہنے والے عناصر جو پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ان کو بے نقاب کریں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن کو ہم یتیم‘ مسکین سمجھ کر اپنے گرد جگہ اور اپنی سرپرستی فراہم کرتے ہیں وہ خدانخواستہ ہمارے ملک کو یتیم اور مسکیں کرنے کے در پے ہوں‘ ہم کب تک ریاست کو ذمہ دار ٹہرا کر خود اپنا وجود نوچتے رہیں گے‘ کبھی ہم نے یہ سوچا جو تبدیلی آپ دوسرے میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ تبدیلی خود آپ کے اندر لانے کی ضرورت ہے‘ انقلاب کی بات کرنے والے خود اپنے آپ کو بھی فتح نہیں کر سکے‘ یہ بات تو مکمل طور پر واضح ہے کہ انقلاب صرف جھنڈے اٹھا کر نعرے لگانے سے نہیں آتا اور نہ ہی کبھی آیا ہے‘ انقلاب اور تبدیلی کا واحد حل آزاد سوچ ہے‘ ہم سب کو ہر فرد کی سوچ میں یہ عنصر اجاگر کرنا پڑے گا کہ وہ پاکستان کے حق میں کچھ کر سکتا ہے تو صرف اپنا احتساب کرکے پاکستان کو ایک عظیم شہری فراہم کر دے‘ ایسی صورت میں اپنی غلطی دوسروں اور دوسروں کی غلطی عوام میں تلاش کرکے اس ملک کو بدنام کرنا بہت آسان لگتا ہے مگر اس کو ایک عمدہ شہری دینا بہت مشکل ہے بے شک وہ کراچی میں انسانی خون کا کھیل ہو یا پاکستان میں دربدر ذلیل ہوتا ہوا انسان ہو‘ اس سب پر خاموش ہونا ہمارا اعتراف جرم ہے‘ کیا ہم اپنا رزق تلاش کرنے کیلئے اپنا گھر کسی دوسرے کے سر پر چھوڑ کر جاتے ہیں ؟ نہیں‘ بلکہ اول اپنا فرض اور پھر دوسروں کی ذمہ داری‘ پاکستان میں موجود ہمارے گھر کو نقصان ہونے والا ہے‘ جس پر حکومت صرف مذمتی بیان دے کر چپ ہو جائے گی‘ اگر حکومتی وعدوں میں کوئی دم خم ہوتا تو کراچی میں جلتے آشیاں آج رہنے والوں کیلئے چھا ؤں کا باعث ہوتے‘ جہاں کوئی ماں اپنے لخت جگر کو سسکیوں بھری آواز میں پکارنے پر مجبور نہ ہوتی اور نہ ہی کوئی غریب انصاف کے حصول کیلئے ان دروازوں پر جاتا جہاں سے وہ خالی ہاتھ لوٹ آئے‘ یہ الفاظ لکھتے ہوئے خود قلم شرمندہ ہے کہ ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں یہ سب کچھ روا رکھا جاتا ہے‘ ہمیں خود کو ترقی دیتے دیتے آج سوائے خود کہ کچھ اور نظر نہیں آتا‘ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اس تبدیلی کا آغاز خود سے کرنا ہوگا‘ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: ضلعی پولیس اور حساس اداروں کا نواحی گاؤں43تھری آر میں منشیات فروشو ں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker