کالممحمد ہمایوں

کل کاپاکستان!،اک اللہ والے کاخواب!

کل رات خواب میں میری ملاقات اک بزرگ سے ہوئی وہ بزرگ پاکستان اورپاکستانیوںکے متعلق کچھ کہہ رہاتھامجھ سے پوچھے بغیررہانہ گیارک کرپوچھ لیاباباجی آپ کیافرماررہے ہیں تووہ بولے اے بیٹاوطن عزیزمیں جولوگ ڈینگی بخاراورجعلی ادویات سے مررہے تھے اورہیں وہ سب خداکے حضور پیش ہورہے ہیں اورہرکوئی اپنااپناحال دل سنارہاہے ۔امریکی ،یورپی،ایشیائی سب نے خداسے التجاکی کہ اے اللہ ہمارے ملک کے حکمرانوں اورعوام کواورزیادہ طاقت عطافرماتاکہ وہ اجتماعیت کی سوچ کولے کرآگے بڑھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ترقی کرسکیں۔امریکہ والے دنیاکے تمام وسائل پرخواہاں ہیں ،یورپ والے تمام دنیاکی تجارت پراپناکنٹرول چاہتے ہیں جبکہ چینی بہت جلدBipolar worldدیکھناچاہتے ہیں آخرمیں خدانے پاکستانی لوگوں سے پوچھاکہ آپ بھی کچھ بولیں تووہ بولے کہ ہم صرف اورصرف ایک ہی چیزچاہتے ہیں اوروہ ہے کہ پاکستان کواسکے 18کروڑپاکستانی عوام کاپاکستان بنادیاجائے ناکہ چندوڈیروں،جاگیرداروں ،سول وعسکری اسٹیبلشمنٹ اوربیوروکریٹس کا!بانی پاکستان کے پاکستان میں آج چندخاندانوں کی حکومت ہے جہاںDemocracyکچھ اس طرح سے چل رہی ہے کہ "Democracy in Pakistan is a Govt. of the people, bye the people and far the people”غریب میلوںکاسفرطے کرکے روٹی تک نہیں کماپارہااوردوسری طرف امیرجوامیرترہوتے جارہے ہیں وہ میلوں سفرکرکے اپنی روٹی ہضم نہیں کرپارہے۔یہ سب کچھ سننے کے بعدمیں نے باباجی سے دریافت کیاکہ آخراس بیماری کاکوئی حل توہوگاجس پروہ بولے کہ ہاں ہیں بالکل ہے مگرشرط یہ ہے کہ نیک نیتی سے کام کیاجائے گویاکہ نبی کریم(ص) کی حدیث پاک ہے کہ’’ اعمال کادارومدارنیتوں پرہے ‘‘والی بات ہے ۔اب بزرگ کے حل ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ اقتداراعلیٰ کامالک صرف اورصرف اللہ تعالیٰ ہے اورپاکستان کے لوگ اس کوایک مقدس امانت کے طورپراپنے منتخب نمائندوںکے ذریعے استعمال کرتے ہیں یعنی وہ ایوانوں میں اپنے ہی جیسے لوگوں کوبھیجیں نہ کہ گیلانیوں،ہوتیوں،رئیسانیوں،چوہدریوںاورشیرپائووغیرہ کو۔
2۔ پاکستانیوں کوDemocratic Mindedبناناہوگاجس کے لئے تعلیم نہایت ضروری ہے۔انکویہ سمجھاناہوگاکہ بُری سے بُری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی آمریت سے بہترہے انکوپتہ ہوناچاہئے کہ تمام قومی سانحات جیسے کہ 1965کی جنگ 1971کی جنگ جہادافغانستان﴿1979-1982﴾ 1999اور9/11وغیرہ سب کے سب آمریت ہی کی دین ہے جبکہ 1973کادستورNFC Award،18ہویں ترمیم،اورآغازحقوق بلوچستان پیکج وغیرہ سب سیاسی اورعوامی حکومتوں کے کارنامے ہیں۔
3۔ دستورپاکستان کے آرٹیکل 218کوزیادہ سے زیادہ موثربنایاجائے کہ یہ ادارہ without fear and favourکام کرے کسی کی بھی نامانے بس Rule of lawہو۔گزشتہ انتخابات میں ووٹرٹرن آئوٹ48%رہاتھااوراس سے پچھلے میں اس سے بھی کم۔جبکہ اس کوکم ازکم 85%پرلاناہوگا۔Quick voter registration or same day registrationکے عمل کوموثرتربناناہوگا۔
4۔ سیاسی جماعتوںکوچندافرادکی گرفت سے نجات دلاناہوگی Dynasitc Political party systemکی بجائے اوپرسے لیکرنیچے تک مسلسل انتخابات مکمل Meritکی بنیادپرہوناچاہئے۔محترم حسن عسکری رضوی اپنی ایک کتاب میں فرماتے ہیں کہ پاکستان میں Personalization of politicsہے اس کوPolitics of Popular Welfareمیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
5۔ پاکستان کوسیاسی،عسکری،معاشی اورمعاشرتی وڈیروں سے پاک کرناہوگایعنی کہFeudalism Freeسوسائٹی۔جوکام بھارت نے بہت جلدشروع کردیاتھاہم آج تک نہیں کرپائے۔انہوںنے Political High upsکوختم کیازمین غریبوں میں تقسیم کی اورملک کے وسائل کوبرابری کی سطح پرتمام بھارتیوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ایساہی ہم کواپنے پیارے وطن عزیزمیں بھی کرنے کی اشدضرورت ہے۔محترم اشفاق احمداپنی کتاب زاویہ میں فرماتے ہیں کہ پاکستان حضرت صالح (ع) کی اونٹنی کی طرح ہے جس کوہم نے بڑی جدوجہدسے حاصل کیاتھاجیسے خدانے قوم صالح پراونٹنی کے ساتھ ظلم کرنے پرعذاب نازل کیاتھاویسے ہی اگرہم نے بھی اس پاکستان کی حفاظت نہ کی خلق خداکی آوازنہ سنی توخاکم بدھم ہمارابھی انجام ویساہوسکتاہے۔
6۔ حکمرانوں کویہ باورکرواناہوگاکہ وہ صرف اورصرف عوام کوجواب دہ ہیں اوروہ بھی دوہری ذمہ داری کے ساتھ ایک عوام کے سامنے اوردوسرا خداکے حضورقیامت کے روز۔لہذاسب سے بڑی طاقت عوام کی ہے اورکسی کی نہیں۔آج ریلوے ،پی آئی اے اورواپڈکے ادارے تباہ وبربادہورہے ہیں وجہ وہی کہ حکمران عوام کی عدالت میں پیش نہیں ہوسکے اورنہ ہی ان کوابھی تک عوام کی عدالت میں پیش کرنے کی روایت قائم ہوئی ہے۔سکندراعظم نے ساری دنیافتح کی ۔قارون تمام دنیاکی دولت پرقابض تھالیکن یہ سب بیکارگیا!کاش کہ انہوں نے عوامی کام کئے ہوتے آج دنیاہٹلراورہلاکوخان کوکس طرح یادکرتی ہے سب پرواضح ہے۔خداقرآن کریم میں یہ ارشادفرماتاہے کہ ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کاقتل اورایک انسان کی جان بچاناپوری انسانیت کوبچانے کے مترادف ہے۔
7۔ Robert Browningنے تیسری دنیاکے متعلق بہت ہی دلچسپ بات کہی تھی کہ ان ممالک میں Political Immaturity, Institutional Instability and Economic in securityبکثرت پائی جاتی ہے آج یہ سب کچھ پاکستان میں موجودہے۔سیاست میں کوئی بھی بڑانام نہیں جوعوام کو Deliverکرسکے ۔قائداعظم کیPMLپتہ نہیں کیاسے کیابن گئی ہے اورقائدعوام کی PPPبھی اپنی اصل شکل میں موجودنہیں ہے یہاں مختلف ٹولے بن گئے ہیں نہیں جوہے تووہ ہے پاکستانی عوام کی فلاح کاٹولہ ۔ادھراداروں کودیکھاجائے توکوئی بھی ادارہ رشوت اوربددیانتی سے پاک نہیں ،ہیراپھیری کابازارگرم ہے ایماندارلوگوں کااس میں عمل دخل آٹے میں نمک کے برابرہے۔پاکستان کی معیشت کاحال تو بس سبحان اللہ!اب ہمارامقابلہ صومالیہ اورایتھوپیاسے کیاجارہاہے آج ہم دہشت گردی کے چنگل میں گرفتارہیں اس war on Terrorکے فوائداورنقصانات میں زمین وآسمان کافرق ہے۔اداروں کو دستورکی متعین شدہ حدودمیں کام کرناہوگااورمعیشت کو ٹھوس اورجامع بنیادوں پراستوارکرنے کی ضرور ت ہے کیونکہ ہمارے پیارے نبی(ص) کاارشادپاک ہے کہ قریب ہے کہ غربت تم کوکفرتک پہنچادے۔بیٹایادرکھوAccountability is the mother and transparency is the father of democracyاورDiscreation – Accountability = Corruptionاورہاں اگرچندمسلمان محمدعلی جناح کی قیادت میں پاکستان کوبے پناہ مسائل اورمشکلات کے باوجودحاصل کرسکتے تھے توہم توآج ایٹمی طاقت ہیں،قدرتی وسائل سے مالامال ہیں ہماری نوجوان نسل آبادی کا63%حصہ ہے!میں اس بزرگ کی باتیں بڑے غورسے سنتارہامیں نے کہ آپ بالکل صحیح فرمارہے ہیں مگرwho will bell the catوالی بات ہے توانہوں نے کہاکہ یادرکھوvoice of people is voice of God۔پاکستان کے لوگ اگرخداکے کلام پاک جوکہ تھیوری ہے اورمحمد(ص) کی حدیث اورسنت جوکہ اس کاپریکٹیکل ہے کوسچے دل سے اپناتے ہوئے اس پرعمل کریں توپھرکیاکچھ نہیں ہوسکتا۔ماضی میں جتنے بھی انقلابات آئے ۔جیساکہ انقلاب برطانیہ،انقلاب فرانس،انقلاب روس اورانقلاب ایران ان میں عوام ہی کی طاقت شامل تھی نہ کہ کسی ایک گروہ یاجماعت کی۔اب پاکستانی عوام کواپنے حقوق کے تحفظ کیلئے قانونی اوردستوری راستے تلاش کرناہونگے تاکہ وہ دوسرے ممالک کے شانہ بشانہ ترقی کرسکے۔﴿پی ایل آئی﴾،آخرمیں اس اللہ والے کی ایک نظم بھی ملاحظہ فرمائیں۔
اے وطن تیری تصویر
اے وطن تیری تصویربنائوں توبنائوں کیسے؟
تجھے فطرت کی نگاہوں سے چرائوں کیسے؟
مانگنے کوتوستاروں کی ضیائ کومانگوں!
کتنااچھاہے اگردست خداکومانگوں!
اپنی خوددارمحبت کوجھکائوں کیسے
اے وطن تیری تصویر۔۔۔۔۔۔
دیکھتاہوں میں نظاروں کی سوالی نظریں!
کتنی بیتاب بہاروں کی جمالی نظریں!
تیری رنگت میں رقیبوں کوملائوں کیسے!
اے وطن تیری تصویر۔۔۔۔۔۔
کتنی وابستہ تمنائوں کادل توڑاہے!
کتنی دانستہ وفائوں کوبھلاچھوڑاہے!
تیری تصویرکابدل دنیامیں کیسے پائوں کیسے؟
اے وطن تیری تصویر

یہ بھی پڑھیں  سیاست ،سیاست ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker