تازہ ترینعلاقائی

فقیروالی:ڈاکٹرخالد رانجھا کی حامد ناصرکےوالد کی وفات پرتعزیت

فقیر والی ﴿ نامہ نگار﴾ سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹرخالد رانجھا نے حامد ناصر واہلہ ایڈووکیٹ،سپریم کورٹ،محمد ظفراللہ والہ نائب تحصیلدار کے والدوفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی﴿ن﴾ لیگ کے چند ارکان اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست دے دیتے کہ وزیر اعظم گیلانی کو عدالتی فیصلہ کے بعد نا اہل قرار دیا جائے ،لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کے بڑے کردار غیر تحریری معاہدے کے پابند ہیں،جس کے ضامن بھی پیچھے موجود ہیں،اس لئے مرکز پنجاب میں اور پنجاب مرکز کی حکومتیں گرانے میں کوئی ایکشن نہیں لے گا اور سپریم کور ٹ سے و زیر اعظم گیلانی بارے فیصلہ سے ملک میں کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا، سارا رولا رپا عوام کو مطمئن رکھنے کے لئے ہے،انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کا ہم نام تو لیتے ہیں،لیکن جموری سوچ سے ابتک محروم ہیں،جس نے ملک کو موجودہ بحرانوں تک لا کھڑا کیا ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم تو پہلے سے اپنا ذہن بنا چکے تھے کہ وہ عدلیہ کے حکم پر کوئی خط نہیں لکھیں گے،اس طرح انہوں نے عدالتی حکم پر سیاسی فیصلہ کو ترجیح دی،خالد رانجھا نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے اندر کردار ،عام موقف سے مختلف کیوں ہے،عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے،عوام کو محرومیاں ڈلیور کرنے والی حکومت کی طرف سے پانچ سال پورے کرنے کی رٹ جمہوری نہیں۔مڈٹرم انتخا(رض)(رض)بات پوری دنیا میں ہوتے ہیں ،اور عوام سے اعتماد کی تجدید لی جاتی ہے،انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جس ملک میں افسر کے تبادلہ پر وفاداریاں تبدیل ہوتی ہوں وہاں چار سال تک ایک دوسرے کے ممبران کو نہ چھیڑنا معنی خیز ہے،انہوں نے کہا تقریبا 2200  لوگوں نے اس ملک کے سسٹم کو ذاتی مفادات کے لئے مفلوج کر رکھا ہے،وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں بھی اداروں کے درمیان تصادم نے ملک کو نقصان پہنچایا ،اور حساس ادارے اور عدلیہ ایک ساتھ کھڑے رہے لیکن اس مرتبہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان ٹھن چکی،جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم 63 سالوں میں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے اندر قوت برداشت یا جموری سوچ پیدا نہیں کر سکے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان ابھی سطحی سوچ سے آگے نہیں نکل سکے انکے ساتھ سنجید ہ لوگ نہیں اکثریت محض تماشائی ہیں ،وہ 75 فیصد دیہاتی آبادی کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم کے ڈی نوٹی فیکشن کے طریقہ کار میں چار ماہ لگ سکتے ہیں ،اور حکومت کا جانے میں بھی پانچ چھ ماہ کا وقت باقی ہے،لہذا اتنی تھوڑی مدت کے لئے کون وزیر اعظم بننا چاہے گا، ودفاقی وزیر نے کہا سندھ کارڈ کے بعد سرائیکی کارڈ سیاست کی ضرورت بن گیا،جو اخلاص کی بجائے سیاسی ہتھکنڈہ ہے ،پاکستان کا درد ہے تو انتظامی طور پر 35صوبے بھی بنانے میں حرج نہیں لیکن لسانی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم وفاق اور وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہوگی، سپریم کورٹ کا فیصلہ پرو بھٹو اور انٹی بھٹو نعروں میںمنقسم قوم اپنے اپنے نکتہ نظر سے دیکھ رہی ہے جو وقت کا بہت بڑا المیہ ہئے،اس تقریب میں محمد آصف رانجھا، اٰیڈوو کیٹ سپریم کورٹ،چوہدری شفیع طارق ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور،اور خالد مجید اختر ایڈووکیٹ لنگڑیال کے علاوہ دیگر معزز علاقہ نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان میں فوج آئی تو لوگ مٹھائی تقسیم کریں گے، عمران خان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker