تازہ ترینکالمنصرت سرفراز

سببِ ترتیب کائنات

عربی زبان کا لفظ عشق عربی لفظ عاشقہ سے ماخوذ ہے جو ایک قسم کی شراب کو کہا جاتا تھا۔ عشق جب کسی محب کے دل میں جڑیں بناتا ہے تو اسے محبوب کے سوا سب کچھ بھول جاتا ہے حتیٰ کہ اپنا آپ بھی۔(شراب بھی تو سب کچھ بھلا دیتی ہے)۔

قرآن میں عشق کے لئے محب کے علاوہ وُد کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ جسے عربی میں اعلیٰ ترین درجے کا عشق کہا جاتا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ستائیس جگہوں پر استعمال ہوا ہے۔[ سترہ جگہ بطورفعل (وُدَ) ۔ نو جگہ بطور اسم (وُد اور مودۃ)]۔ قرآن کہتا ہے کہ سب سے پہلا عشق تو ربّ کائنات سے سرزد ہوا تھا جس نے خود کو دیکھا اور عاشق ہو گیا ۔القران :
اللہُ جمیل و یحب الجمال
(اللہ حسین ہے اور اپنے حسن سے محبت کرتاہے)

جب آدم کو نافرمانی کے باعث جنت سے زمیں پہ پھینک دیا گیا تو آدم کو ندامت نے آگھیرا۔ مدتوں روتے اور معافی طلب کرتے گزر گئیں مگر اللہ اپنی صفتِ جلال صفتِ رحمان کی طرف مائل نہ ہوا۔ آدم نے رو رو کے زمانے گزار دیئے مگر قادرِ مطلق اپنی وصفِ قہاریت پہ قائم رہا۔ اچانک آدم کو نہ جانے کیا خیال آیا کہ رب سے بولے : ’اے اللہ مجھے۔ محمد۔ کے طفیل معاف فرما دے‘۔۔۔ آدم کا یہ کہنا تھا۔۔ کہ۔۔ محب محمد کے سارے جلال پہ اور تمام قہاریت پہ گویا عشق کی ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑ گئی۔ ارشاد ہوا: ’ اے آدم ، تم نے یہ کس کا نام لے دیا ۔ جاؤ تمہاری سب خطائیں معاف۔ مگر یہ تو بتا و کہ تم محمد کو کیا جانو۔ تم نے یہ نام کہاں سن لیا ؟‘ آدم نے عرض کی :’ اے معبود جنت کے دروازوں پہ جگہ جگہ لکھا دیکھا تھا ’ لا الٰہ الاللہ محمد رسول اللہ‘ بس وہی یاد آگیا ؛۔ رب کائنات نے فرمایا : ’ مجھے اپنے جلال کی قسم اے آدم ۔ اگر محمد کو پیدا نہ کرنا ہوتا تو تم بھی وجود میں نہ ہوتے‘

یہ بھی پڑھیں  تنظیم البدرمجاہدین نے عبدالقادرملا کی پھانسی کا بدلہ بھارت سے لینے کااعلان کردیا

جس طرح ہربشری جذبے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ شفقت کا تقاضہ ہے کہ نرم دلی کا برتاؤ کرو۔ احترام کا تقاضہ ہے غلط بات پر بھی اُف نہ کرو۔حسد کا تقاضہ ہے کہ مقابل کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرو۔ اِسی طرح آخر عشق کے کیا تقاضے ہوتے ہیں ۔ عشق کا سب سے پہلا تقاضہ ہے کہ اُس کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرنا۔ عشق محب کے دل کی ایسی کیفیت ہے جو وہ اپنے محبوب سے بھی مخفی رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ شاید اظہارِ عشق اسی لئے خود عشق کرنے سے بھی مشکل کام ہے۔ عشق کا دوسرا اہم تقاضہ یہ ہے محب محبوب کی پسند کردہ وضع اختیار کرنے کی ہر ممکن سعی کرتا ہے۔ کوئی گھر بار چھوڑ کر محبوب کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ بادشاہ تخت و تاج چھوڑ دیتے ہیں۔
بقول احمد فرازؔ صاحب کے :
سنا ہے ربط ہے اُس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
عشق کی دو اہم اقسام ۔ ہم جانتے ہیں۔ عشقِ حقیقی ا ور عشقِ مجازی ہیں۔ صوفی کہہ گئے ہیں کہ عشقِ مجازی (یعنی مخلوقِ خدا سے عشق) دراصل عشقِ حقیقی کی سیڑھی ہے۔ ’ عشق اللہ ۔ معبود اللہ ‘ صوفیوں کا اصل سبق ہے۔ اللہ محب بھی ہے اور محبوب بھی!! تمام کائنات اندرونی یا بیرونی طور پرعشق سے چل رہی ہے۔ عشق ساری کائنات کو ایک انسان میں سمیٹ دیتا ہے اور ایک انسان کو ساری کائنات میں پھیلا دیتا ہے۔ یہ سببِ ترتیبِ کائنات بھی ہے اور وجہِ کاروبارِ کائنات بھی ہے۔ حضرت رابعہ بصریؒ سے کسی نے پوچھا کہ آپ شیطان سے کتنی نفرت کرتی ہیں۔ انہوں نے فرمایا : میرے دل میں اللہ کی محبت کے بعد اتنی جگہ ہی نہیں کہ کسی کی نفرت رکھ سکوں! بقول شاعر۔
یہ ایک جذبہ روگِ جاں بہت، دل بَر بہت
پھر بھی میرے چارسُو، اندر بہت باہر بہت
جس طرح سخاوت کی معراج ہے کہ انسان حاتم طائی ہو جائے۔ ظلم کی حدیہ ہے کہ انسان چنگیزخان ہو جائے۔ فتوحات کی بلندی ہے کہ انسان سکندرِ اعظم ہو جائے۔ اسی طرح عاشق کی انتہا یہ ہے کہ مجنوں ہو جائے۔ تو سنئے کہ حضرتِ مجنوں کسی درخت کے نیچے محوئے استراحت تھے کہ کسی نے آواز لگائی ’مجنوں سنو‘ جاگتے ہونے کے باوجود مجنوں متوجہ نہ ہوا۔ پکارنے والے نے دو چار پکار کے بعد مجنوں کو قریب جا کے جھنجھوڑا اور شکایتاً بولا :’ میں نے تم کو کتنی آوازیں دیں۔ مجنوں۔ مجنوں۔ مگر تم نے توجہ ہی نہیں دی‘ ۔ مجنوں بولا :’ کس کو آواز دی ۔ کون مجنوں ۔ میں تو لیلیٰ ہوں‘۔۔۔۔ یہ وہ کیفیت تھی جسے عشق کہتے ہیں۔ منصور بن حلاج پورے یقین کے ساتھ ’اناالحق ۔اناالحق ‘ کا نعرہ لگاتا رہا۔ (مجھے اندازہ ہے کہ میرے قارئین اس یہ چاہتے ہوں گے کہ یہاں صرف عشق کے بجائے میں ’ سچا عشق ‘ کے الفاظ لکھوں۔لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ جھوٹی رات کیا ہوتی ہے ۔ جھوٹا دن کیا ہوتا ہے۔جھوٹا سورج۔ جھوٹا چاند ۔ کوئی بھی شے یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شے جھوٹی موجود ہے تو وہ لا موجود ہوئی ناں ۔ اسی لئے میں عشق کو صرف عشق لکھ رہی ہوں)۔ بقول انور شعور :
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
یہاں مجھے مرحوم سرفراز احمد راہیؔ کے مشہور ناول ’عشق کا قاف‘ کا انتساب یا د آرہاہے جس میں انہوں نے لکھا تھا ’’اُن کے نام جن پر ع ۔ش۔ق اترا اور وہ اس کی تلاوت کا قرینہ جان گئے۔‘ آج کے مسلمان کا مسئلہ یہی ہے کہ ہمیں تلاوت کا قرینہ نہیں آتا۔ ایک مبینہ طور پر بنائی گئی گستاخانہ فلم کے احتجاج کے لئے پیش آئے حالیہ واقعات ہم سب کے سامنے ہیں۔ عشق خاموش رہے تو یقیناًافضل ہے لیکن اگر اظہارِ عشق واجب ہو جائے (جیسا کہ ان دنوں ہے) تو پھر عا شق کے لئے وہ طریقہ فرض ہو جاتا ہے کہ محبوب کی عظمت و حرمت پہ کوئی انگلی نہ اٹھے۔ کبھی کبھی اندازِ اظہارِ عشق محبوب کو اتنا ناگوار گزرتا ہے کہ وہ عاشق کو مرتبہ عاشقی سے گرا دیتا ہے۔
افسوس ۔صد افسوس ۔ہم نے کوئی کثر اٹھا نہیں رکھی۔
پھر بھی دعا یہی ہے کہ خدا کرے ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو۔ بقول شاعر :
بغیر رحمتوں کے جہاں ہوسکے گزارا
کائنات میں ایسا کہیں کوئی گھر نہیں ہے
کوئی مانے یا نہ مانے مگر ایک ہی ہے کُلیہ
درِ مصطفی سے آگے کہیں کوئی در نہیں ہے

یہ بھی پڑھیں  دیس بناپردیس

یہ بھی پڑھیے :

6 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker