تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

کہاں گئے وہ وعدے وہ دعوے

farhanہر شخص کو وہ دن اچھی طرح یاد ہو گا کہ جس دن روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے وعدے کئے گئے تھے ،ہر طرف ایک ہی نعرہ سنائی دیتا تھا کہ ہمیں ووٹ دو ہم ملک کی تقدیر بدل دیں گے ،کہیں ڈرامائی غصے میں سٹیج پر سجائے مائیک توڑے جاتے تھے تو کہیں لنگر کا انتظام کر کے عوام کی غربت کا مذاق اڑایا جاتا رہا وہ بھی اس لئے کہ ایک وقت کا کھانا دے کر اس عوام کا ضمیر جو خریدنا تھا ان کی آنکھوں پے سستی روٹی کی پٹی باندھ دی گئی تھی ،
اور ملک کے ہر کونے میں بار بار اس بات کو دھرایا جا رہا تھا کہ ہم ملک سے غربت ختم کریں گے ،اور لوٹا ہوا ملکی خزانہ واپس اپنے ملک لائیں گے اور چوروں کو اور زرداریوں کو گلیوں اور سڑکوں پے لا کر عوام کے سامنے گھسیٹیں گے ،
کہا گیا تھا کہ نوے دنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے گا ،اور عوام کے مسائل کو حل کیا جائے گا ،
مگر یہاں تو سب کچھ ان وعدوں کے برعکس نظر آنے لگا ہے ،
خدایا یہ ہمارے ساتھ کیا ہو گیا ،ہم سے وعدے کرنے والے کہاں گئے اور ساتھ میں جو روٹی کے چند نوالے ملتے تھے وہ بھی نجانے کہاں لے گئے ،نوے دنوں کے وعدے کا تو کسی کو پتا ہی نہیں ہے ،اور جسے یاد ہے وہ بھی ایک تو چوری الٹا سینہ زوری والے فلسفے پے عمل پیرا ہو تے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ممکن نہیں ،
واہ رے میرے ملک کی عوام کیا کہنے تم سب کے ،کہ تم نے توسب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ہی ہاتھ سے اپنے نشیمنن کو آگ لگا دی ،اپنے ہاتھوں سے تم نے اپنی نسلوں کے مستقبل کو دشمنوں کے ہاتھ سستے داموں بیچ دیا ،
تم نے اپنے روشن مستقبل کے مقابلے میں خاندانی روایات کو پروان چڑہایا ،تم نے نظریات اور اپنے اور اپنے ملک کے مفادات کا سودا کیا اور یہ بھی نا سوچا کہ ہم جن لوگوں کے ہاتھ میں اپنے ملک کی بھاگ ڈور تھمانے لگے ہیں وہ صرف ایک خاندان ہے جو ہمارے پورے مل ک پے حکومت کرے گا عرصہ دراز سے اس ملک پے حکومت کرنے والوں کی نسل در نسل بننے والی حکومتوں کو بنانے میں تم نے کردار ادا کیا، اور جب بھی کسی نے ان کی مخالفت کی تو تم لوگوں نے اسے ٹھکرایا دھتکارا اور ملک کا غدار اور امریکہ نواز قرار دینے کی کوشش کی ،
آخر کب ہمارے ملک کے عوام کی سوچ بدلے گی ،کیا تم لوگ بھی عیسیؑ کی قوم کی طرح کوئی معجزہ مانگنے کے انتطار میں ہو ،کیا تم کسی نبی کے انتظار میں ہو ،تو یہ بات بھول جاؤ کیونکہ نبوت کا دروازہ کب کا بند ہو چکا ،اور معجزہ دیکھانے کے لئے بھی کسی نبی نے اب آنا نہیں ہے ،اسی قوم میں سے کوئی ہم جیسا ہی اٹھے گا اور ہم کو انقلاب کی دعوت دے گا ،اور شائد تم لوگ ہر بار اسے غدار قرار دے کر ٹھکراتے رہو یہاں تک کہ تمہاری نسلوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ ،بدن سے لباس ،سر سے دوپٹہ ،اور گھر ،اور مرنے کے بعد دفنانے کے لئے زمین بھی تنگ کر دی جائے گی ،
تب تمہاری آنکھین کھلیں گیں اور اس وقت تم کسی مسیحا کو کسی انقلاب کے علمبردار کو ڈھونڈو گے اور اس وقت وہ تمہارے الزامات کے سمندر مین بہہ چکا ہو گا اور سمندر کی نہریں نجانے اسے تم سے کتنا دور لے جا چکی ہوں گی ،اس وقت تمہارا مقدر صرف ،اندھیرے ہی اندھیرے بن چکے ہوں گے اور تمہارے پاس صفر پچھتاوے کے اور کچھ بھی نا ہو گا ،
اور پھر جب تمہاری نسلیں اپنے تاریک مستقبل کو دیکھین گی تو تم کو کن الفاظ مین یاد کریں گی شائد تم لو گ اس بات سے واقف ہو اور نہیں ہو تو سنو جب بڑے اپنے چھوٹوں کے لئے کوئی غلط فیصلہ کریں تو چھوٹے بھی کبھی نا کبھی گالی دے ہی دیتے ہیں اور یہاں ایک قوم کے ایک ملک کے مستقبل کا سوال ہے یہاں ایک نہیں ملک کا آنے والا ہر بچہ گالی سے ہی نوازے گا اس لئے اب وقت ہے کہ ان لوگوں سے اپنے راستے جداکر لئے جائین جو ہمارے اور ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کے دشمن نہیں
جنہوں نے اس ملک کو اپنی جاگیر بنا کر اس ملک کی عوام کو غلام بنا رکھا ہے ،جو وعدے تو کرتے ہین مگر محض حکومت اور عہدے حاصل کرنے کے لئے ہمیں ایک نظریے کی جنگ لڑنی ہے ہے جس میں صرف اور صرف ہمارے ملک کی ترقی ہو ہما ری نسلوں کا مستقبل روشن ہو اور جس نظریے میں لاالہ اللہ محمدالرسول اللہ کا پرچار ہواور جس میں وعدوں اور دعوں کی کوئی حیثیت ہو ۔
اگر یہ سب نا ہو تو کم سے کم انقلاب کے راستے ہموار ہوں ،اور انقلاب کے لئے ہر صورت اس باطل نظام سے بغاوت کرنی پڑے گی ۔
نہیں اٹھنا بغاوت کو تو مر جاؤ کہیں جا کر
یہ سہنا روز کی ذلت ،یہ جینا روز گھبرا کر

یہ بھی پڑھیں  ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker