تازہ ترینکالم

کشمیر کی لائین آف’ ’آؤٹ آف کنٹرول‘‘

atharپاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں 1947-48ء کو ایک سال دوماہ ،ایک ہفتہ اور دو دن کی جنگ کے بعداقوام متحدہ کی مداخلت اور دونوں ملکوں کے اتفاق کے بعد جنگ بند ہوئی تو جہاں جہاں پاکستانی اور بھارتی فوجیں موجود تھیں،وہاں ان کے درمیان ’سیز فائر لائین‘ وجود میں آ ئی جس نے ریاست کشمیر میں جغرافیائی تقسیم پیدا کرتے ہوئے کشمیریوں کو بھی ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔اس طرح اقوام متحدہ کی طرف سے متنازعہ قرار دی گئی ریاست جموں و کشمیر (جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے) کو مصنوعی طور پر تقسیم کر تے ہوئے کشمیر کے منقسم حصوں کو بھارتی زیر انتظام کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا نام دیا گیا۔1971کی جنگ اور پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد3 جولائی 1972ء کو دونوں ملکوں کے درمیان شملہ سمجھوتے میں کشمیر کی سیز فائر لائین کو لائین آف کنٹرول کا نام دیا گیا ۔اس کی لمبائی740کلومیٹر(460میل) ہے اور سابق مشرف دور میں ہی اس کے 550کلومیٹر (340میل) ایریا میں بھارت نے خار دار تاروں کی دوہری باڑ نصب کی ۔یہ لائین گلگت بلتستان کے علاقے میں پوائنٹNJ9842سے شروع ہو کر کشمیر سے ہوتی جموں تک چلی جاتی ہے۔پوائنٹNJ9842 سے آگے کے علاقے میں کنٹرول لائین کی حد بندی نہ کی گئی تھی۔بھارت نے 1984ء میں فوجی مہم جوئی کے ذریعے اس پاکستانی علاقے میں داخل ہو کر پاکستانی علاقے میں واقع سیاچن گلشیئر پر قبضہ کر لیا۔اس کے چند ہی سال کے بعد بھارتی زیر انتظام کشمیر میں بھارت سے آزادی کی مسلح عوامی جدوجہد شروع ہوئی اور اس دوران تقریبا ایک عشرے سے زائد عرصہ کشمیر کی سیز فائر لائین (لائین آف کنٹرول)پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کی چھڑپیں جاری رہیں تاہم کسی فریق نے کبھی زمینی پیش قدمی نہیں کی۔سابق مشرف دور میں بھارت کے ساتھ کنٹرول لائین پر سیز فائر کے سمجھوتے کے بعد کئی سال سیز فائر لائین پہ امن رہا۔لیکن گزشتہ چند ماہ سے کنٹرول لائین پر فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات پھر سے ہونے لگے ہیں۔
گزشتہ دنوں کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں پاکستان اور بھارتی فوجوں کے درمیان چند دن فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔اس علاقے میں فائرنگ اور گولہ باری کا یہ سلسلہ گزشتہ سال اکتوبر سے شروع ہوا۔ہوا یوں کے کنٹرول لائین سے ملحقہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کے ایک گاؤں میں رہنے والی ایک ضعیف خاتون ،جس کے تمام رشتہ دار کنٹرول لائین کے اس پار آزاد کشمیر میں تھے،آخری عمر میں رشتہ داروں میں مرنے کی تمنا لئے کنٹرول لائین عبور کر کے آزاد کشمیر اپنے رشتہ داروں کے پاس آ گئی۔اس پر بھارتی فوجی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی کہ ایک ضعیف خاتون کس طرح آرام سے پیدل چل کر کنٹرول لائین عبور گئی۔بھارتی فوج نے اس علاقے میں نئی فوجی چوکیاں قائم کرنا شروع کر دیں جو دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان طے پائے اس سمجھوتے کی کھلی خلاف ورزی تھی کہ کنٹرول لائین پر نئی جنگی تنصیبات قائم نہ کی جائیں۔اس پر پاکستانی فوج نے فائرنگ کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو نئے مورچے قائم کرنے سے باز رکھا۔اسی دوران مقبوضہ کشمیر کے فائرنگ سے متاثرہ علاقے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا کہ بھاری فوج نئے مورچوں کی تعمیر بند کرے کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستانی فوج فائرنگ کر رہی ہے۔رواں ماہ کے پہلے ہفتے بھارتی فوج نے اسی علاقے میں ایک پاکستانی چوکی پہ حملہ کرتے ہوئے ایک پاکستانی فوجی کو ہلا ک اور ایک کو زخمی کر دیا۔اس کے اگلے روز اسی ایریا میں ایک بھارتی فوجی چوکی پہ دو بھارتی فوجی مارے گئے۔بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ یہ حملہ کنٹرول لائین کے پانچ سو میٹر اندر جا کر کیا گیا ہے اور حملہ آور ایک بھارتی فوجی کا سر کاٹ کر بھی لے گئے ہیں۔ اس کے بعد بھی بھارتی فوج کی فائرنگ میں پاکستانی فوج کا جانی نقصان ہوا۔علاقے میں برگیڈیئر سطح کی فلیگ میٹنگ بے نتیجہ رہی۔اس کے بعد فائرنگ و گولہ باری جاری رہنے پر امریکہ،چین اور اقوام متحدہ کی طر ف سے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔پاکستانی نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن سے بھارتی فوج کے 6جنوری کے حملے کی باضابطہ شکایت کی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی شکایت پر تحقیقات کی جائیں گی۔پاکستان نے اس واقعہ کی غیر جانبدار عالمی تحقیقات کی پیشکش کی لیکن بھارت اس پر راضی نہ ہوا۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلی سطحی فوجی رابطوں سے کنٹرول لائین پر سیز فائر کا اعلان ہوا لیکن تعلقات معمول پر آنے کے اشارے ابھی نہیں ہیں۔
پاکستان میں اس واقعہ کو مقامی سطح کا ہی ایک واقعہ سمجھا گیا لیکن بھارت میں فوج،حکومت اور میڈیا وغیرہ کی طرف سے پاکستان کے خلا ف نہایت سخت روئیہ اپنایا گیا۔بزرگ شہریوں کو سرحد پہ ویزہ دینے کا سلسلہ بھارت نے شروع ہونے سے پہلے ہی بند کر دیا جبکہ پاکستان نے بھارتی بزرگ شہری کو پاکستان آنے کا ویزہ سرحد پہ ہی جاری کر کے داخلے کی اجازت دی۔ بھارت میں موجود تما م پاکستانی کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا اور بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے مختلف پروگرام بھی منسوخ کر دیئے گئے۔پاکستان نے تو بھارت کی بات مانی ہے کہ دونوں ملک مختلف شعبوں میں تعلقات مضبوط بناتے جائیں تو آخر وہ وقت آہی جائے گا کہ مسئلہ کشمیر خود بخود ہی حل ہو جائے گا۔یوں بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے بالواسطہ یہ شرط عائید کر رہا ہے کہ پاکستان متنازعہ ریاست کشمیر کی صورتحال اور مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہو جائے۔کنٹرول لائین پر حالیہ فائرنگ کے واقعہ پر بھارتی روئیہ اس بچے کی مانند لگتا ہے جو کسی بات پر ناراض ہو کر فورا ہر قسم کے تعلقات توڑ دیتا ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی،مزاکرات اور تعلقات میں پیش رفت وغیرہ سب امریکی حکومت کی ’’سہولت کاری‘‘ کی بدولت ہے۔اس میں دونوں ملکوں کی اپنی اصل خواہش کا فقدان ہے۔یہ امریکی حکومت ہی ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو ’’ ریگولائیز ‘‘ کرتی ہے ورنہ اگر بات دونوں ملکوں پر چھوڑ دی جائے تو دونوں ملک لڑائی ،جھگڑوں اور جنگ میں ملوث ہونے پر ہی ’’مجبور‘‘ نظر آتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت نے32سال پہلے کشمیر کی سیز فائر لائین کو لائین آف کنٹرول کا نام تو دے دیا لیکن اس لائین کی صورتحال دونوں ملکوں کے ’’آؤٹ آف کنٹرول ‘‘ ہوتی رہتی ہے۔دونوں ملکوں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حل کی تو نہیں لیکن کشمیر اور کشمیریوں کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائین اور اس کے نام نہاد تقدس کو کو بحال رکھنے کی فکر ضرور نظر آتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سب طاقتوں نے ملکر اس کنٹرول لائین کو ایک ’’مقدس گائے‘‘ بنا رکھا ہے۔یہ راز بھی اب راز نہیں رہا کہ کشمیریوں کے علاوہ باقی سبھی کنٹرول لائین کی موجودہ تقسیم کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے خواہاں ہیں۔لیکن کیا کیا جائے کہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔کنٹرول لائین کو دونوں طر ف کے کشمیری تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس ظالمانہ تقسیم کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کا کوئی حل تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔یوں اگر بھارت اور پاکستان حقیقی طور پر اچھے ہمسائیوں کی طرح خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں تو انہیں کشمیر کو ہی دوستی کا پل بنانا ہو گا۔جس کے لئے کشمیریوں کو حق خود اختیاری دینا ناگزیر ہے۔کشمیر کو نظرانداز کر کے مختلف شعبوں میں تعلقات کے قیام پر ہر وقت ان تعلقات کے خاتمے کا خطرہ منڈلاتا ہی رہے گا۔ اگر باہمی دوستی دونوں ملکوں کی اپنی نیت نہیں ہے توپھر دونوں ملک امریکی ’’سہولت کاری‘‘ کی بدولت ایک دوسرے کے ساتھ منافقت اورمخالفت کا کھیل جاری رکھیں گے۔شاید برصغیر کے ارباب اختیار جنوبی ایشیا ء میں امن و ترقی کا سفر شروع کرنے کے لئے دوسری جنگ عظیم کی طرح کی ایسی بھیانک جنگ کا انتظار کر رہے ہیں جس میں لاکھوں انسانی ہلاکتوں کے بعد ہی انسانیت اور اس کے تقاضے یاد آئیں گے۔پاکستان اور بھارت تو ایک دوسرے کے لئے بہت طاقتور ،ناقابل تسخیر حریف ہیں لیکن یہ جنوبی ایشیاء کے عوام ہیں جو اختلافات منصفانہ طور پر حل کرنے کے بجائے دشمنی پالتے رہنے کو ہی عقل وشعور کا تقاضہ قرار دینے کے بھیانک،اذیت ناک نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں note

یہ بھی پڑھیں  پتوکی: مہمان بن کر گھر آنے والے پانچ افراد نے لڑکی اغواء کر لی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker